آزادجموں وکشمیرکابینہ کا اجلاس وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کی زیر صدارت بدھ کے روز وزیراعظم سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔کابینہ اجلاس میں ریکارڈ تیس پوائنٹ ایجنڈا پیش ہوا۔آزادجموں وکشمیر کابینہ کے اجلاس میں حکومتی محکمہ جات کی تعداد کو 20کرنے، آزادجموں وکشمیر احتساب بیورو ایکٹ آٹھویں ترمیم2025، محکمہ لوکل گورنمنٹ کے زیراہتمام سول رجسٹریشن فیس کے شیڈول، دوران ڈیوٹی زخمی یا فوت ہوجانے والے محکمہ برقیات کے جملہ ملازمین بشمول ورکچارج کیلئے مالی امداد و علاج معالجہ کی سہولیات کی فراہمی،پاور ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن ایکٹ 2024میں پانچویں ترمیم، نیلم جہلم ہائیڈروپاور پراجیکٹ کے حوالے سے واٹرپوٹینشل کے استعمال کیلئے دوطرفہ معاہدے، مہاجرین 1989-90کیلئے جاریہ سکیم کو سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے، منگلا ڈیم ہاؤسنگ اتھارٹی میرپور کے نظرثانی میزانیہ2024-25اورتخمینہ میزانیہ2025-26، سول ڈیفنس 1122سیکٹر سی نیوسٹی میرپور کے بجائے 1122 ایس ڈی ایم اے کو متبادل رقبہ کی الاٹمنٹ، یونیورسٹی آف حویلی کے اندوومنٹ فنڈ کے قیام، ہاوس جاب کرنیوالے ڈاکٹرز کووظیفے کی فراہمی/اضافے،عدالت العالیہ کے فیصلے کی روشنی میں سول سیکرٹریٹ کے ملازمین کو سپیشل الاؤنس 100فیصد کے بقایا جات کی ادائیگی، بینک آف آزادجموں کشمیر کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تعیناتی، محکمہ اوقاف کے نظرثانی میزانیہ2024-25اور2025-26، اسلامی نظریاتی کونسل کے تصفیہ طلب امور کے حوالے سے قائم کمیٹی کی سفارشات، شیڈول ٹیکس ٹاؤن کمیٹی کہوڑی ضلع مظفرآباد، بلدیاتی ادارہ جات کے لیے اضافی رقم برائے پنشن فنڈکی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں سابق وزیر اعظم کا ”اصولی منظوری” حاصل کرنے کا فیصلہ واپس لیکر محکمہ جات کو رولز آف بزنس کے تحت طے شدہ طریقہ کار اپنانے کی منظوری دی گئی۔ کابینہ کو تعلیمی پیکج اور محکمہ ہائرایجوکیشن کے استحکام کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ کابینہ کو نئی ٹرانسپورٹ پالیسی بارے بھی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں متعلقہ سیکرٹریز حکومت نے کابینہ کو جموں وکشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ طے شدہ معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کابینہ کو بتایاگیاکہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کیساتھ طے شدہ معاہدے کے مطابق ایف آئی آز کو ختم کرنے اور تینوں ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں ویمن اینڈ چلڈرن پولیس اسٹیشن کے قیام اور طے شدہ معاہدے کے مطابق پانچ کے وی اے بجلی کے ٹیرف کا نوٹیفکیشن جاری ہوچکا ہے۔ طے شدہ معاہدے کے مطابق شہداء کے لواحقین اور زخمیوں کو معاوضہ جات کی ادائیگی کی جارہی ہے، شہداء کے لواحقین میں سے ایک ایک شخص کو سرکاری ملازمت دینے کے حوالے سے درخواستیں وصول کی جارہی ہیں، میرپور اور راولاکوٹ میں تعلیمی بورڈز کی منظوری ہو چکی ہے، منگلا ڈیم اپ ریزنگ کے متاثرین کیلئے جگہ کی الاٹمنٹ کے حوالے سے 25دسمبر سے قبل رپورٹ تیارہوجائیگی، لوکل گورنمنٹ ایکٹ1990کو بحال کرنے کے لیے قائم کمیٹی کام کررہی ہے، ہیلتھ کارڈ کے حوالے سے سٹیٹ لائف انشورنس کمپنی سے معاملات آخری مراحل میں اور آئندہ کابینہ اجلاس میں اس کی تفصیل پیش کردی جائیگی۔ ضلعی ہسپتالوں میں MRIاور سی ٹی سکین مشینوں کی فراہمی وفاق نے جبکہ بجلی کے نظام کی اپ گریڈیشن کیلئے بھی وفاق نے 10ارب روپے دینے ہیں جونہی یہ فنڈز وفاقی سی ڈی ڈبلیو پی سے منظوری کے بعد فراہم ہونگے فوری عملدرآمد شروع ہوجائیگا۔ کابینہ کو بتایا گیاکہ میرپور انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے حوالے سے وفاقی حکومت کی جانب سے فزبیلٹی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے۔ کابینہ کو بتایا گیاکہ آزادکشمیر میں ٹرانسفرآف پرپراٹی پر ٹیکس کی شرح پنجاب کے برابر کر دی گئی ہے۔ نیلم جہلم ہائیڈروپراجیکٹ کے حوالے سے کابینہ نے مسودے کی منظوری دی جس کے مطابق آزادکشمیر کو فی یونٹ بجلی کی پیداوار پر 1روپے10پیسے رائلٹی ملے گی۔ اس کے علاوہ لیبرلاز اور ٹیکس کی ادائیگی بھی متعلقہ کام کرنے والی کمپنی یقینی بنائیگی۔اجلاس کو بتایا گیاکہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے معاہدے کے مطابق وفاق سے متعلقہ امور پر بھی کام جاری ہے۔ احتساب ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے کابینہ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم فیصل ممتازراٹھور نے کہاکہ ہمیں نے حقیقی معنوں میں احتساب کے عمل کو یقینی بنانا ہے لیکن احتساب کا ایسا نظام ہونا چاہیے جس میں کسی کو انتقام یا سیاسی طور پر نشانہ بنانے کی گنجائش نہ ہو، شکایت کا حق لازمی ہو لیکن اس کی سکروٹنی کے حوالے سے ایک جامع طریقہ کار واضح ہونا چاہیے۔ احتساب ایکٹ کا مس یوز قطعاً نہیں ہوناچاہیے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ دوران ڈیوٹی وفات یا زخمی ہونے والے محکمہ برقیات کے نہ صرف مستقل ملازمین بلکہ ہر صورت عارضی و ورکچارج ملازمین کو بھی مالی امداد اور علاج معالجہ کی سہولیات فراہم ہونی چاہیں۔ وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے معلمین قرآن کے معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی بھی ہدایت کی۔
کابینہ اجلاس میں منظور کیے گئے مسودےInclusion of Scheme ”Land Purshase/Acquisition for construction of Houses for Refugees 1989-90 & Onward” In ADP 2025-26شامل کرنے کی منظوری دی گئی جس کے تحت مہاجرین 1989-90کے لیے 750مکانات وفاقی حکومت کے تعاون سے تعمیر کیے جارہے ہیں، اس سکیم کی سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شمولیت سے جن علاقوں میں موذوں خالصہ سرکار موجود نہیں وہاں مکانات کی تعمیر کیلئے زمین خرید کی جائیگی۔ کابینہ کو تعلیمی پیکج کے حوالے سے سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سکینڈری ایجوکیشن اور سیکرٹری ہائرایجوکیشن نے بریفنگ دی۔ کابینہ اجلاس میں وزیر زراعت و لائیو سٹاک علی شان سونی نے سماہنی گریٹر واٹر سپلائی سکیم کو ریوائز اور اپ گریڈ کرنے پر بات کی۔ انہوں نے کریکٹر سرٹیفکیٹ کے اجراء کے عمل کوآسان بنانے اورخالصہ سرکار جو کہ مقبوضہ ہواور وہاں پر عرصہ سے تعمیرات ہو چکی ہوں پر حقوق ملکیت دینے کے حوالے سے بھی تجویز پیش کی جس پر بورڈ آف ریونیو کو سمری بنانے کی ہدایت کی گئی۔کابینہ اجلاس میں وزیر سیاحت سردار فہیم اختر ربانی کے بھائی کی وفات پر فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔






