وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل افریدی نے صوبائی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ
عمران خان اور بشریٰ بی بی کو ناحق قید اور مسلسل آئسولیشن میں رکھا جا رہا ہے، عمران خان اور ان کی اہلیہ کو قید میں سردیوں کا سامان بھی فراہم نہیں کیا جا رہا ہے۔عمران خان کی بہنوں پر واٹر کینن چلانا اور بے عزتی کرنا شرمناک اقدام ہے، صوبائی حکومت اس ناروا اور غیر انسانی سلوک کی بھرپور مذمت کرتی ہے۔این ایف سی اجلاس میں صوبائی حقوق کے لیے سب کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو خوش آئند ہے، سب کمیٹی کی سربراہی صوبائی مشیر خزانہ کریں گے، واجبات کے حوالے سےسفارشات وفاق کو پیش کی جائیں گی۔واضح رہے کہ صوبے کے حقوق کے لیے تمام سیاسی و قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے۔وزیر اعلیٰ نے این ایچ پی اور این ایف سی بقایاجات پر محکمہ خزانہ کو ہر ہفتے وفاق کو خط ارسال کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے مزید کہا کہ ضم اضلاع کے لیے سالانہ 100 ارب روپے کا وعدہ کیا گیا تھا، سات سال میں صرف 168 ارب دیے گئے، 532 ارب اب بھی بقایا ہیں، تمام محکمے اپنے بقایاجات کے حوالے سے وفاق کو ہفتہ وار خط ارسال کریں تاکہ ساری چیزیں ریکارڈ پر ہوں۔آج نئے تعینات شدہ سیکرٹریز بھی کابینہ اجلاس میں موجود ہیں، آپ سب گواہ ہیں کہ آپ کو نئی ذمہ داریاں کسی سفارش پر نہیں بلکہ مکمل میرٹ پر دی گئی ہیں۔جس طرح میرٹ پر اپ کی تقرری کی گئیں ہیں اسی طرح اپ سے میرٹ کی بالادستی کی توقع ہے، اگر کسی کرپشن کی شکایت مجھے موصول ہوئی تو فورا اپ کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی۔وزیر اعلٰی نے تمام محکموں کو سال 2026-27 کے ترقیاتی منصوبوں کی شفارشات فروری کے وسط تک پیش کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ عوامی مفاد کے منصوبوں کو ترجیح دی جائےگی، تمام ترقیاتی کام عوام کی سہولت کے لیے ہوں.






