لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن پر اجلاس،مراد علی شاہ کی ای میوٹیشن سسٹم کو ای رجسٹریشن سسٹم سے منسلک کرنے کی ہدایت

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے لینڈ ایڈمنسٹریشن اینڈ ریونیو مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ایل اے آر ایم آئی ایس) کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے بورڈ آف ریونیو کو ہدایت کی کہ ای میوٹیشن سسٹم کو ای رجسٹریشن سسٹم کے ساتھ منسلک کیا جائے اور ای ٹرانسفر سسٹم پر پیش رفت کو تیز کیا جائے تاکہ سروس کی فراہمی کو بہتر بنایا جا سکے۔یہ اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری وزیراعلیٰ آغا واصف، کمشنر کراچی حسن نقوی، سیکریٹری بلدیات وسیم شمشاد، بورڈ آف ریونیو کے ارکان عمر فاروق بلو، سلیم بلوچ اور سیکریٹری و ڈائریکٹر ایل اے آر ایم آئی ایس سیف اللہ ابڑو سمیت دیگر حکام شریک ہوئے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایل اے آر ایم آئی ایس کا قیام شہریوں کو پورے صوبے میں زمین کے ریکارڈ اور متعلقہ خدمات تک کمپیوٹرائزڈ رسائی فراہم کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ ضلع ہیڈکوارٹرز میں قائم 27 پیپلز سروس سینٹرز اور بورڈ آف ریونیو کی آفیشل ویب سائٹ کے ذریعے ایک جامع آن لائن پلیٹ فارم کی مدد سے شہریوں کو زمین سے متعلق اہم معلومات تک آسان رسائی فراہم کی جا رہی ہے۔بریفنگ کے دوران وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر روزمرہ کے امور کو سپورٹ کر رہا ہے جبکہ ریونیو ہاؤس کلفٹن، کراچی میں واقع جدید ڈیٹا سینٹر کمپیوٹرائزڈ زمین کے ریکارڈ کا مرکزی ذخیرہ ہے۔ اس کے علاوہ حیدرآباد میں ایک ڈیزاسٹر ریکوری سینٹر (ڈی آر سی) ہنگامی صورتحال میں سروس کے تسلسل کو یقینی بناتا ہے۔ڈیجیٹائزیشن کا عمل 2010 میں پرانے ریکارڈز (1985 تا 2010) کی اسکیننگ سے شروع ہوا جس کے تحت تمام مختیارکار دفاتر سے حاصل کردہ فارم 2 اور فارم 7اے اور 7بی کو محفوظ کیا گیا۔ 2010 کے بعد کے ریکارڈز کی مسلسل اسکیننگ اور انڈیکسنگ حیدرآباد میں واقع صوبائی ریکارڈ سینٹر (پی آر سی) میں کی جا رہی ہے جس سے عوام کو مربوط نیٹ ورکس کے ذریعے مسلسل رسائی حاصل ہے۔ ایل اے آر ایم آئی ایس نے اپنی صلاحیتوں کو مزید وسعت دی ہے اور اب سرکاری دفاتر اور قانونی اداروں کو زمین کے عنوان کی تصدیق کے لیے ڈیجیٹل رسائی فراہم کی جا رہی ہے۔یہ قابل ذکر ہے کہ پیپلز سروس سینٹرز پر ای رجسٹریشن سروسز کے آغاز سے سروس کی فراہمی میں بہتری آئی ہے اور اب ای میوٹیشن سسٹم کے انضمام کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔فروری 2024 میں شروع ہونے والا ای رجسٹریشن سسٹم اس وقت 51 سب رجسٹرار دفاتر میں کام کر رہا ہے جو پیپلز سروس سینٹرز کے ذریعے رجسٹریشن سروسز فراہم کرتا ہے۔ جولائی 2025 تک اس جدید نظام کے ذریعے 100,000 سے زائد دستاویزات اور معاہدے کامیابی سے رجسٹر کیے جا چکے ہیں۔مزید یہ کہ بورڈ آف ریونیو سندھ، سکھر آئی بی اے یونیورسٹی کے ساتھ مل کر “ای ٹرانسفر آف پراپرٹی سسٹم” پر کام کر رہا ہے جس کا مقصد بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے ریونیو ریکارڈز کو محفوظ بنانا ہے تاکہ جائیداد کی منتقلی کے عمل کو مزید آسان اور صارف دوست بنایا جا سکے۔

جواب دیں

Back to top button