پاکس بے میں صحافیوں کی زمینوں پر قبضہ،راتوں رات قبرستان بن گئے، سیکٹر 68 کی زمین ایک قبضہ گیر شہری کو الاٹ کر دی گئی۔ عدالت نے ریوینو کے تمام اعتراضات مستردکرتے ہوئے حکم امتناعی جاری کردیا۔

کراچی (رپورٹ۔اسلم شاہ)سینئر سول جج VIII غربی نے صحافیوں کے الاٹ شدہ پلاٹ کو ایک قبضہ گیر شہری کو الاٹ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہاکس بے سیکٹر 68 میں حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے بورڈ آف ریونیو کی تمام درخواستیں مسترد کردی ہیں۔عدالت نے درخواست گزار امیر حسین ولد مدد کی تعمیرات منہدم کرنے کا جرم ثابت ہونے پر BOR کو ایک کروڑ روپے ہرجانہ کی ادائیگی کی ہدایت کی ہے۔ ہاکس بے میں شہری کو بورڈ آف ریونیو نے 2012ء میں ناکلاس 255، دیہہ لال بکھر میں چار ایکٹر زمین پولٹری فارم کے لئے 30 سالہ لیز پر الاٹ کیا تھا یہ زمین اسکیم 42 کے سیکٹر 68 میں موجود ہے اور اسکیم 42 بورڈ آف ریونیو 1984ء کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو الاٹ کیا تھا۔بعد ازاں یہ اسکیم 42 کو لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو منتقل کردیا گیا تھا۔عدالت میں بورڈ آف ریونیو زمین منسوخ کرنے کا کوئی ثبوت پیش نہ کر سکا اور ریکارڈ آف رائٹس میں شہر ی کا ریکارڈ موجود ہے،جبکہ عدات میں مختیار کار نے دو الگ الگ موقف اختیار کیا جس پر اس کی سخت باز پرس کی گئی ایک موقف میں مختیار کار گابو پٹ ہاکس ضلع کیماڑی کا کہنا تھا کہ الاٹ شدہ زمین کے بارے میں جب معلوم ہوا تو زمین کی الاٹ منٹ منسوخ کردی گئی جس کا خط ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا تاہم الاٹمنٹ کی منسوخی کی دستاویزات پیش نہ کی اور نہ منسوخی کے لئے ریکارڈ آف رائٹس میں تبدیلی کی گئی۔ مختیار کار کے ریکارڈ کے مطابق شہری کو 2012ء میں زمین الاٹ کی گئی جب پوری اسکیم کی زمین منسوخ ہوچکی تھی اور سپریم کورٹ میں سماعت چل رہی تھی۔ شہری نے 2022ء میں زمین کا دعویٰ پیش کیا اور 2023 میں پولٹری فارم کی تعمیرات گرانے پر عدالت سے رجوع کیا تھا جبکہ صحافیوں کو لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے زمین 2022ء میں منتقل کی تھی۔ صحافیوں کو اسکیم 42 کے سیکٹر 2-A میں الاٹ کی تھی۔ ایک عسکری ادارے نے صحافیوں کی الاٹ شدہ 210 پلاٹس پر غیر قانونی قبرستان بنا کر چار دیواری قائم کردی ہے،جس کے نیتجے میں صحافیوں کو سیکٹر 68 میں متبادل پلاٹس الاٹ کیئے گئی ہیں۔ان پلاٹس میں عدالت کی جانب سے حکم امتناعی جاری ہونے پر صحافیوں کے پلاٹس ایک بار پھر خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ دوسری بری خبر صحافیوں کے سیکٹر 2-A میں بچ جانے والی پلاٹس پر آسکانی نامی سیاسی شخصیت نے قبرستان بنادیا ہے اس بارے میں لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ذمہ دار افسر نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ قبرستان کے بارے میں پریس کلب کو اگاہ کردیا ہے، عدالت کے حکم امتناعی سے بھی کلب کو اگاہ کیا گیا ہے۔

لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی اسکیم 42 ہاکس بے میں بورڈ آف ریونیو اور ڈپٹی کمشنر کی غیر قانونی طور پر اربوں روپے زمین کی الاٹمنٹ کرنے کا گھناونا کاروبار جاری ہے۔ حال ہی میں اسکیم کی 635 ایکٹر اراضی کو ٹھکانے لگانے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ اتھارٹی ریکارڈ کے مطابق 40 سال قبل اسکیم 42، 20900 ایکٹر پر مشتمل تھا جن میں 9450 ایکٹر اراضی اسکیم سے قبل محروم کرتے ہوئے اسکیم 42 کو 11450 ایکٹر اراضی 24ں جولائی 1984ء میں ا لاٹ کردی گئی تھی۔اب 2023ء میں اسکیم کو 6243 ایکٹر اراضی الاٹ کی گئی اور 5207 ایکٹر اراضی سے محروم کردیا گیا ہے، اس ضمن میں سابق سیکریٹری ایل ڈی اے سید سبیح الحسن نے بتایا کہ یہ اپیل سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ سندھ حکومت نے اسکیم کی بانڈری سے باہر پانچ مختلف مقامات پر یہ زمین الاٹ کرنے کا عندیہ دیاہے تاہم یہ زمین نئے نرخ پر الاٹ کی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر کیماڑی نے اسکیم کے بعض بلاک کی زمین پر قبضہ جمانے اور الاٹیز کو اپنے قیمتی پلاٹ سے محروم کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے۔واضح رہے کہ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے صحافیوں کو پلاٹس ایک معاہدے کے تحت دیا تھا۔ 20 فیصد رقم کی صحافی ادائیگی کریں گے اور 80 فیصد پلاٹس کی مجموعی رقم سندھ حکومت ادا کرے گی،جس میں 1283 صحافیوں کے پلاٹ شامل ہیں۔ بلاک تھری میں 522، تھری اے میں 194،ٹو میں 256 اور بلاک 68 میں 210 پلاٹ الاٹ کیئے گئے ہیں۔ اب تک سندھ حکومت پر 85 کروڑ روپے میں 70 کروڑ روپے رقم واجب الادا ہے,لیکن صرف 15 کروڑ روپے ادائیگی کی گئی ہے،رقم نہ دینے پر اسکیم میں ترقیاتی کام کا آغاز نہ ہوسکا۔ صحافیوں کی ڈھڑے بندی کی وجہ سے کراچی کے صحافی 27 سال سے پلاٹس سے محروم ہیں۔اب الاٹمنٹ و دیگر مالکانہ حقوق دینے کی دعوی کیاہے، صحافیوں پر 16 کروڑ 30 لاکھ روپے میں 20 فیصد رقم کے حساب سے اب تک 90 ملین روپے دے چکے ہیں اب صرف 72 ملین روپے واجب الادا بتایا جاتا ہے،۔ وفاقی حکومت کی جانب سے پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کے تحت 500 گھر بنانے کے لئے زمین الاٹ کی گئی تھی، مبینہ طور پر ڈپٹی کمشنر کیماڑی اور غربی نے 635 ایکٹر اراضی اسکیم ہاکس بے کیلئے زمین الاٹ کرنے کی تصدیق کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بورڈ آٖف ریوینو کے افسران نے ایک پلان کے تحت اس اسکیم کی 2010ء میں الاٹمنٹ منسوخ کردی تھی۔ ایک طرف اسکیم کی تمام سرگرمیاں معطل ہوگئیں اور دوسری جانب زمین کے الاٹمنٹ میں تیزی آگئی اور ریوینیو افسران کی بدعنوانی کے ساتھ ناجائز اختیارات کا استعمال کے خلاف تحقیقات نہ ہوسکی نہ اربوں روپے لوٹ مار کا جوابدہ بھی نہ ہوسکا جس کی وجہ سے ریونیو افسران کے حوصلے بڑھ گئے اور وہ ہر طرح کی لوٹ مار اور بدعنوانی کھلے عام کرنے لگے،جبکہ LDA کے سابق ڈائریکٹر جنرل آغا مقصود عباس نے معاملے کو بورڈ آف ریوینو اور سندھ حکومت سے حل کے بجائے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا،جس کا فیصلہ LDA کے خلاف آیا تھا۔ سپریم کورٹ میں LDA کی یہ اپیل دو سال چلنے کے بعد سابق چیف جسٹس افتخار احمد چوہدری نے اپنی نگرانی فیصلے کیئے تھے۔ آج بھی سپریم کورٹ میں ریو پیٹیشن زیر التو ء ہے۔ شہریوں کا خیال ہے کہ ہاکس بے اسکیم 42 ایک بڑا اسکینڈل ہے جیسا کہ فشر مین کوآپریٹو سوسائٹی کے اسکینڈل اور سندھ کے بدنام زمانہ بدعنوان بادشاہوں اور رانیوں کے کچھ لنکس کے ساتھ ساتھ لیاری گینگ کے جرائم کا باآسانی سراغ لگایا جا سکتا ہے،اس کیلیئے مناسب اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائے، تو دودھ کا دودھ اور پانی کی پانی ہو جائے گا۔تاہم الاٹیوں کا مطالبہ ہے کہ ایل ڈی اے کو فوری طور پر ہاکس بے اسکیم 42 میں ترقیاتی سرگرمیاں شروع کرنی چاہئیں تاکہ قبضہ گروپوں کو روکا جا سکے اور پلاٹوں کا قبضہ ان کے حقیقی الاٹیوں کے حوالے کرنے کی کٹ آف تاریخ(حتمی تاریخ) کا اعلان کرنا چاہیے۔

جواب دیں

Back to top button