مراد علی شاہ سے امریکی نگراں ناظمہ الامور نیتالی ایشٹن بیکر کی ملاقات،کیٹی بندر، شاہراہ بھٹو اور سیلابی صورتحال پر تبادلہ خیال

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے امریکا کی نگراں ناظمہ الامور نیتالی ایشٹن بیکر نے ملاقات کی جس میں سیلابی صورتحال، غذائی تحفظ، توانائی و سلامتی کے تعاون، کیٹی بندر پورٹ منصوبہ اور سندھ میں سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔یہ ملاقات بدھ کے روز وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہوئی جس میں امریکی قونصل جنرل چارلس گڈمین، پولیٹیکل آفیسر جیرڈ ہینسن، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف اور دیگر حکام بھی شریک تھے۔وزیراعلیٰ نے کیٹی بندر منصوبے کے آغاز کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اسے ’’تاریخ کا پہلا قدرتی پورٹ‘‘ اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا وژن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پورٹ شدید دباؤ میں ہے اور ایک نئے بندرگاہ کی فوری ضرورت ہے۔

اس موقع پر شارع بھٹو کو براہِ راست کراچی پورٹ سے منسلک کرنے کی تجویز پر بھی بات ہوئی تاکہ شہر کے اندر سے بھاری ٹریفک کو ہٹایا جا سکے۔نیتالی بیکر نے اعلان کیا کہ امریکہ کی نمایاں کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیدار جلد کراچی کا دورہ کریں گے تاکہ مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لیا جا سکے۔ اس پر وزیراعلیٰ نے مکمل سرکاری تعاون کی یقین دہانی کرائی۔توانائی اور صنعتی تعاون کے حوالے سے تھر میں کوئلے پر مبنی منصوبوں پر تفصیلی بات چیت ہوئی جن میں کوئلہ سے گیس، کھاد اور ڈیزل کی تیاری شامل ہے۔ وزیراعلیٰ نے مقامی وسائل کے مؤثر استعمال پر زور دیا۔سیلابی انتظامات کے حوالے سے مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ نے ’’سپر فلڈ‘‘ کے لیے وسیع تیاریاں کر رکھی تھیں تاہم اس سال صورتحال کم سنگین رہی۔ انہوں نے پنجاب میں شدید نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور سندھ کے کچے کے علاقوں میں دھان کی فصل کو پہنچنے والے نقصانات کو اجاگر کیا۔ دونوں فریقوں نے ابتدائی انتباہی نظام، شہری نکاسی آب اور ہنگامی تیاریوں کو بہتر بنانے پر اتفاق کیا۔ملاقات میں خوراک، پانی اور صفائی کے لیے اقوامِ متحدہ اور غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے 22 لاکھ 50 ہزار امریکی ڈالر کی امداد اور امریکی فوج کی طرف سے کشتیاں، خیمے، چارپائیاں اور پانی کے پمپ فراہم کرنے پر بھی گفتگو ہوئی۔غذائی تحفظ کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے گزشتہ سال گندم کی کم کاشت سے پیدا ہونے والے مسائل کو اجاگر کیا اور بتایا کہ درآمدی گندم صوبے کو 40 کلو کے حساب سے 3 ہزار 800 روپے میں پڑی۔ انہوں نے کہا کہ غذائی تحفظ یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔سلامتی کے تعاون پر بھی بات ہوئی۔ مراد علی شاہ نے انٹرنیشنل نارکوٹکس اینڈ لاء پروگرام کے تحت 2012 سے امریکی تعاون کو سراہا جس کے ذریعے پولیس کی تربیت، سامان، خواتین پولیس کے لیے بیرکس اور جیل اصلاحات کے لیے مالی معاونت فراہم کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ کی 22 جیلوں کو جدید نظام سے آراستہ کیا گیا ہے اور حیدرآباد میں جیل عملے کی تربیت کے لیے ادارہ قائم کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے امریکا کی جانب سے 2 کروڑ ڈالر مالیت کے حفاظتی سامان کی فراہمی کو بھی تسلیم کیا۔نیتالی بیکر نے انٹرنیشنل کانفرنس میں سندھ پولیس کی نمائندگی کرنے پر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس منیشا روپیتا کی تعریف کی اور انتہا پسندی کے خلاف اور عوامی سلامتی کے لیے سندھ حکومت کی کوششوں کو سراہا۔دونوں جانب سے معذور افراد کے لیے اقدامات پر بھی بات ہوئی۔ نیتالی بیکر نے کہا کہ امریکی کمپنیاں بہرے بچوں کی تعلیم اور پیشہ وارانہ تربیت کے لیے معاونت میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بتایا کہ سندھ حکومت پہلے ہی تعلیم، تربیت اور بحالی کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے، امریکی اداروں کا تعاون ہمارے لیے انتہائی قیمتی ہوگا۔‘‘

جواب دیں

Back to top button