وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت آئندہ مالی سال 26-2025 کے بجٹ تجاویز پر غور کیلئے ایک اعلیٰ سطحی کابینہ اجلاس

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے آئندہ مالی سال 26-2025 کے بجٹ تجاویز پر غور کیلئے ایک اعلیٰ سطحی کابینہ اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد کیا جس میں وزراء، مشیران، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ اور متعلقہ سیکریٹریز شریک تھے۔ اجلاس میں حکومت کی ترقی، غربت کے خاتمے اور پائیدار ترقی کے عزم کو اجاگر کیا گیا جو پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایات کے مطابق ہے۔ اجلاس کے آغاز میں مراد شاہ نے کہا کہ "میں چاہتا ہوں کہ کابینہ کے تمام اراکین بجٹ کی تیاری میں بھرپور حصہ لیں تاکہ یہ بجٹ عوام کی اصل ضروریات کو پورا کر سکے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں ہم نے ہر ضلع سے تجاویز اکٹھی کی ہیں تاکہ یہ بجٹ نمائندہ اور مؤثر ہو۔” وزیراعلیٰ سندھ نے نئے بجٹ کے اہم شعبوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس میں پانی کی فراہمی اور نکاسی آب، شمسی توانائی کے نظام میں توسیع، تعلیم، صحت، زراعت، اور صنعتی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ "سال 2024-25 میں ہم نے کوئی نئی اسکیمیں شروع نہیں کیں کیونکہ ہماری ترجیح جاری منصوبوں کی تکمیل ہے۔” وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ آئندہ بجٹ میں چیئرمین بلاول بھٹو کی ہدایت پر عوام کو حقیقی فائدے پہنچانے والی نئی اسکیمیں شروع کی جائیں گی۔ اجلاس میں زیر بحث اہم باتوں میں سیلاب سے متاثرہ کمیونٹیز کی بحالی کی کوششیں جاری رکھنا، اسکولوں اور اسپتالوں کی مرمت، بنیادی ڈھانچے اور خدمات کو بہتر بنانے کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس کے ذریعے نئے میگا پروجیکٹس کا آغاز، غربت کے خاتمے کے لئے سماجی تحفظ کے پروگراموں کو مضبوط کرنا، مرمت اور دیکھ بھال کے لئے بجٹ میں اضافہ، اسپتالوں کے آلات کو اپ گریڈ کرنا اور کراچی میں شہری ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانے کیلئے ٹرانسپورٹ منصوبوں کی تکمیل شامل ہیں۔ کابینہ کے اراکین کی جانب سے دی گئی تجاویز میں غیر ترقیاتی اخراجات کو کم کرنا اور مقامی حکومتوں کو مالی طور پر خودمختار بنانے کے اقدامات، سماجی بہبود کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے ترغیبات کے ساتھ ڈیجیٹل کیش ٹرانسفرز کا آغاز، صوبے بھر میں ٹھوس فضلہ کے انتظام اور شمسی توانائی کے نظام کو وسعت دینا اور عوامی ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اضلاع میں نئے بس اڈے تعمیر کرنا شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے وفاقی-صوبائی روابط کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ "ہم بجٹ کو وفاقی حکومت کی فنڈنگ (صوبے کے حصے) اور اپنے صوبائی محصولات کے اہداف کی بنیاد پر حتمی شکل دیں گے تاکہ مالیاتی ذمہ داری اور مؤثریت کو یقینی بنایا جا سکے۔” وزیراعلیٰ سندھ کہا کہ عید کے بعد مزید اجلاس منعقد ہوں گے تاکہ بجٹ تجاویز کو حتمی شکل دی جا سکے اور منظور کیا جا سکے۔ ہمارا مقصد ایسا بجٹ پیش کرنا ہے جو شفاف، ترقی پسند، اور ہر سندھ کے شہری کی زندگی بہتر بنانے پر مرکوز ہو۔ یہ فعال حکمت عملی آئندہ مالی سال میں سندھ کی پائیدار ترقی، سماجی انصاف، اور مؤثر حکمرانی کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button