وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بدھ کو کہا ہے کہ ان کی حکومت منتخب نمائندوں اور بلدیاتی اداروں کے ساتھ مل کر دن رات کام کر رہی ہے تاکہ صوبے بھر میں شدید بارشوں اور دریا کے بڑھتے ہوئے پانی کی سطح کے باعث درپیش نئے چیلنجز سے شہریوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔کراچی کے مختلف علاقوں کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور ڈپٹی میئر سلمان مراد کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ وہ رات بھر عوام کی خدمت میں سرگرم رہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت صوبائی وزراء اور انتظامیہ کے اعلیٰ افسران میرے ساتھ میدان میں موجود ہیں۔مراد علی شاہ نے ملیر میں رات کے دوران چار قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور بتایا کہ ریسکیو ٹیموں نے صبح کے وقت کورنگی کاز وے کے قریب پھنسے کئی افراد کو بچایا۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ حکومت کی جانب سے جاری ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں تمام منتخب نمائندوں، انتظامیہ، پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122 اور دیگر اداروں کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے ہم آہنگی کے ساتھ مؤثر طریقے سے صورتحال کو قابو میں رکھا۔وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ شدید بارشیں حیدرآباد، ٹھٹہ، سجاول، بدین، تھرپارکر، جامشورو اور دادو میں بھی ریکارڈ کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ تھرپارکر میں چھوٹے ڈیم بھر گئے ہیں جس سے مقامی آبادی کو ریلیف ملا ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ اگرچہ حکومت نے دریائے سندھ میں نو لاکھ کیوسک کے سیلابی ریلے کے لیے تیاری کی تھی لیکن تاحال پانچ لاکھ کیوسک پانی گڈو بیراج تک پہنچ چکا ہے جس کے پیش نظر ریلیف کیمپس اور صحت کی سہولتیں قائم کر دی گئی ہیں۔ اب تک پانچ ہزار سے زائد افراد کو سرکاری صحت کیمپوں میں علاج فراہم کیا جا چکا ہے اور صوبائی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے موبائل اسپتال بھی موقع پر موجود ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ دیہی روزگار کے تحفظ کے لیے ایک ملین سے زائد مویشیوں کی ویکسی نیشن مکمل کر لی گئی ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ دریاؤں اور نالوں پر تجاوزات شہری سیلاب کی بڑی وجہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی حکومت نے دریا کی گزرگاہوں میں مستقل رہائشی سوسائٹیاں قائم کرنے کی اجازت نہیں دی لیکن قدرتی راستوں کو روکنا فطرت کے خلاف ہے اور بدقسمتی سے یہ سب یہاں کیا گیا۔سیاسی اور انسانی ہمدردی کے وسیع تر ردعمل پر گفتگو کرتے ہوئے مراد شاہ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پنجاب، گڈو اور سکھر کا دورہ کیا اور فوری طور پر بین الاقوامی اداروں سے مدد کے لیے رابطہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ سندھ صورتحال کو سنبھال رہا ہے لیکن پنجاب اور خیبرپختونخوا کو زیادہ مشکلات کا سامنا ہے، جس کے لیے وفاقی حکومت کو ریلیف حکمت عملی پر مشورہ دیا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جنوبی پنجاب یا سکھر میں گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو فوری طور پر بین الاقوامی اداروں سے رجوع کرنا چاہیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جب بلاول بھٹو وزیر خارجہ تھے تو انہوں نے نہ صرف ریلیف بلکہ بحالی کے لیے بھی عالمی اداروں سے بروقت رابطہ کیا تھا اور انہیں مثبت جواب ملا تھا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ خوش قسمتی سے سندھ میں ایسی صورتحال نہیں آئی، لیکن گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور پنجاب میں حالات سنگین ہیں۔ لہٰذا چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ فوری طور پر بین الاقوامی اداروں کو مدد کے لیے بلایا جائے تاکہ عوام کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ماضی کی آفات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت نے 2008، 2012، 2014، 2015، 2020 اور 2022 کے سیلابوں کے دوران اپنے تجربے سے ہر امتحان کا سامنا کیا اور کامیابی سے نکلی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ اپنے عوام کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ آج بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن، منتخب نمائندے اور انتظامیہ عوام کے ساتھ ہیں۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ وہ تعمیری تنقید کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن بحران کے وقت منفی سیاست کی مذمت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کمزوریاں اجاگر کرنا قابل قبول ہے لیکن ایسے حالات میں غیر ضروری تنقید مناسب نہیں۔ میرا کام عوام کی خدمت ہے اور میں یہ ذمہ داری جاری رکھوں گا۔ملیر ایکسپریس وے کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ منصوبہ دراصل حفاظتی بند کا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی تعمیر کے دوران تنقید درست نہیں، منصوبہ مکمل ہونے دیں پھر اس کا جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ سندھ اور اس کے عوام پر اپنی رحمت نازل کرے۔

شہر کا دورہ
اس سے قبل وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بارشوں کے بعد شہر کی صورتحال کا تفصیلی دورہ کیا۔سب سے پہلے وہ قیوم آباد اور کورنگی کاز وے پہنچے جہاں انہوں نے نکاسی آب کے کام کا جائزہ لیا۔ انہوں نے دیکھا کہ قیوم آباد فلائی اوور کے قریب بارش کا پانی جمع ہو گیا ہے جسے مشینری کے ذریعے نکالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورنگی کاز وے ایک دریا کی شکل اختیار کر چکا ہے اور ہدایت دی کہ ملیر ندی کا بہاؤ کم ہونے پر اسے کلیئر کیا جائے۔بعد ازاں وزیر اعلیٰ نے شاہراہِ بھٹو کا دورہ کیا اور ملیر ندی کے اخراجی مقام کا معائنہ کیا جہاں چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے رات بھر جاری ریسکیو آپریشنز پر بریفنگ دی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ملیر ندی سے پانی کے اخراج کے بعد کورنگی کاز وے بھی صاف ہو جائے گا۔ انہوں نے ہدایت دی کہ شہریوں کو نشیبی علاقوں میں بدلتی صورتحال سے مسلسل آگاہ رکھا جائے اور زور دیا کہ کے ایم سی، پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، میونسپل ٹاؤن انتظامیہ، واٹر بورڈ اور پولیس سمیت تمام ادارے مکمل طور پر فعال رہیں۔
وزیر اعلیٰ نے پولیس کو ہدایت دی کہ شہر بھر میں تعیناتی یقینی بنائیں تاکہ ٹریفک کی روانی برقرار رہے۔ ملیر 15 پر انہوں نے ٹریفک انتظامات اور نکاسی آب کے اقدامات کا جائزہ لیا اور چیف سیکریٹری کے ذریعے افسران کو فوری نکاسی تیز کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ بارش رکنے کے ساتھ ہی تمام نشیبی علاقے پانی سے صاف کر دیے جائیں اور ساتھ ہی اضلاع کی انتظامیہ اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کو مسلسل صفائی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔وزیر اعلیٰ بعد ازاں ملیر کینٹ کے راستے سعدی ٹاؤن پہنچے جہاں انہیں بریفنگ دی گئی کہ لٹ اور تھدو ڈیموں سے اوور فلو ہونے والا پانی موٹروے کے ذریعے ٹاؤن میں داخل ہوا ہے۔ انہوں نے گاڑی سے اتر کر مکینوں سے ملاقات کی اور فوری اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے واٹر بورڈ، ریسکیو 1122 اور کینٹونمنٹ بورڈ کو ہدایت دی کہ نکاسی آب کی رفتار مزید تیز کی جائے۔بعد میں مراد علی شاہ جناح ایونیو گئے اور وہاں نکاسی آب کے نظام اور نصب مشینری کا معائنہ کیا۔ جناح ایونیو سے وہ لیاری ندی پہنچے اور وہاں کے نکاسی نظام کا جائزہ لیا۔ متعلقہ اداروں کو مزید کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لیاری ندی جو منگھوپیر اور گڈاپ کی پہاڑیوں سے نکلتی ہے، اردگرد کے برساتی پانی کو ساتھ لے کر اورنگی ٹاؤن، سائٹ ایریا، ناظم آباد، لیاقت آباد اور گل بہار سے گزرتی ہوئی کھارادر، میٹھادر، ویسٹ وہارف اور بالآخر بندرگاہ تک پہنچتی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ لیاری ندی میں پانی کا دباؤ زیادہ ہے لیکن بہاؤ مسلسل اور قابو میں ہے۔پورے دورے کے دوران مراد علی شاہ نے تیز رفتار ریلیف کاموں، تمام شہری اداروں کے درمیان قریبی تعاون اور شہریوں سے واضح رابطے پر زور دیا تاکہ بارشوں کے دوران مشکلات کو کم سے کم کیا جا سکے۔






