*ستھرا پنجاب پروگرام ماہانہ کروڑوں کا فراڈ،آؤٹ سورس کمپنیز ای او بی آئی اور سوشل سیکورٹی کی ادائیگی میں کرپشن کر رہی ہیں*

ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت صفائی کا نظام تحصیلوں کی سطع پر آؤٹ سورس کیا گیا ہے۔جن کمپنیز کوآؤٹ سورس کیا گیا ہے ۔بیشتر کمپنیاں 60 فیصد سے زائد ملازمین کم ظاہر کر کےسوشل سیکورٹی اور ای او بی آئی ادائیگی میں فراڈ کر رہی ہیں جس میں متعلقہ ادارے اور افسران کی ملی بھگت شامل ہے۔حکومتی اداروں سے ملکر سرکاری خزانے کو ماہانہ کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا جارہا ہے اور ملازمین کا حق بھی مارا جا رہا ہے۔کمپنیز رجسٹرڈ اور کم از کم لازم ملازمین رجسٹریشن کی کنٹری بیوشن وصول کی جا رہی ہے کمپنی میں کل ملازمین اگر ایک ہزار ہیں تو سودے بازی سے صرف سو دو سو ملازمین کی کنٹری بیوشن وصول کرتے ہیں اور ریٹائرڈ بزرگ ملازمین کو قانون ھذا کے فوائد بڑھاپا پینشن کے اجراء سے انکار ادارہ EOBI نے وطیرہ بنا لیا ہے۔ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن اس فراڈ پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہا ہے۔سوشل سیکورٹی کے حکام بھی لاپروائی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔مختلف اضلاع سے ملنے والی تفصیلات کے مطابق ادارہ کو قانون ھذا کے فوائد بڑھاپا پینشن کی اجراء کیا جانا لازم قانونی واجب الامر ہے ۔ادارہ EOBI اس جرم کا مرتکب ہو رہا ہے۔پنجاب کے ڈپٹی کمشنرز کی نشاندہی کی صورت میں فراڈ میں ملوث آؤٹ سورس کمپنیز کے خلاف کارروائی ممکن ہے اور ستھرا پنجاب پروگرام کرپشن کی نذر ہونے سے بچ سکتا ہے۔جس کے لئے وزیر اعلٰی پنجاب اور وزیر بلدیات کو بھی نوٹس لینا ہوگا۔

یہ بات اہم ہے کہ حکومت ایچ آر کی مد میں دونوں ٹیکسوں کے لئے ٹھیکیداروں کو باقادگی سےادائیگی کر رہی ہے۔اس لئے ضروری ہے کمپنیز سے جو لوگ رجسٹرڈ نہیں ان سے پیسے نکلوائے جائیں۔

جواب دیں

Back to top button