صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کا نواں اجلاس ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ منصوبہ بندی اور ترقیات خیبرپختونخوا اکرام اللہ خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں پی ڈی ڈبلیو پی کے اراکین اور متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ فورم نے صوبے کی ترقی کے لیے روڈز، زراعت، سوشل ویلفیئر، لائیو سٹاک، انڈسٹریز، صحت، جنگلات اور آبپاشی سے متعلق 60 اہم منصوبوں کی منظوری دی۔منظور شدہ منصوبوں میں ڈی آئی خان میں مین سی آر بی سی اور ڈسٹریبیوشن سسٹم کی بحالی ،ضلع دیر (اپر) کلکوٹ میں آبپاشی چینل کی فراہمی، ضلع ڈی آئی خان اور ٹانک میں گومل زام آبپاشی نظام کی بحالی،ضلع ڈی آئی خان میں دریائے سندھ پر فلڈ پروٹیکشن ورکس کی بہتری و بحالی،خیبر پختونخواہ میں ایکسٹینشن سروسز کے ذریعے کلائمٹ سمارٹ زراعت کے فروغ، خیبر پختونخواہ میں بہتر زمین و واٹر کنزرویشن کے ذریعے زراعت کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کے لیے اقدامات،ضم شدہ اضلاع میں زراعت کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کے لیے اقدامات، خیبر پختونخواہ میں کیڑے مار ادویات اور کھادوں کی آمیزش کی نگرانی، مردان میں پشاور انسٹیٹوٹ آف کارڈیالوجی سیٹلائٹ سینٹر کا قیام،ضم شدہ اضلاع میں صحت سہولت خدمات کی فراہمی ، دیر لوئر میں تیمرگرہ میڈیکل کالج میں انتظامی بلاک کی تعمیر کی فیزیبلٹی اسٹڈی، نوشہرہ ضلع میں بی ایچ یو امان کوٹ تحصیل پبی کی مرمت اور بحالی کی فیزیبلٹی اسٹڈی،نوشہرہ ضلع میں آر ایچ سی ہسپتال اکبر پورہ کی توسیع کی فیزیبلٹی اسٹڈی، چارسدہ ضلع میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال میں ٹراما سینٹر کے قیام کی فیزیبلٹی اسٹڈی، مانسہرہ، سوات، ڈی ایچ کیو بنوں اور لوئر دیر میں کیتھ لیبز کے قیام کی فیزیبلٹی اسٹڈی، چارسدہ PK-64 اور ضلع بنوں میں کڈنی سینٹر کے قیام کی فیزیبلٹی اسٹڈی، کرک ضلع میں ڈی ایچ کیو ہسپتال کی کیٹگری B سے A میں ترقی کی فیزیبلٹی اسٹڈی، بونیر ضلع میں تحصیل گاگرا اور تحصیل چغرزئی میں واٹر سپلائی اور سینٹیشن و پی سی سی اسکیموں کی تعمیر، خیبر پختونخواہ میں موجودہ گیارہ ڈرگ ایڈکٹ ریہیبلٹیشن سینٹرز کی صلاحیت میں اضافہ اور ڈیٹوکس یونٹ کا قیام، ضم شدہ اضلاع میں انٹیگریٹڈ ڈویلپمنٹ فارسٹری سیکٹر پروجیکٹ، مہمند سنگ مرمر سیٹ میں انفراسٹرکچر کی ترقی، بنوں اکنامک زون میں 132KV گرڈ اسٹیشن کی تعمیر، خیبر پختونخواہ میں اومبڈسپرسن سیکرٹریٹ کی سٹرنتنگ،ضم شدہ اضلاع میں ڈی ریڈیکلائزیشن و ریہیبلٹیشن سینٹر ،ضم شدہ اضلاع میں پولیس اور لیویز کے لیے تربیتی پروگرامز اور ضروری سامان، ضم شدہ اضلاع میں ایچ ٹی اور ایل ٹی لائنز کی توسیع، ٹرانسفارمرز کی فراہمی،ایچ ٹی اور ایل ٹی لائنز کی بحالی اور 11kv فیڈرز کی تقسیم، اور گیسفیکیشن،ضم شدہ اضلاع کے ٹی ڈی پیز کے لیے فوری ریلیف
جبکہ سڑکوں کے فزیبلٹی سٹڈیز میں حسا، شوہائی مظلہ اور مانور، مانسہرہ سٹی، شہلیا، شوکت آباد پوچھر، مالو افضل آباد، عیدگاہ بفہ اور کھڑ میدان کی فیزیبلٹی اسٹڈی اور ڈیزائن، گھڑی حبیب اللہ سے بالاکوٹ موٹروے تک بلیک ٹاپ روڈ کی تعمیر کی فیزیبلٹی اسٹڈی اور ڈیزائن (18 کلومیٹر)، داروری مین روڈ کی بحالی کی فیزیبلٹی اسٹڈی اور ڈیزائن (18 کلومیٹر)، اندری روڈ کی بحالی کی فیزیبلٹی اسٹڈی اور ڈیزائن، مانسہرہ ٹور گھر روڈ کی فیزیبلٹی اسٹڈی اور ڈیزائن، سب پروجیکٹ کے تحت مچیسر سے پاکبان روڈ (14 کلومیٹر)، انڈس ہائی وے سے سرگل براستہ کامردند روڈ اور انڈس ہائی وے سے سڈل تک براستہ دھودا روڈ کی تعمیر کی فیزیبلٹی اسٹڈی اور ڈیزائن (36 کلومیٹر)، لنگڑا پل سے رشید ڈا کٹھا حویلیاں ضلع ایبٹ آباد تک نئی سٹی بائی پاس روڈ کی تعمیر کی فیزیبلٹی اسٹڈی اور ڈیزائن، کالو میرہ نوشہرہ پل حویلیاں کے تعمیر کی ڈیزائن اور فیزیبلٹی اسٹڈی، براستہ راجوئے بائی پاس سے گالڈھوک، صدرہ سیرگاہ، باغ، براگلی سے نتھیاگلی روڈ تک نیو روڈ کی تعمیر کی فیزیبلٹی اسٹڈی اور ڈیزائن (15 کلومیٹر)، پاسوال روڈ کی تعمیر اور بحالی بشمول برج یو سی پوا کی فیزیبلٹی اسٹڈی اور ڈیزائن، صوابی شامل ہیں۔






