وزیر صحت و بہبود آبادی سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو کی زیر صدارت ورلڈ بینک مشن کے ساتھ نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام کی پیش رفت سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں عالمی ادارہ صحت ، یونیسیف ، سیکریٹری محکمہ صحت و دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ صحت سندھ کی جانب سے جاری منصوبوں، ڈی ایچ آئی ایس سسٹم کے نفاذ، استعداد کار میں اضافے، مواصلاتی نظام کی بہتری، اور نیشنل ہیلتھ پروگرام کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو کا کہنا تھاکہ صحت کےشعبے کےلیےایک تربیت یافتہ، باصلاحیت اور تکنیکی سوچ رکھنے والی ٹیم کی ضرورت ہے۔ محکمہ صحت سندھ نے ماضی میں فزیکل ڈیٹا پر انحصار کیا جس سے فوری فیصلے ممکن نہیں تھے مگر اب ہم ایک مکمل ڈیجیٹل نظام کی جانب بڑھ رہے ہیں جہاں ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے بروقت اقدامات کیے جا سکیں گے۔ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے ہدایت جاری کی کہ

صوبے کے دس اضلاع میں ڈی ایچ آئی ایس 2 سسٹم کے نفاذ کو تیز کیا جائے تاکہ پورے سندھ میں صحت کے اعداد و شمار کا خودکار اور جدید نظام قائم کیا جا سکے۔ مالیاتی شفافیت کے لیے MIS سرگرمیوں کے لیے علیحدہ کاسٹ سینٹرز قائم کیے جائیں تاکہ صحت کے منصوبوں پر بروقت فنڈز کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔ وزیر صحت نے عالمی بینک، ڈبلیو ایچ او اور یونیسیف کی معاونت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم صحت کے شعبے میں پائیدار بہتری کے لیے استعداد کار میں اضافے، تربیتی پروگراموں، آگاہی مہمات اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ عملے کی تربیت اور آگاہی کے پروگراموں میں مزید فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ وزیر صحت نے مزیدکہا کہ ہم ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کو نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام کے ساتھ منسلک کرنا چاہتے ہیں تاکہ نتائج دیرپا ہوں اور صوبے بھر میں اس کے اثرات نمایاں ہوں۔صحت کے منصوبوں کی پائیداری کے لیے استعداد کار میں اضافہ، تربیت، اور بروقت فنڈنگ ضروری ہے تاکہ عوام کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ اجلاس میں ورلڈ بینک کے وفد نے سندھ حکومت کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبہ سندھ نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام پر کامیابی سے عملدرآمد کر رہا ہے اور اس میں مزید بہتری کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کی جائے گی۔ وفد نے تجویز دی کہ صوبائی سطح پر یو ایچ سی کوآرڈی نیشن پلیٹ فارم قائم کیا جائے تاکہ مختلف منصوبوں میں ہم آہنگی اور اشتراک عمل بہتر بنایا جا سکے۔ وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے اجلاس کے اختتام پر کہا کہ “صحت کے شعبے میں سندھ حکومت کے اقدامات عوامی فلاح پر مبنی ہیں۔ چاہتے ہیں کہ ہر شہری کو علاج، ادویات اور تشخیص کی جدید سہولتیں دستیاب ہوں۔ ایسا مضبوط اور شفاف نظام قائم کر رہے ہیں جہاں صحت کی معلومات فوری دستیاب ہوں اور فیصلے بروقت کیے جا سکیںز یہی جدید دور کی ضرورت ہے۔






