میئر کراچی مرتضٰی وہاب نے پانی سمیت دیگر درینہ مسائل کے حل کے لئے بلدیاتی نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔ارکان صوبائی اسمبلی اور پارٹی تنظیم کے عہدیدار بھی اجلاس میں شریک ہوئے ،منگھوپیر، اورنگی، میربہار اور بلدیہ ٹاؤنز کی یوسی تنظیم کے چیئرپرسنزبھی ملاقات میں شریک ہوئے۔چیئرپرسنز سے ٹاؤنز میں پانی کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے میٹنگ کی گئی۔ ایم پی اے پارٹی تنظیم اور ٹاؤن چیئرپرسن کے ہمراہ لیاری کی یوسی چیئرپرسن سے اپنے علاقوں کے پانی اور سیوریج کے مسائل کے حوالے سے آگاہ کیا جس پر میئر کراچی نے موقع پر احکامات جاری کئے۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے ماضی میں کسی میئر نے ریونیو کلیکشن کے نظام کو بہتر بنانے پر توجہ نہیں دی ۔شہر کی تنزلی اس لئے ہوئی کہ ہم نے اپنے اداروں کو مستحکم کرنے کے بجائے غیرضروری بھرتیاں کیں، کے ایم سی کے ذمے اس وقت ساڑھے چھ ارب کا قرضہ ہے جبکہ کے ڈی اے کے قرض کی مالیت کئی ارب ہے یہی حال دیگر اداروں کا ہے لہٰذا ہر ادارے کو انفرادی طور پر توجہ دے کر اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہوگا، انہوں نے کہا کہ کراچی میں پانی کی کمی کا مسئلہ حقیقی ہے،1200 ملین گیلن یومیہ ضرورت ہے جبکہ صرف550 ملین گیلن پانی شہر کو فراہم ہوتا ہے، پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لئے 12 ارب روپے کا پروجیکٹ منظور کرایا ہے،منصوبے کے تحت حب ڈیم سے موجودہ کینال کے ساتھ ایک نئی کینال ڈالی جائے گی،بارہ مہینے میں یہ پروجیکٹ مکمل ہوگا، اس کے علاوہ ابراہیم حیدری میں پانچ لاکھ گیلن پانی کا پلانٹ لگا رہے ہیں، واٹر کارپوریشن میں ہدف کے مطابق 3 ارب روپے کی ریکوری حاصل نہیں کرپائے ہیں لہٰذا پانی کا استعمال چیک کرنے کے لئے ہم نے ساتوں ہائیڈرینٹس پر میٹر لگا دیئے ہیں،شہر میں اندازاً پانچ ہزار واٹر ٹینکرز چلتے ہیں جن میں سے تین ہزار دو سو واٹر کارپوریشن سے رجسٹرڈ ہیں،سب سوائل پانی کے استعمال کے لئے ہم نے ریگولیشن منظور کرائی ہے،31 جولائی کے بعد بغیر میٹر کے کسی فیکٹری میں سب سوائل پانی استعمال نہیں ہوسکے گا،اس اقدام سے واٹر کارپوریشن کی اس مد میں آمدنی پانچ کروڑ سے بڑھ کر ایک ارب تک پہنچ جائے گی،انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک بلوں کے ذریعے میونسپل ٹیکس کی وصولی کے کیس کا فیصلہ عدالت میں ہمارے حق میں کردیا ہے جہاں تک کے الیکٹرک کے ساتھ باہمی تنازعات کا سوال ہے سوائے ایک کے تمام معاملات باہمی طور پر حل کرلئے گئے ہیں، کے الیکٹرک ہماری زمین پر لگائے گئے اپنے کھمبوں کا کرایہ دینے پر آمادہ نہیں لہٰذا اس کا فیصلہ بھی عدالت ہی کرے گی۔






