زرعی اراضی کا غیرضروری کمرشل استعمال ریگولرائز کرنے کی تجاویز پر غور،کمرشل منصوبوں کے ماسٹر پلان کو مانیٹر کرنے کیلئے نیا قانون بنائیں گے، ذیشان رفیق

وزیراعلٰی پنجاب مریم نواز شریف کی تشکیل کردہ خصوصی کمیٹی کا اجلاس کنوینر وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیرصدارت سول سیکرٹریٹ میں ہوا۔ اجلاس میں شریک کنوینر، وزیر زراعت سید عاشق حسین کرمانی، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں، سیکرٹری قانون آصف بلال لودھی، سپیشل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ آسیہ گل اور رئیل اسٹیٹ بزنس کے اداروں کی ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کے دوران زرعی اراضی کا غیرضروری کمرشل استعمال ریگولرائز کرنے کی تجاویز پر غور کیا گیا۔ رئیل اسٹیٹ ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے کمیٹی کے سامنے اپنی آرا پیش کیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا کہ وزیراعلی مریم نواز شریف چاہتی ہیں کہ تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ٹھوس اور دیرپا پالیسی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی اراضی کو بغیر پلاننگ کمرشل بنانے سے ماحولیات کو بھی خطرہ ہے۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ منظوری کے بغیر رہائشی منصوبوں کو ریگولرائز کرنا ضروری ہے۔ کمرشل منصوبوں کے ماسٹر پلان کو مانیٹر کرنے کیلئے نیا قانون بنائیں گے۔ مجوزہ قانون کے تحت ایک ہی پلیٹ فارم سے سب معاملات مانیٹر ہونگے۔

رئیل اسٹیٹ کے نمائندوں نے کمیٹی کے ایجنڈے سے اتفاق کرتے ہوئے تعاون کا یقین دلایا تاہم یہ درخواست کی کہ حتمی فیصلے سے پہلے مزید مشاورت ہونی چاہیئے۔

وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ بزنس سے بہت زیادہ لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ سرمایہ کاروں کے سرمائے کا تحفظ بھی یقینی بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ غیرقانونی سکیموں کو ریگولرائز نہ کرنے سے عوامی مفاد کو نقصان ہوتا ہے۔ اس حوالے سے اقدامات یقینی بنائیں گے اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے کی تجاویز بھی مدنظر رکھی جائیں گی۔ اس موقع پر وزیر زراعت سید عاشق حسین کرمانی نے کہا کہ ایک سے زیادہ اداروں کے پاس اختیارات کے باعث پیچیدگی پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کا مقصد عوام کے مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ سید عاشق کرمانی نے کہا کہ کم رقبے پر ہائی رائز بلڈنگز بنانے کے رواج کو فروغ دینا ہوگا تاکہ کم سے کم اراضی میں زیادہ آبادی کی ضرورت پوری ہوسکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فوڈ سکیورٹی کے لئے قبل از وقت اقدامات اٹھانا ضروری ہے۔ اسی لئے وزیراعلی نے یہ کمیٹی تشکیل دی۔

جواب دیں

Back to top button