کراچی(رپورٹ۔اسلم شاہ) اورنگی میں سرکاری سرپرستی میں گھناؤنے جرائم کا انکشاف ہوا ہے، پروجیکٹ ڈائریکٹر کے خالی عہدے کے دوران امتیاز بٹ کے 119 چالان، الاٹمنٹ، NOC کے جعلی ہونے کی تصدیق کے بعد منسوخ کر دی گئی۔ پروجیکٹ اورنگی کا نام نہاد مشیر خاص امتیاز بٹ نے پروجیکٹ ڈائریکٹر کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے 2 دسمبر سے 26 دسمبر 2024ء کے دوران جاری کرکے کروڑ روپے رشوت، کمیشن کے ساتھ کک بیک وصول کی گئی تھی اس واردات کے دوران سرکاری طور پر پروجیکٹ ڈائریکٹر کا عہدہ خالی تھا۔اس سلسلے میں مبینہ طور پر ملوث افسران و ملازمین کے خلاف چھان بین کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔ اس واردات میں کروڑوں روپے مالیت کا ST-5 سیکٹر 2 کھویا مارکیٹ کا 44 لاکھ روپے مالیت کا چالان بھی شامل ہے،جبکہ عدالتی حکم پر دو ملازمین کو شوکاز نوٹس،بدعنوانی میں ملوث ہونے پر تجازوات سیل کے ساتھ لیگل ڈپارٹمنٹ کے تمام عملے کو فارغ کرکے نئے عملے کی تعینات کرنے کی سفارش ارسال کردی گئی۔ سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر افاق مرزا کے دور میں کروڑوں روپے مالیت کی زمینوں کے بھیانک کھیل اور کاروبار کی تحقیقات ہونے کی توقع ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ میئر کراچی مرتضی وہاب کی ہدایت پر ڈائریکٹر پروجیکٹ اورنگی فیصل رضوی نے پروجیکٹ اورنگی کا ماسٹر پلان بنانے کے ساتھ ریکارڈز فائلیں،نقشہ جات سمیت دیگر تمام ضروری فائلیں دفتر اورنگی سے KMC بلڈنگ میں جلد منتقل کی جائے گی۔ ریکارڈز فائلوں کی منتقلی سے قبل ان کی ترتیب اور فہرست تیار کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ کچی آبادی KMC سے نقشہ جات سمیت اورنگی کے 92 کچی آبادیوں کا نقشہ جات کے لئے خط لکھ دیا گیا ہے۔ پلاٹس کی منتقلی، سب لیز سمیت دیگر کاموں کا ریکارڈز بھی کمپیوٹرائز کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ میئر کراچی نے پروجیکٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر آفاق مرزا کی تمام تر سفارشات کے باوجود تعیناتی سے انکار کرکے پروجیکٹ ڈائریکٹر ٹرمینل فیصل رضوی کو پروجیکٹ ڈائریکٹر اورنگی کا اضافی چارج دے دیا ہے، جبکہ آفاق مرزا مارچ 2025ء کو ملازمت سے ریٹائرڈ ہوجائیں گے۔ ان کی تعیناتی کیلیئے مبینہ طور پر پانچ کروڑ روپے تک پیشکش کی گئی تھی لیکن میئر کراچی نے تمام پیشکش ٹھکرا دی۔ قبل ازیں آفاق مرزا کی پروجیکٹ ڈائریکٹر تعیناتی 80 لاکھ روپے میں کی گئی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پروجیکٹ اورنگی کے 92 کچی آبادیوں کے رہائشی،تجارتی، رفاہی، فلاحی، کھیل کے میدان، پارکس، کمیونٹی سینٹر، صحت کے مراکز، ہسپتالوں،ندی نالوں،سڑکیں، قبرستان،سمیت دیگر اربوں روپے مالیت کے کمرشل پلاٹس الاٹ، ریگولرائزیشن،لیز کردی گئی ہے۔ اورنگی کا اصل ماسٹر پلان غائب ہے نقشہ جات، 60 فیصد ریکارڈ فائلیں غائب ہیں، فائلیں غائب ہونے کے باوجود ریگولرائزیشن، الاٹ، لیز سب لیز کا گھناؤنا کاروبار عرصہ دراز سے جاری ہے، چمک کی وجہ سے اوپر سے نیچے تک سب خاموش ہیں۔ قانون کے مطابق کمرشل پلاٹ کیلیئے سٹی کونسل میں نہ قرارداد پیش ہوئی نہ اسے نیلام کرکے الاٹ کی گئی، مبینہ طور پر عدالتی حکم پر ملازمت سے برطرف ہونے والے عقیل احمد، سابق دور میں سرکاری ریکارڈ پر نام اور دستخط کرنے والے منان قائم خانی سمیت دیگر افراد بھی سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر آفاق مرزا کی نگرانی میں کام کرتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ ایک طرف تو میئر کراچی اور پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت امتیاز بٹ اور اس کے گروہ کی وارداتوں اور کاموں پر خاموش ہیں، اپنی آنکھیں بند کی ہوئی ہیں جبکہ دوسری طرف اینٹی کرپشن، نیب کراچی سمیت دیگر تحقیقاتی اداروں نے چمک کے آگے مکمل خاموشی اختیارکی ہوئی ہے اور گونگی،بہری اور اندھی بنی ہوئی ہے۔ ان کے بارے میں اورنگی ٹاون کے شہری جانتے ہیں کہ وہ صرف قبضہ گروپ ہے، لینڈ مافیا کا کارندہ ہے اور ہر طرح کی جائز اور ناجائز دولت کمانا اس کا مشن ہے، جس کا اظہار وہ مختلف مواقع پر کرچکا ہے۔ اسی طرح پروجیکٹ ڈائریکٹر بشمول عملہ، بلدیہ عظمٰی کراچی، اورنگی ٹاون کے ساتھ، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی،ریونیو بورڈ اسسٹنٹ کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور سیاسی جماعتوں کے منتخب ارکان بھی اس گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔ لینڈ مافیا پہلے ہی زمینوں پر قبضہ کرکے اربوں روپے کے مالک بن چکے ہیں،تاہم سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر آفاق مرزا کے مشیر خاص(غیر سرکاری) امتیاز بٹ کا حکمنامہ منسوخ نہ ہوسکا۔وہ مبینہ طور پر اورنگی میں قبضہ ہونے والی تعمیرات، چاردیواری، بند دکانیں کے ساتھ مشکوک تعمیر ہونے والے گھروں میں نوٹس بھیج کر بھاری نذرانہ طلب کررہے ہیں۔ غیر قانونی گھر بنانے والے خاموشی سے نذرانے پیش کر دیتے ہیں، لیکن قانونی طور پر گھر بنانے والے بیشتر افراد نے شکایات درج کرائی ہے کہ ان کی زمین کے کاغذات چیک کرنے کے بہانے انہیں دھمکیاں دی جارہی ہیں، جبکہ لینڈ مافیا کے کارندے رانا گلزار تاج کی فیملی کے دو ارب روپے سے زائد مالیت کے پلاٹس جعلی کاغذات کی وجہ سے پھنس گئے ہیں۔ نیب کراچی سابق پروجیکٹ اورنگی میں ہونے والے گھناؤنے جرائم کی تحقیقات کررہی ہے۔ نیب کراچی کا مقدمہ نمبرNABK2017060994484/IW-I/CO-A/NAB Karachi/2020/2017 بتاریخ 6 اکتوبر 2023ء میں میونسپل کمشنر کراچی کے ذریعے پروجیکٹ ڈائریکٹر سے 49 رفاہی پلاٹوں پر الاٹمنٹ، لیز سب لیز اور ٹرانسفر ریکارڈز سمیت تمام ریکارڈز پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے جو جمع کردیا گیا ہے۔ رانا گلزار پانچ کروڑ روپے مالیت کے دو تجارتی پلاٹ بھی (پلاٹ نمبر SA-76 پلاٹ نمبر SA-77 سیکٹر 10-1 اورنگی ٹاون)اپنے نام کرتے ہوئے پکڑ گئے تھے جن پر جعلی دستخط موجود ہیں جو رضوان خان، راؤ شرافت اور ایس ایم جاوید کے ہیں جبکہ ایس ایم جاوید ملازمت سے معطل ہیں اس کے باوجود وہ کام کررہے ہیں لیکن قانونی طور پر معطلی کے دوران ان کے تمام دستخط اور کام غیر قانونی ہیں۔ اسی طرح لیگل ڈپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر ارشاد احمد بہاری نے لینڈ مافیا کے کارندوں کو جعلی NOC جاری کرکے کروڑوں روپے بٹور چکے ہیں۔ رانا گلزار کے سہولت کار میں راو شرافت بھی شامل ہیں۔ وہ ایک ارب روپے مالیت کے 21 پلاٹس کو جعلی کاغذات کے ذریعے الاٹ کرنے کے کھیل میں راناگلزار کے ساتھ شامل ہیں جس کی تصدیق کی جا چکی ہے جبکہ رضوان خان نے سرکاری عہدے کی طاقت کے نشے میں اپنی ریاست قائم کررکھی تھی۔ لینڈمافیا رانا گلزار کو عدالتی معاونت فراہم کرنے پر ڈپٹی ڈائریکٹر لیگل ارشاد احمد کو پروجیکٹ اورنگی سے ہٹا دیا گیا ہے کیونکہ ان کے پاس چمک کی طاقت ہے جس کے آگے میئر کراچی سمیت پوری سندھ حکومت بے بس ہے۔ واضح رہے کہ پروجیکٹ میں زمینوں کے جعلی الاٹمنٹ، جعلی لیز، سب لیز کے ساتھ جعلی ٹرانسفر اور بڑے پیمانے پر ڈبل، ٹرپل الاٹمنٹ کا سلسلہ گذشتہ 11 سال سے جاری ہے۔ سینکڑوں الاٹمنٹ و جعلی لیز کی فائلوں کے کیس عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ سابق دور میں بدعنوان ریٹائرڈ رضوان خان اور اس کی مبینہ ٹیم کی لوٹ مار کا بازار گرم تھا۔ سابق ڈپٹی ڈائریکٹر لیگل ارشاد احمد بہاری نے متبادل پلاٹ کے نام پر نالے پر 6-E میں بھاری نذرانہ وصول کرکے جعلی NOC دیکر تجازوات سیل کے تمام عملے کو پھنسوا دیا ہے۔ سابق ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ جاوید مصطفی نے NLC کے نام پر نالے کی زمین پر قبضہ واگزر کرانے کا حکم دیا تھا۔پلاٹ نمبر 487/A اور پلاٹ نمبر 487-B سیکٹر 6-E اورنگی ٹاون نالے پر موجود ہے جبکہ پروجیکٹ اورنگی کے نقشے میں پلاٹس موجود ہی نہیں ہے، نالے پر سپریم کورٹ نے الاٹمنٹ پر پابندی عائد کر رکھی ہے اس کے باوجود پلاٹس کے جعلی کاغذات، چالان، ٹرانسفر دیگر دستایزات پیش کی گئی تھی۔1060/2024 نمبر کیس ADJ-3 کی عدالت میں این ایل سی کے کنٹینر کی آڑ میں زمین پر قبضہ کرنے والے تمام کرداروں کے خلاف کاروائی کا حکم دیا تھا جو سابق ڈائریکٹر رضوان احمد خان کے دستخط سے الاٹ کی گئی تھی۔ پروجیکٹر ڈائریکٹر فیصل رضوی نے کمشنر کراچی سید حسن نقوی کی ہدایت پر تجازوات سیل کے انیق احمد اور عمیر کو شوکاز نوٹس جاری کیا ہے اور چھ ملازمین کو عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ علاوہ ازیں پروجیکٹ ڈائریکٹر اورنگی فیصل رضوی کا کہنا ہے کہ میئر کراچی نے ان کو فری ہینڈ دے دیا ہے۔ 1981ء سے اورنگی کو ڈپارٹمنٹ بنانے کے بجائے لوٹ مار کا کام جاری تھا اب میئر کراچی، میونسپل کمشنر کراچی کی ہدایت پر ریکارڈ فائلیں اورنگی سے KMC بلڈنگ منتقل کی جارہی ہیں۔ تمام غائب یا گمشدہ فائلوں کے لئے اشتہار کے ذریعے ڈیٹا جمع کیا جائیگا اس کے بعد ریکارڈ کمپیوٹرائز کیا جائے گا جس کا پی سی ون تیار کرکے ورلڈ بینک کی مالی مدد سے تمام ریکارڈز کو کمپیوٹرائز کیا جائے گا۔
Read Next
2 دن ago
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے چیئرمین نیب کی ملاقات، واگذار زمین صوبائی حکومت کے حوالے*
3 دن ago
سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی برائے فنانس کا اہم اجلاس وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی صدارت میں منعقد،متعدد منصوبوں کی منظوری
3 دن ago
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس،سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کی امداد اور بحالی کا جامع پیکج منظور
3 دن ago
میئر ایڈووکیٹ انور علی لہر صاحب کی زیرِ صدارت میونسپل کارپوریشن لاڑکانہ کا عام روایتی اجلاس
3 دن ago
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 6.135 ارب روپے سے تعمیر شدہ کورنگی کاز وے پل کا افتتاح کردیا*
Related Articles
حضرت لال شہباز قلندر رحمۃ اللہ علیہ کے7 سے9 فروری 2026 تک جاری رہنے والے سہ روزہ عرس مبارک کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ
6 دن ago
وزیراعلیٰ سندھ کا سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کیلئے پیکج کا اعلان،تمام امدادی اداروں کو ایک ہی کمان میں دینے کا فیصلہ
6 دن ago




