اندراج کے لیے قریبی تحصیل یا ضلع ہیڈکوارٹر اسپتال میں قائم نشوونما مراکز سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔حکومت پاکستان نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت کم آمدن افراد کے بچوں کی پیدائش کے حوالے سے امدادی رقم کااعلان کر دیا ، بیٹے کی پیدائش پر 2500، اور بیٹی کی پیدائش پر 3000 روپے ملیں گے ۔
پروگرام سے فائدہ اٹھانے کے لیے اہلیت کے تقاضے
اس سکیم میں شمولیت کے لیے ضروری ہے کہ خاتون بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی مستحق ہو اور ان میں سے کوئی ایک یا تمام شرائط پوری کرتی ہو
حاملہ خواتین
دودھ پلانے والی مائیں
ایسے بچے جن کی عمر 2 سال سے کم (یعنی 0 سے 23 ماہ تک) ہو
رجسٹریشن کا طریقہ:
اندراج کے لیے قریبی تحصیل یا ضلع ہیڈکوارٹر اسپتال میں قائم نشوونما مراکز سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ اوپر دی گئی شرائط پر پورا اترتی ہیں تو درج ذیل دستاویزات ہمراہ لے کر مرکز پہنچیں
نادرا سے جاری کردہ خواتین کا شناختی کارڈ
بچے کا ب فارم (نادرا کا جاری کردہ)
حفاظتی ٹیکوں کا کارڈ (EPI کارڈ)
مالی و غذائی معاونت پروگرام میں شامل خواتین کو درج ذیل مالی امداد فراہم کی جاتی ہے
دوران حمل ہر تین ماہ میں 2500 روپے
بچے کی پیدائش پر:
بیٹے کی صورت میں 2500 روپے
بیٹی کی صورت میں 3000 روپے (جس میں 500 روپے سفری اخراجات شامل ہیں)
یہ رقوم بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ، کفالت پروگرام سے دی جاتی ہیں۔ ساتھ ہی ماؤں اور بچوں کو خصوصی متوازن خوراک بھی دی جاتی ہے تاکہ ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما بہتر انداز میں ہو سکے۔2018 کے قومی غذائی سروے کے مطابق، پاکستان میں 5 سال سے کم عمر کے تقریباً 40 فیصد بچے غذائی کمی کا شکار ہیں، جس سے ان کی مکمل نشوونما ممکن نہیں ہو پاتی۔ اس کے علاوہ 18 فیصد بچوں کا وزن عمر کے لحاظ سے کم ہوتا ہے، جب کہ ماؤں میں بھی غذائیت کی شدید کمی پائی گئی ہے۔ماہرین کے مطابق بچے کی زندگی کے ابتدائی 1000 دن (حمل سے دو سال کی عمر تک) اُس کی نشوونما میں سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے اس عرصے کو بہتر بنانے کے لیے یہ پروگرام شروع کیا ہے






