میئر کراچی کی ننھے ابراہیم کے واقعے پر پریس کانفرنس — ذمہ داری قبول، معافی کا اظہار، غفلت کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ننھے ابراہیم کے افسوسناک اور دل خراش واقعے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ ناقابلِ برداشت، شرمناک اور انتہائی دردناک ہے اور بحیثیت والد وہ اس غم کو شدت سے محسوس کر سکتے ہیں، ابراہیم کی والدہ کی چیخیں سن کر ان کے پاس الفاظ نہیں تھے، میں بھی بچوں والا ہوں، اور ایک باپ ہونے کے ناطے اس خاندان کے درد کا اندازہ لگا سکتا ہوں، اللہ نہ کرے کسی اور ماں کی گود اجڑے، ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس شہر کو محفوظ بنائیں، میں، میری ٹیم، اور شہر کی پوری انتظامیہ معافی کے طلبگار ہیں، میئر کراچی نے کہا کہ وہ الزام تراشی نہیں کریں گے بلکہ ذمہ داری قبول کرتے ہیں، بطور میئر میں کامیاب نہیں ہو سکا، اس لیے ندامت کا اظہار کرتا ہوں، معاملات الزام لگانے سے نہیں بلکہ درست فیصلوں سے بہتر ہوتے ہیں، میں کسی جماعت کا نہیں، کراچی کا میئر ہوں، ہم سب کو اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غم کے اس موقع پر سیاست یا الزام تراشی اخلاقی طور پر درست نہیں، میئر کراچی بیرسٹرمرتضی وہاب مرحوم ابراہیم کے گھر گئے، جہاں انہوں نے والد، دادا اور دیگر اہل خانہ سے ملاقات کی،انہوں نے کسی پر الزام تراشی کیے بغیر صرف اپنی جانب سے معافی مانگی، میئر نے کہاکہ اگر مناسب سمجھیں تو مجھے معاف کر دیں، اس سانحے نے مجھے ندامت میں مبتلا کیا ہے، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بچے کے دادا نے نہایت شفقت سے پیش آتے ہوئے کہا کہ ”جو عمر اللہ نے اس بچے کو دی تھی، وہ اسے پوری کر گیا“۔ دادا نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ایسے اقدامات کیے جائیں کہ آئندہ ایسا سانحہ کبھی نہ ہو، میئر کراچی نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ سندھ نے واقعے کے فوراً بعد اجلاس بلایا، جس میں تحقیقات کے آغاز اور ابتدائی اقدامات پر فیصلے کیے گئے، کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے متعلقہ انجینئر کو معطل کیا گیا، کے ایم سی کے سینئر ڈائریکٹر کو معطل کردیا گیا، ضلعی مختیار کار اور اسسٹنٹ کمشنر کو بھی معطل کیا گیا، ایس ایس پی ایسٹ اور متعلقہ ڈی ایس پی کو بھی معطل کرنے کی منظوری دی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ یہ صرف شروعات ہے، انکوائری مکمل ہونے پر مزید کارروائی ہوگی،ہم مثال قائم کرنا چاہتے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسا واقعہ دوبارہ نہ ہو، میئر کراچی نے کہا کہ 1122 کا عملہ اور سٹی وارڈنز موقع پر پہنچ گئے تھے لیکن عوامی ہجوم اور غیر ضروری مداخلت کے باعث ریسکیو آپریشن ٹھیک طرح نہیں ہو سکا، انہوں نے کہا کہ ”12 سے 14 لوگ مین ہول کے اردگرد کھڑے تھے، جس کی وجہ سے مشینری اور ریسکیو ٹیمیں کام نہ کر سکیں، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی کے قریب سے ڈمپر مشین لائی گئی لیکن ہجوم کی وجہ سے مؤثر طور پر استعمال نہ ہو سکی، میئر نے مطالبہ کیا کہ ایسے واقعات کے لیے ایک واضح ایس او پی ہونا ضروری ہے تاکہ ریسکیو ٹیمیں بغیر رکاوٹ کام کر سکیں، میئر کراچی نے کہا کہ شہر بھر میں 2 لاکھ 45 ہزار مین ہول کورز ہیں جن میں سے ایک سال میں 88 ہزار نئے کور لگائے گئے لیکن لوہے کے کورز زیادہ لگانے سے نشہ آور افراد انہیں چوری کر کے کباڑی مارکیٹوں میں فروخت کر دیتے ہیں، انہوں نے کہا کہ تھانے دار جانتا ہے چوری کا سامان کہاں بکتا ہے، وزیر داخلہ نے یقین دلایا ہے کہ کباڑی مارکیٹوں میں کارروائی کی جائے گی، فائبر کے کور بھی چوری ہو جاتے ہیں، اس کی روک تھام کے لیے اقدامات ہوں گے، میئر کراچی نے کہا کہ وہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے پولیس اور متعلقہ محکموں کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ ایک سال سے 1334 ہیلپ لائن فعال ہے جہاں شہری گٹر کے کھلے ڈھکن یا انفراسٹرکچر کے مسائل کی شکایت درج کرا سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں نے ریکارڈ چیک کیا ہے، اس مین ہول کے بارے میں کوئی شکایت درج نہیں ہوئی تھی، میر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ ٹاؤن چیئرمینوں کا بجٹ 5 لاکھ سے بڑھا کر 12 لاکھ ماہانہ کیا گیا ہے، کے ایم سی اور ٹاؤن دونوں کے پاس اربوں روپے کے وسائل موجود ہیں، اگر کہیں مین ہول کا ڈھکن غائب ہو تو فوری انتظامیہ کو اطلاع دی جائے، انہوں نے کہا کہ شہر کا انفراسٹرکچر بہتر بنانے کے لیے مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے تاکہ کسی اور بچے کے ساتھ ایسا سانحہ دوبارہ نہ ہو۔

جواب دیں

Back to top button