وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کے زیر صدارت صوبے میں غیر فعال واٹر سپلائی سکیموں سے متعلق اجلاس منعقدہوا. وزیراعلیٰ نے "پینے کا صاف پانی سب کے لیے” کے وژن کے تحت غیر فعال سکیموں کو ہنگامی بنیادوں پر فعال بنانے کا فیصلہ کیا ۔ وزیراعلیٰ کی پہلے مرحلے میں 572 جاری آبنوشی سکیموں کو مکمل کر کے فعال بنانے کی بھی ہدایت، اس مقصد کے لیے درکار وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کیے جائیں گے، ان سکیموں کو رواں مالی سال کے اندر مکمل طور پر فعال بنایا جائے۔ وزیر اعلیٰ کی مزید 942 غیر فعال سکیموں کو فعال بنانے کیلیے بھی فوری طور پر نان اے ڈی پی سمری پیش کرنے کی ہدایت کی. منصوبے کے تحت تمام ریجنز میں غیر فعال سکیموں کو فعال بنانے پر کام شروع کیا جائے گا، منصوبے پر عمل درآمد کے لیے واضح اہداف، سکوپ آف ورک اور ٹائم لائنز پر مشتمل مکمل پلان پیش کیا جائے، علی امین گنڈاپور نے کہا کہ سکیموں پر پیش رفت کو باقاعدگی سے مانیٹر کیا جائے گا، کسی قسم کی بے ضابطگی یا تاخیر کی گنجائش نہیں، حکومت عوام کو صاف پانی کی فراہمی پر خطیر سرمایہ کاری کر رہی ہے، نتائج بھی اس کے مطابق ہونے چاہئیں۔سکیموں پر عمل درآمد میں شفافیت اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، تمام متعلقہ محکمے اپنی سکیموں کی بروقت اور معیاری تکمیل کے ذمہ دار ہوں گے۔وزیر اعلیٰ کی واٹر سپلائی سکیموں کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ کے لیے آن لائن سسٹم بھی جلد مکمل کرنے کی ہدایت

واٹر سپلائی سکیموں پر مامور اہلکاروں کو ذمہ داریوں کا پابند اور جوابدہ بنانا ناگزیر ہے، صوبے میں فعال واٹر سپلائی سکیموں کی مرمت کا بھی مستقل اور شفاف نظام وضع کیا جائے۔عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی حکومت کے ترجیحی اہداف میں شامل ہے، اگر ہم غیر فعال ٹیوب ویلز کو فعال کر لیں تو صوبے میں پانی کا کوئی مسئلہ نہیں رہے گا، اس مقصد کے لیے تمام ذمہ دار محکموں کو اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنا ہوں گی۔






