پشاور(بلدیات ٹائمز) حکومت کی ناک کے نیچے آئین و قانون کی دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ بلدیاتی اداروں کے نااہل آفسران ملازمین کو کئی کئی ماہ سے تنخواہیں اور پنشنرز کو پنشن کی ادائیگی کا بندوبست تو کر نہیں سکتے تو ملازمین کی یونینز کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کی آواز کو دبانے کےلئے ملازمین اور یونین عہدیداروں پر حراساں کرنے اور دباؤ ڈالنے کے غیر آئینی ، غیر قانونی اور غیر مجازانہ اقدامات اٹھا کر ملازمین اور پنشنرز کو تنخواہوں اور پنشن کی بجائے مزید پریشانی اور بھوک و افلاس کی دلدل میں دھکیل رہے ہیں۔ حکومت نے قانون و آئین کے مطابق بلدیاتی اداروں کے ملازمین کو یونین سازی کی اجازت دے رکھی ہے جب کہ بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز کی آواز کو دبانے کےلئے حکومتی حرکارے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر بلدیاتی ملازمین کی یونین کو پریشرائز کرنے کے کبھی ریلیو کرنے، کہیں شوکاز نوٹسز کا اجراء اور کہیں ٹرانسفر ، ایڈجسٹمنٹ کی تحریری دھمکیوں کے ساتھ ساتھ نوکریوں سے نکالنے کے اشارے بھی دئے جا رہے ہیں۔ لوکل گورنمنٹ ایمپلائز رجسٹرڈ خیبرپختونخوا کے عہدیداران سرپرست اعلیٰ شوکت کیانی، چیئرمین محبوب اللہ، صدر حاجی انور کمال خان مروت، جنرل سیکریٹری سلیمان خان ہوتی ، ڈیرہ اسماعیل خان سے قیصر کامران اور بلال خان ، ٹانک سے سعید گل، بنوں سے حافظ کریم داد ، کرک سے اعظم خان اور بسم اللہ جان، لاچی سے بشیر باچہ، کوہاٹ سے سخی باچہ ، ہنگو سے آصف قدوس، ٹل سے کامران ظہیر اور دیگر رہنماؤں نے RMO کوہاٹ اور TMOs کرک اور ٹانک کے یونین رہنماؤں کو ریلیو کرنے اور یونین رھنماوں کو تنخواہوں اور پنشن مانگنے پر شوکاز نوٹسز جاری کرنے کے اقدامات کو غیر آئینی ، غیر قانونی اور ماورائے اختیار قرار دیکر ایسے تمام لیٹرز، نوٹسز اور ریلیو آرڈرز کو فوری طور پر واپس کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا ، وزیر بلدیات و دیہی ترقی خیبرپختونخوا ، سیکریٹری بلدیات و دیہی ترقی خیبرپختونخوا اور سیکریٹری لوکل کونسل بورڈ سے کمزور مالی پوزیشن والی TMAs کے ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہوں اور پنشن کے بقایاجات کی ادائیگی کےلئے خاطر خواہ گرانٹ کا بندوبست کرنے اور غیر قانونی، غیر آئینی اور ماورائے اختیار اقدام اٹھاکر ملازمین اور یونین عہدیداروں کو حراساں کرنے والے نااہل آفسران کو فوری طور پر عہدوں سے ھٹا کر بلدیاتی اداروں کو مالی لحاظ سے کمزور کرنے اور تنخواہوں اور پنشن کے عدم ادائیگی میں ملوث آفسران کے خلاف تادیبی کاروائی عمل میں لائی جا کر کرپشن کے مرتکب افسران کو اپنے کالے کرتوتوں کو چھپانے کے اقدام پر انجام تک پہنچایا جائے۔
Read Next
11 منٹس ago
محمد سہیل آفریدی نے پشاور رنگ روڈ کے ہزار خوانی انٹر سیکشن پر 6 لینز پر مشتمل اوور پاس منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھ دیا
3 گھنٹے ago
محرم الحرام کے دوران امن و امان کے لیے خیبرپختونخوا حکومت کے فول پروف انتظامات
1 دن ago
خیبرپختونخوا بجٹ 2026-27 میں محکمہ بلدیات کابجٹ 56 ارب سے بڑھا کر 90 ارب کر دیا گیا،کم از کم اجرت 45 ہزار مقرر
1 دن ago
سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لئے صرف سات فیصد مختص کرنا غریب ملازمین ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن خیبرپختونخوا
2 دن ago
خیبرپختونخوا میں ڈیجیٹل پولیسنگ کے نئے دور کا آغاز!
Related Articles
ترقیاتی ورکنگ پارٹی خیبرپختونخوا کے اجلاس میں 26 ارب روپے سے زائد مالیت کے 8 منصوبوں کی منظوری
2 دن ago
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے زیرِ صدارت ترقیاتی فنڈز کے استعمال کی صورتحال پر اہم اجلاس
3 دن ago
لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن خیبرپختونخوا نےبلدیاتی اداروں کے اڈہ جات کا کنٹرول لوکل ایریا اتھارٹیز کے حوالہ کرنے کے حکومتی فیصلہ کو غیر دانشمندانہ قرار دے دیا
3 دن ago


