حب ڈیم سے نئی کینال کا افتتاح 13 اگست کو کریں گے،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی پریس کانفرنس

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ شہر کراچی کے ساتھ میری سیاسی قیادت مخلص ہے اور ہم مل کر کام کررہے ہیں، حب ڈیم سے پانی کی سپلائی کے لئے 12.8 ارب روپے کی لاگت سے22.8کلو میٹر لمبی نئی کینال ہم نے بنا دی ہے جس سے کراچی کو 100ملین گیلن اضافی پانی ملے گا،اس کینال کا فائدہ مرتضیٰ وہاب، مراد علی شاہ اور بلاول بھٹو کو نہیں ہوگا بلکہ اس پانی کا فائدہ کراچی والوں کو ہوگا،

ہم نے اعلان کیا تھا 78 ویں یوم آزادی کو اس کا افتتاح کرینگے، انشاء اللہ 13 اگست کو حب ڈیم کی نئی کینال کا افتتاح کردیا جائے گا، جو کام 45 سالوں میں نہیں ہوا وہ آج بلاول بھٹو کے نمائندے کر رہے ہیں، کے فور کی آگمنٹیشن کا کام بھی ہم سندھ حکومت کی مدد سے کر رہے ہیں، کوائل جیسے ہی آئے گی عملی طور پر کام ہوتا نظر آئے گا، ہمیں اندازہ ہے، ہم چاہتے ہیں صنعتوں میں ٹریٹ شدہ پانی استعمال ہو، ٹریٹمنٹ پلانٹ پر بھی کام جاری ہے اور اس طرح بچنے والا میٹھا پانی صرف ہمارے شہری استعمال کرینگے جس سے شہر کو فراہمی آب کے عمل میں مزید فائدہ ہوگا، یہ وہی شہر ہے وہی لوگ ہیں بس قیادت تبدیل ہوئی، ہم وقت سے پہلے اپنے وعدے کو پورا کرنے جا رہے ہیں، ہمارا مقصد منفی اور بے بنیاد ی اور مفروضوں پر قائم خبروں کے تردید کرنا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے مرکزی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہو ئے کیا،اس موقع پر ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد، منیجنگ ڈائر یکٹر اسد اللہ خان، سٹی کونسل میں پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، جمن دروان، واٹر کارپوریشن اور کے ایم سی کے افسران بھی موجود تھے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ آخری بار کراچی شہر میں پانی کی سپلائی کو بہتر بنانے کے لیے بائیس سال قبل کام ہوا تھا، اس وقت اس شہر کی آبادی96 لاکھ تھی، مردم شماری بتاتی ہے اس شہر میں تین کروڑ کے قریب لوگ ہیں،ماضی میں شہر کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا مگر پانی کی ترسیل میں اضافہ نہیں کیا گیا، ساری توجہ کینجھرجھیل کے حوالے سے تھی، کتنے سالوں سے سن رہے ہیں کے فور آئے گا پانی لائے گا، 2005 میں کے فور منصوبے پرکام شروع ہوا، ہم نے اپنے منشور میں کہا تھا اختیارات کا رونا نہیں روئیں گے لہٰذا ہم نے حکومت سے گزارش کی کہ بارشوں کے بعدحب ڈیم بھرا ہوا ہے اس کے باوجود کراچی والوں کو پانی نہیں مل رہا تھا، ہم نے اس بات کی ضرورت محسوس کی کہ حب ڈیم سے یہ پانی شہر میں لایا جائے، آج سے 45 سال قبل حب کینال بنی،سو ایم جی ڈی کی یہ کینال ہے جسے سے 65 ایم جی ڈی شہر کو پانی ملتا تھا،ہم نے نئی کینال بنانے سے متعلق حکومت سے درخواست کی تاکہ شہر کو دو سو ایم جی ڈی پانی کی سپلائی کا انفر اسٹرکچر تیار ہو جائے،7/اگست 2025 کو22.8کلو میٹر لمبی نئی کینال ہم نے بنا دی ہے،ہمارے اس اقدام سے سینٹرل،کیماڑی اور منگھو پیر والوں کا فائدہ ہوگا، انہوں نے کہاکہ کینال کے کمرشل آپریشن سے قبل اس کی ٹیسٹنگ کی جاتی ہے، حب ڈیم پر زیرو پوائنٹ سے ایک کینال لسبیلہ اور ایک کراچی آ رہی ہے، نئی کینال پر پانی چل رہا ہے ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے جبکہ پرانی کینال پرکام چل رہا ہے جس کی مرمت کا کام دسمبر تک مکمل کرلیں گے، اس کینال کی تکمیل سے اورنگی، بلدیہ اور اتحاد ٹاؤن میں بسنے والے لوگوں کا مسئلہ حل ہونے جا رہا ہے، انہوں نے کہاکہ کراچی والوں سے ماضی میں 162 ارب اور گیارہ سو ارب کے وعدے کیے گئے مگر وفا نہیں ہوئے، اس کینال سے متعلق جانچ پڑتال کیے بغیر منفی پروپیگنڈا کیا گیا، ہم نے کنٹریکٹ میں ایک سال کی وارنٹی رکھی ہے، کو ئی بھی خرابی آئے تو کنٹریکٹر اس مسئلے کو حل کرے گا، کب تک منفی اور تفریق کی باتیں کریں گے، کوئی مثبت چیز اپنے شہر کے لیے کرتے ہیں تو پروپیگنڈہ شروع ہوجاتاہے، انہوں نے کہاکہ ہمیں اندازہ ہے صنعتیں اس ملک کو چلاتی ہیں، مزدوروں کو تنخواہیں اور ہمیں ٹیکس دیتی ہیں، یہ صنعتیں کہیں سب سوائل کہیں میٹھا پانی استعمال کرتی ہیں، ہم چاہتے ہیں صنعتوں میں ٹریٹ ہوا پانی استعمال ہو، اس وقت ٹریٹمنٹ پلانٹ پر بھی کام جاری ہے اور اس طرح بچنے والا میٹھا پانی صرف ہمارے شہری استعمال کرینگے، میئر کراچی نے کہاکہ میری سیاسی جماعت پیپلز پار ٹی اس شہر کے ساتھ مخلص ہے، مجھے میری قیادت نے سپورٹ نے کیا ہے اورہم بلا تفریق اس شہر میں ترقیاتی کام جاری رکھیں گے، مجھے خوشی ہوتی ہے شہر میں کام ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے،وسائل کو شہریوں پر خرچ کرینگے، یہ شہر اس ملک کا تجارتی معاشی کیپٹل ہے، اس ملک کا 54 فیصد ریونیو کراچی سے جاتا ہے، پانی مسائل کو حل کرنے کے لئے موجودہ قیادت سنجیدگی سے کام کررہی ہے،آج شہر بھر میں ترقیاتی کام جاری ہیں یہ شہر ہم سب کا ہے جو لوگ شہر کی بہتری کے لئے کام کر رہے ہیں ان کو سپورٹ کرنا چاہیے اور ساتھ ہی ساتھ شہر کو اون کرنے کی ضرورت ہے،ہم نے شاہراہ بھٹو بنائی اس سے لوگوں کو فائدہ ہو رہا ہے جن کا جو کام ہے ان کو کرنے دیا جائے ہماری کوشش ہے کہ ہر کام مقررہ وقت اور لاگت میں ہی مکمل ہوں،اضافی پانی کی فراہمی کے لئے واٹر کارپوریشن عملی طور پر کام کرتی نظر آرہی ہے، حب ڈیم سے نئی کینال بننے کے بعد شہر میں پانی کی تقسیم کا کام بھی احسن طریقے سے مکمل کیا جائے گا، یہ شہر ہمارا ہے اور ہماری ترجیحات میں شامل ہے میں پارٹی کے منشور پرکام کرتا ہوں،میں صحافیوں کو بھی شکر گزار ہوں کہ وہ مسلسل ہماری رہنمائی کرتے ہیں کراچی میں پارکنگ فیس کے مسئلے کو ہم نے ختم کردیا ہے،انہوں نے کہا کہ کریم آباد انڈر پاس کو 30ستمبر تک مکمل کر دیا جائے گا۔

جواب دیں

Back to top button