*خیبرپختونخوا، پی ڈی ڈبلیو پی اجلاس میں 66 ارب سے زائد کے 45 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری*

وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کے خصوصی ہدایت پر صوبائی دارالحکومت کی تعمیر وترقی کیلئے ایک ہزار ملین کی لاگت سے منصوبہ منظور کرلیا گیا۔ منصوبے میں روڈ فرنیچر کی بہتری، گرین بیلٹس تزئین و آرائش شامل ہے۔صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کا چوتھا اجلاس ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ منصوبہ بندی اور ترقیات خیبرپختونخوا اکرام اللہ خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں پی ڈی ڈبلیو پی کے اراکین اور متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ فورم نے صوبے کی ترقی کے لیے صحت، پاپولیشن ویلفیئر، ٹرانسپورٹ، داخلہ، لائیوسٹاک اور آبپاشی سے متعلق 45 اہم منصوبوں کی منظوری دی۔

منظورشدہ منصوبوں میں خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع میں خشک زمین پر کاشتکاری کے طریقوں کو فروغ دینے کے منصوبے، خیبرپختونخوا میں پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے سورج مکھی کا فروغ ، خیبرپختونخوا میں زرعی مشینری کے استعمال کے کو فروغ دینا، ضم شدہ اضلاع میں مصنوعی حمل کے ذریعے مویشیوں کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانا، غیر ملکی بہتر مویشیوں کی نسلوں کے ساتھ کراس بریڈنگ کے ذریعے دیسی مویشیوں کی جینیاتی بہتری، خیبر پختونخواہ کے ہزارہ ڈویژن میں لائیو سٹاک کی ترقی کے ذریعے لوگوں کے ذریعہ معاش میں بہتری، ضلع بنوں میں کرم پل سے دریا کے کنارے سے براستہ کوٹ برارہ امنڈی سے میران شاہ روڈ تک منی بائی پاس کی فیزیبلٹی سٹڈی اور تعمیر، کرم پل سے ہشنی کالا کے ذریعے میران شاہ روڈ تک بائی پاس روڈ کی فیزیبلٹی سٹڈی اور تعمیر، ضلع ڈی آئی خان میں صوبائی ہائی وے S-8 کی ڈوالائزیشن، ظفر آباد ایریگیشن چینل سے دکھن بائی پاس، ضلع لوئر دیر میں 3.5 کلومیٹر کمبڑ بائی پاس روڈ کی تعمیر ، دوا توئی سے حیدر کانڈو تک (28 کلومیٹر) بلیک ٹاپ روڈ کی کُشادگی اور بحالی میں بہتری،ضلع مانسہرہ میں چکیہ جنگلاں سندر کلریاں روڈ اور شاہ کیل گڑھی پیراں روڈ کی بہتری ، چوڑائی اور بحالی، سگرام بائی پاس روڈ، سوات (3.25 کلومیٹر) کی تعمیر اور بہتری، ضلع ڈی آئی خان میں گاندی عاشق تا گاندی عمر خان روڈ (11-کلومیٹر) کی بحالی، ضلع خیبر میں سراج الدین مدرسہ سے جان خان کلے بار قمبر خیل تک 12 کلومیٹر سڑک کی بہتری کشادگی اور بحالی، نوگازی بابا سے شیخان سپورٹس سٹیڈیم خیبر تک باڑہ بائی پاس روڈ کی تعمیر، باجوڑ میں تنگ کھاتہ ڈھیرئی روڈ (2 کلومیٹر) کی تعمیر اور بلیک ٹاپنگ، نورنگ بائی پاس روڈ کا ڈیزائن اور تعمیر و فزیبلٹی سٹڈی، قریشی موڑ سے دریا خان پل تک سڑک کو دوہری بنانے کے لیے فزیبلٹی سٹڈی، چشمہ دراتنگ روڈ براستہ کافر کوٹ کی بہتری اور بحالی، مندرہ پل سے الموز شوگر مل (ڈی آئی خان چشمہ روڈ) تک سڑک کو دوہرا بنانا،مستوج بروغل بائی پاس روڈ کی فزیبلٹی سٹڈی اور ڈیزائن (153 کلومیٹر) ، پشاور بی آر ٹی سسٹم کے لیے 50 الیکٹرک بسوں کی خریداری کی فزیبلٹی سٹڈی، خیبر پختونخوا کے شہری مراکز (ڈویژنل/ضلعی ہیڈ کوارٹرز) کے لیے ماسٹر پلان کی تیاری، رورل اکنامک ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ، چیف منسٹر پالیسی آفس (سی ایم پی او) کا قیام،پشاور میں انفراسٹرکچر یادگاروں و سٹریٹ لائٹس کی بہتری، کوہاٹ میں میگا واٹر سپلائی اسکیم کی فزیبلٹی اسٹڈی ڈیزائن اور تعمیر: i) دریائے سندھ یو سی گمبٹ، خوشحال گڑھ اور ملحقہ دیہات سے۔ ii) میر حبیب چینہ سے میٹا خان اور کچا پکا کےملحقہ دیہات تک، کوہاٹ میں دریائے سندھ سے دربوکوچ تک میگا واٹر سپلائی اسکیم کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی (یو سی سورت، یوسی مندوری، یوسی درملک، اضلاع دیر لوئر، دیر اپر اور تحصیل کالام، سوات میں اراضی کے ریکارڈ کی سٹیلمنٹ، ضم شدہ اضلاع فیز I میں پولیس اور سی ٹی ڈی انفراسٹرکچر کی تعمیر اور ترقی، سوات میں جوڈیشل کمپلیکس کی تعمیر ، ضلع بنوں میں کچکوٹ کینال سسٹم کی بہتری و بحالی و فزیبلٹی اسٹڈی، کینال پیٹرول روڈ کی بہتری و بحالی اور ہزار خانی برانچ کینال کے دونوں کناروں کے ساتھ متعلقہ کام، ضلع سوات، ڈیرہ اسماعیل خان اور ایبٹ آباد میں اسٹریٹ چلڈرن کے لیے ماڈل انسٹی ٹیوٹ (زمنگ کور) کے بوائز کیمپس اور پشاور میں گرلز کیمپس کا قیام، ضلع دیر لوئر تیمرگرہ میں دارالامان کا قیام، نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام، خیبرپختونخوا دیہی سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی امدادی منصوبہ کے تحت تحصیل کمپلیکس خار ضلع باجوڑ کی تعمیر،خیبرپختونخوا میں 260 فیملی ویلفیئر سینٹرز کا قیام، خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع میں 120 فیملی ویلفیئر سینٹر کا قیام صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی اجلاس میں شامل ہیں۔

جواب دیں

Back to top button