وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے کہا ہے کہ ہم نے بجٹ صرف اس لیے منظور کیا تاکہ ایک آئینی بحران سے بچایا جا سکے۔ لیکن جو سازش کی گئی تھی، وہ ناکام ہو گئی۔ اب ہمارا مؤقف واضح ہے جب تک عمران خان سے ملاقات نہیں ہوتی، ہم صرف بنیادی اور لازمی امور جیسے تنخواہیں، پنشن اور دیگر ضروریات تک محدود رہیں گے۔ باقی تمام اہم فیصلے عمران خان کی مشاورت کے بغیر نہیں ہوں گے۔

میں کھل کر کہہ رہا ہوں کہ جیسے ہی آئی ایم ایف کے ساتھ اگلا معاہدہ آئے گا، ہمارا مؤقف وہی ہوگا جو آج کررہے ہیں۔ ہمیں کوئی پھر یہ نہ سمجھائے کہ ہم پاکستان کے لیئے یہ اقدام اٹھائے۔ پاکستان
کا ٹھیکہ صرف ہم نے نہیں اٹھایا۔ ہم پر ظلم، جبر، جھوٹی ایف آئی آرز ہیں، ہمارے قائد اور ان کی بیوی کو بیگناہ قید کیا ہوا ہے، ہمارے ورکرز کی گرفتاریاں، یہ سب کچھ ہمیں سہنا پڑ رہا ہے۔ہم اپنا آئینی، سیاسی اور اخلاقی حق محفوظ رکھتے ہیں کہ آئندہ فیصلے ہم اپنے حالات، اپنے صوبے اور اپنے قائد کے مشورے سے کریں گے۔میں پہلے ہی واضح کر چکا ہوں کہ ہم نے تمام فنانشل میٹنگز کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ عمران خان نے کہا تھا کہ ملاقات کروائی جائے، وہ نہیں کرائی جا رہی۔ ہم نے کوئی خلاف ورزی نہیں کی، لیکن اگر یہی طرز عمل رہا تو ہم بھی سخت فیصلے کریں گے۔میں یہاں صاف اعلان کر رہا ہوں کہ آئندہ معاشی فیصلے میں شمولیت صرف اور صرف عمران خان صاحب کے واضح، تحریری اور باضابطہ بیان سے مشروط ہو گی۔






