کمشنر کوئٹہ شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت امن و امان کی مجموعی صورتحال اور سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے اجلاس

کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت کوئٹہ ڈویژن میں امن و امان کی مجموعی صورتحال اور سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی، ایڈیشنل کمشنر آغا سمیع اللہ، اسسٹنٹ کمشنر پولیٹیکل سید محمد کلیم، ڈپٹی کمشنر پشین، محکمہ پولیس، اسپیشل برانچ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر چمن اور ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ اور دیگر سیکورٹی اداروں کے افسران نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔اجلاس کے دوران کوئٹہ ڈویژن میں امن و امان کی مجموعی صورتحال اور سیکیورٹی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے ہدایت کی کہ تمام ڈپٹی کمشنرز اپنے اضلاع میں ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کمیٹی (DICC) کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کریں تاکہ سیکیورٹی انتظامات مزید مؤثر بنائے جا سکیں۔انہوں نے ہدایت دی کہ میگا پروجیکٹس پر کام کرنے والے نان لوکل افراد کی نگرانی کو سخت کیا جائے، رات کے اوقات میں ٹرانسپورٹ کی نقل و حرکت محدود، چیک پوسٹوں پر اضافی نفری تعینات اور دفعہ 144 پر عمل درآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنرز کی جانب سے بتایا گیا کہ تمام اضلاع میں سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں، چیک پوسٹوں پر نفری میں اضافہ کیا گیا ہے، سنیپ چیکنگ، بلٹ پروف جیکٹس کی فراہمی، اور رات کے اوقات میں غیر ضروری ٹرانسپورٹ پر پابندی جیسے اقدامات جاری ہیں۔مزید بتایا گیا کہ تعلیمی اداروں میں بڑے اجتماعات کے حوالے سے بھی خصوصی حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جب کہ تمام رہائشی ہوٹلوں کی نگرانی کو سخت کرتے ہوئے وہاں مقیم افراد کا ڈیٹا باقاعدگی سے حاصل کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان انٹیلیجنس شیئرنگ کو بہتر بنانے، مشترکہ آپریشنز اور فوری معلومات کی فراہمی کے عمل کو بھی مزید فعال بنانے پر زور دیا گیا۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہ زیب خان کاکڑ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور سیکیورٹی ادارے اپنے فرائض کو بہتر انداز میں انجام دیں تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ چیک پوسٹوں پر رات کے اوقات میں اہلکاروں کی تعیناتی، بلٹ پروف جیکٹس کی فراہمی، ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے مزدوروں کے لیے خصوصی سیکیورٹی پلان اور دفعہ 144 پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ کمشنر کوئٹہ نے کہا کہ سنیپ چیکنگ، گشت میں اضافہ اور انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کا سلسلہ جاری رکھا جائے تاکہ امن و امان کی فضا برقرار رہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے مؤثر طور پر نمٹا جا سکے۔

جواب دیں

Back to top button