وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت سالانہ ترقیاتی پروگرام پر پیشرفت کا جائزہ لینے کے لئے اجلاسوں کا سلسلہ جاری

منگل کے روز ہونے والے سات گھنٹے طویل اجلاس میں مختلف محکموں کے جاری سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا ۔ ان محکموں میں اعلیٰ تعلیم، صحت، لائیو اسٹاک، زراعت، ریونیو اور مواصلات و تعمیرات شامل ہیں۔ متعلقہ کابینہ اراکین، ایڈیشنل چیف سیکرٹری منصوبہ بندی، متعلقہ انتظامی سیکرٹریز اور دیگر حکام کی شرکت۔ متعلقہ انتظامی سیکرٹریز کی طرف سے اپنے محکموں کے جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کے بارے بریفنگ دی۔اجلاس میں نئے مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کے لئے مجوزہ منصوبوں پر بھی غوروخوص کیا گیا ۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو رواں مالی سال کے آخر تک جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا مقررہ ہدف کا حصول یقینی بنانے کی ہدایت کی۔وزیر اعلٰی علی امین گنڈاپور نے کہا کہ کام کے معیار پر سمجھوتہ کئے بغیر ترقیاتی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل یقینی بنائی جائے، مالی سال کے آخر تک ترقیاتی منصوبوں کے لئے جاری کردہ فنڈز کے سو فیصد استعمال کو یقینی بنایا جائے، اگلے بجٹ میں جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کو پہلی ترجیح دی جائے، جن منصوبوں پر 80 فیصد یا اس سے زیادہ پیشرفت ہو چکی ہے انہیں فوری طور پر مکمل کیا جائے۔ نئے ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کے لئے وسیع عوامی مفاد کے ایسے منصوبے تجویز کئے جائیں جو دور رس اثرات کے حامل ہوں، ترقیاتی فنڈ عوام کے ٹیکس کا پیسہ ہے اس کا دانشمندانہ استعمال یقینی بنانا یے، ترقیاتی فنڈز صرف ان منصوبوں پر خرچ کئے جائیں گے جن کا براہ راست فائدہ عوام کو پہنچتا ہو۔فوڈ سکیورٹی نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کا ایک سنگین مسئلہ ہے، اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے بروقت اور سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے، لائیو اسٹاک کا شعبہ اس سلسلے میں اہمیت کا حامل ہے جو غذائی خود کفالت میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، لائیو اسٹاک کے شعبے کی استعداد سے بھر پور استفادہ حاصل کرنے کے لئے اس شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے ضرورت ہے۔اگلے ترقیاتی پروگرام کے لئے لائیو اسٹاک کے شعبے کے ایسے منصوبے تجویز کئے جائیں جو پیداوار کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے لئے روزگا کے مواقع بھی پیدا کرسکیں، صوبے میں زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں بہت زیادہ پوٹنشیلز موجود ہیں ان سے بھر پور انداز میں استفادہ کرنے کے لئے مربوط حکمت عملی کے تحت اقدامات کئے جائیں۔زراعت کے شعبے میں ٹنل فارمنگ، اور ورٹیکل فارمنگ جیسے جدید طریقے متعارف کروائے جائیں، زراعت کے شعبے میں جدید تحقیق کے فروغ اور آبی وسائل کے تحفظ کے لئے اقدامات کئے جائیں، ٹھوس اور حقائق پر مبنی اعدادوشمار کی دستیابی کے لئے دیگر شعبوں کی طرح لائیو اسٹاک اور زراعت کے شعبوں میں بھی ڈیجیٹائزیشن کا عمل شروع کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے روڈ سیکٹر میں تکمیل کے قریب تمام اسکیموں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ نئے ترقیاتی پروگرام کی تیاری کے لئے منتخب عوامی نمائندوں سے مشاورت کر رہے ہیں، مقامی نمائندے عوام کی ضروریات سے آگاہ ہیں، عوامی ضرورت کی بنیاد پر اگلے ترقیاتی پروگرام میں نئی اسکیمیں شامل کریں گے۔ صحت اور تعلیم ہماری حکومت کے ترجیحی شعبے ہیں، اگلے بجٹ میں ان شعبوں پر زیادہ سرمایہ کاری کریں گے. پہلے سے قائم صحت مراکز خصوصاً دور افتادہ علاقوں کے مراکز میں سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جائے گی. تعلیمی اداروں میں ناپید سہولیات کی فراہمی کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں گے، صوبے میں ریونیو ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن اور سروس ڈیلیوری سنٹرز کے منصوبوں پر کام تیز کیا جائے۔

جواب دیں

Back to top button