محکمہ انڈسٹریز، کامرس و لیبر گلگت بلتستان نے صوبے بھر کے تمام صنعتی و تجارتی اداروں میں کام کرنے والے غیر ہنر مند اور نیم ہنر مند کارکنوں کے لیے کم از کم ماہانہ اجرت 40,000 روپے مقرر کر دی ہے۔ یہ فیصلہ یکم جولائی 2025ء سے نافذ العمل ہوگا۔یہ اقدام "گلگت بلتستان کم از کم اجرت ایکٹ 2019” کے تحت گلگت بلتستان کم از کم اجرت بورڈ کی سفارشات پر عملدرآمد کرتے ہوئے کیا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد صوبے کے محنت کش مزدور طبقے کے معیار زندگی میں واضح بہتری لانا اور ان کے معاشی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔نئی اجرت کی اہم تفصیلات و شرائط درج ذیل ہیں: نئی کم از کم اجرت کا اطلاق صوبے کے تمام سرکاری و نجی صنعتی اور تجارتی اداروں پر یکساں ہوگا۔ واضح رہے کہ یہ کم از کم اجرت ایک بنیادی شرح ہے، زیادہ سے زیادہ اجرت نہیں۔ موجودہ اجرتیں اگر اس نئی شرح سے زیادہ ہیں تو انہیں کم کرنا ممنوع ہوگا۔اداروں کو یہ پوری آزادی ہوگی کہ وہ ملازمین کے ہنر، تجربے، کارکردگی یا کسی خاص علاقے میں روزمرہ کی اشیاء کی بلند قیمتوں کے پیش نظر اس بنیادی شرح سے زیادہ اجرت دے سکیں۔
برابری کے اصول کے تحت، خواتین اور ٹرانس جینڈر کارکنوں کو مرد کارکنوں کے برابر کام کے عوض برابر اجرت دی جائے گی۔
· یہ قانون تمام اقسام کے کارکنوں بشمول مستقل، عارضی، کنٹریکٹ اور کام کی تعداد (پیس ریٹ) پر اجرت پانے والوں کو یکساں تحفظ فراہم کرے گا۔کارکنوں کو فی الوقت ملنے والی تمام اضافی مراعات و سہولیات، جیسے مکان کرایہ الاؤنس، طبی سہولیات، بونس، پروویڈنٹ فنڈ وغیرہ، اس نئی اجرت کے علاوہ برقرار رہیں گی۔محکمہ انڈسٹریز، کامرس اینڈ لیبر گلگت بلتستان کے ترجمان نے اس فیصلے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا، یہ فیصلہ محنت کش/مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکومت کی مضبوط عزم کا غماز ہے۔ یہ نہ صرف محنت کشوں کی قوت خرید بڑھائے گا بلکہ معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ دے گا۔ ہم تمام صنعتی و تجارتی اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس قانون کی بروقت اور مکمل نفاذ کو یقینی بنائیں۔






