وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت ترجیحی ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اجلاس منعقد ہوا ۔ چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری پلاننگ و ڈویلپمنٹ اور متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اجلاس میں شریک ہوئے ۔ اجلاس میں رواں مال سال کے دوران مکمل کرنے کے لئے پبلک سروس ڈیلیوری کے اہم منصوبوں کی نشاندھی کی گئی. ان ترجیحی منصوبوں میں صحت، تعلیم، آبنوشی، مواصلات، آبپاشی، ریلیف اور دیگر شعبوں کے منصوبے شامل ہیں۔صوبائی کابینہ نے ان ترجیحی اور تکمیل کے قریب منصوبوں کی جلد تکمیل کے لیے 20 ارب روپے اضافی مختص کیے ہیں۔ ان ترقیاتی منصوبوں کے لئے اضافی فنڈز مختص کرنے کا مقصد ان کو جلد مکمل کرکے فعال بنانا ہے، یہ عوامی خدمات کی فراہمی کے فوری نوعیت کے منصوبے ہیں، ان کی بروقت تکمیل اہم ترجیح ہے تاکہ لوگوں کو سروس ڈیلیوری بلاتاخیر شروع ہو۔ علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ گذشتہ سال کے آخری 3 ماہ میں تکمیل کے قریب منصوبوں کو جو اضافی فنڈنگ ہوئی ہے اس کے خاطر خواہ نتائج سامنے آئے ہیں، رواں سال ابتداء ہی سے اس فارمولہ کہ تحت فنڈز ریلیز ہونگے تاکہ تکمیل کے قریب منصوبے رواں سال ہی مکمل ہو جائیں ، صوبائی حکومت تکمیل کی قریب منصوبوں کو فوری طور پر مکمل کرنا چاہتی ہے تاکہ سروس ڈیلیوری میں تاخیرنہ ہو۔

ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز کا دانشمندانہ استعمال اور ترقیاتی فنڈز کے استعمال میں ترجیحات کا تعین انتہائی اہم ہے، جن جن منصوبوں پر 80 فیصد کام ہو چکا ہے، انہیں بھرپور فنڈنگ کر کے جلد مکمل کیا جائے۔ ان منصوبوں کے لیے جو 20 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں انہیں جلد از جلد ریلیز کیا جائے۔متعلقہ انتظامی سیکرٹریز خود ان منصوبوں پر پیشرفت کی نگرانی کریں تاکہ ان کی بروقت تکمیل یقینی ہو۔






