وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں متعدد اہم فیصلے کیے گئے جن میں صوبے بھر میں زمین کے ریکارڈ کی ای ٹرانسفر اور ڈیجیٹلائزیشن کے لیے سندھ لینڈ ریونیو بل کی منظوری، موٹر تھرڈ پارٹی انشورنس کا نفاذ، ڈینش اسکولوں کے لیے زمین کی فراہمی، دی سٹیزنز فاؤنڈیشن کے ساتھ بلدیاتی اسکولوں کے انتظام کے معاہدے، بین الصوبائی رابطہ محکمے کے کردار کی تنظیم نو اور صوبائی و ضلعی سالانہ ترقیاتی پروگرام برائے مالی سال27-2026کے لیے رہنما اصولوں کی منظوری شامل ہے۔یہ اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں صوبائی وزرا، مشیران، خصوصی معاونین، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ اور متعلقہ سیکریٹریز نے شرکت کی۔
سندھ لینڈ ریونیو (ترمیمی) بل 2025
کابینہ نے سندھ لینڈ ریونیو (ترمیمی) بل میں ترامیم کی منظوری دی جن کے تحت زمین کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن اور صوبے بھر میں زمین کے مالکانہ حقوق کی ای ٹرانسفر کا نظام متعارف کرایا جائے گا اور بل کو سندھ اسمبلی کو ارسال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ یہ منصوبہ، جس کی منظوری 8 جولائی 2025 کو دی گئی تھی، ریکارڈ آف رائٹس کی ازسرنو تیاری اور تصدیق، بلاک چین پر مبنی ڈیٹابیس کے ذریعے زمین کے ڈیٹا کی ڈیجیٹلائزیشن اور زمین کی ملکیت کی ای ٹرانسفر کے نظام کی تیاری پر مشتمل ہے۔ پائلٹ مرحلہ ضلع مٹیاری کے دیہہ پلیجانی اور مٹیاری اور ضلع سکھر کے دیہہ باگڑجی میں نافذ کیا جا رہا ہے۔
قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے سندھ لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں جن میں انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی سے متعلق تعریفوں کا اضافہ، ریکارڈ آف رائٹس کی تعریف میں ڈیجیٹل ریکارڈ کو شامل کرنا اور ایک نئی دفعہ 42 اے کا اضافہ شامل ہے جس کے تحت حکومت کو ڈیجیٹلائزیشن اور ای ٹرانسفر سے متعلق قواعد بنانے کا اختیار حاصل ہوگا۔ کابینہ نے بورڈ آف ریونیو اور سکھر آئی بی اے کی کاوشوں کو سراہا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سندھ اسمبلی سے بل کی منظوری کے بعد اس قانون کا نفاذ ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے اس قانون کو عوامی مفاد، شفافیت اور درستگی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔
موٹر تھرڈ پارٹی انشورنس
کابینہ نے صوبے میں لازمی موٹر تھرڈ پارٹی انشورنس کے نفاذ پر عملدرآمد کا جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر محکمہ ایکسائز نے انشورنس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے ساتھ کلیم کی ادائیگی کے عمل کو آسان بنانے کے لیے مشاورت کی۔وزیراعلیٰ نے محکمہ ایکسائز کو ہدایت دی کہ باقاعدہ بیمہ شدہ گاڑیوں کے حادثات میں معاوضے کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے انشورنس سہولت ڈیسک قائم کرنے، انڈسٹری میں یکساں پریمیم ریٹس نافذ کرنے، چوبیس گھنٹے ہیلپ لائن، اور انشورنس سروےئرز کے ذریعے متاثرین اور قانونی ورثا کی رہنمائی کی ہدایات بھی دیں۔ وزیراعلیٰ نے کابینہ سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ موٹر تھرڈ پارٹی انشورنس کا نفاذ آئندہ مالی سال سے کیا جائے گا۔ انہوں نے اسٹامپ ڈیوٹی پانچ سو روپے سے کم کر کے پچاس روپے کرنے اور تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس پر سیلز ٹیکس پندرہ فیصد سے کم کر کے پانچ فیصد کرنے کی تجاویز بھی منظور کیں۔مراد علی شاہ نے موٹر سائیکلوں کو لازمی انشورنس سے مستثنیٰ قرار دینے کی منظوری دی، جو موٹر وہیکلز قانون میں ترامیم کے ذریعے تجویز کی گئی تھیں۔ اس اقدام کا مقصد سڑک حادثات میں متاثر ہونے والے تیسرے فریق کو معاوضہ فراہم کرنا اور سندھ بھر میں نجی اور تجارتی گاڑیوں کے ڈرائیورز کو انشورنس کوریج دینا ہے۔ سندھ کابینہ کے زیر جائزہ تجویز کے مطابق موٹر وہیکلز قانون میں مؤثر انداز میں موٹر تھرڈ پارٹی انشورنس کے نفاذ کے لیے ترامیم کی جائیں گی۔موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965 میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں جنہیں منظوری کے لیے سندھ اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ موٹر وہیکلز ایکٹ 1939 کی دفعات 19 اور 20 میں بھی ترامیم تجویز کی گئی ہیں جن کا بنیادی مقصد دو پہیہ گاڑیوں، یعنی موٹر سائیکلوں کو لازمی تھرڈ پارٹی انشورنس سے مستثنیٰ قرار دینا ہے۔ سندھ اسمبلی سے منظوری کے بعد یہ ترامیم آئندہ مالی سال سے صوبے میں موٹر تھرڈ پارٹی انشورنس کے نفاذ کے لیے قانونی فریم ورک فراہم کریں گی۔
بلدیاتی اسکولوں کے انتظام کے لیے ٹی سی ایف کے ساتھ شراکت
کابینہ نے ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز ملیر، چنیسر اور لیاری اور دی سٹیزنز فاؤنڈیشن کے درمیان کراچی کے منتخب بلدیاتی اسکولوں کے انتظام کے لیے کنسیشن اور لائسنس معاہدوں کی منظوری دی۔ یہ اقدام سندھ رائٹ آف چلڈرن ٹو فری اینڈ کمپلسری ایجوکیشن ایکٹ 2013 کے مطابق ہے جس کے تحت اکیس اسکولوں میں طلبہ کو مفت معیاری تعلیم، بشمول ٹیوشن، یونیفارم اور تعلیمی مواد فراہم کیا جائے گا۔معاہدوں کے تحت دی سٹیزنز فاؤنڈیشن پچیس سال کی مدت کے لیے، باہمی رضامندی سے قابل توسیع، اسکولوں کی تعمیر، تزئین و آرائش اور انتظام سنبھالے گی، جبکہ ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز زمین اور عمارتیں بلا معاوضہ فراہم کریں گی۔ کابینہ کی منظوری کے بعد منتخب اسکولوں کی فوری تزئین و آرائش اور انہیں فعال بنانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے، جس سے کراچی میں ہزاروں طلبہ مستفید ہوں گے۔
نظرثانی شدہ کردارِ محکمہ بین الصوبائی رابطہ
کابینہ نے تفصیلی غور و خوض کے بعد سندھ حکومت کے قواعدِ کار 1986 میں ترمیم کی تجویز کی منظوری دی جس کے تحت محکمہ بین الصوبائی رابطہ کے دائرۂ اختیار کی ازسرِنو وضاحت کی گئی تاکہ دہرا پن ختم ہو اور بین الصوبائی ہم آہنگی کو مضبوط بنایا جا سکے۔ نظرثانی شدہ فریم ورک کے تحت محکمہ بین الصوبائی رابطہ کونسل آف کامن انٹرسٹس، بین الصوبائی رابطہ کمیٹی اور دیگر بین الصوبائی فورمز کا انتظامی محکمہ ہوگا جبکہ وزیراعلیٰ اور چیف سیکریٹری کو تحقیق پر مبنی مشاورت اور اسٹریٹجک معاونت فراہم کرنے کے لیے پالیسی تھنک ٹینک کے طور پر بھی کام کرے گا۔کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ اس سے قبل زراعت، صنعت، سرمایہ کاری، معدنیات، ثقافت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اسکلز ٹریننگ اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ اتھارٹی جیسے دیگر محکمے محکمہ بین الصوبائی رابطہ کے متعدد امور انجام دے رہے تھے۔ قواعد میں کی گئی ترامیم کا مقصد ذمہ داریوں کو منظم کرنا اور وفاقی حکومت اور دیگر صوبوں کے ساتھ رابطہ بہتر بنانا ہے۔ محکمہ قانون نے اس تجویز کی توثیق کی جبکہ محکمہ سروسز، جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈینیشن نے سفارش کی کہ کونسل آف کامن انٹرسٹس سے متعلق امور مکمل طور پر محکمہ بین الصوبائی رابطہ کے سپرد کیے جائیں اور موجودہ اوورلیپنگ اندراج حذف کیا جائے۔ کابینہ نے ان تبدیلیوں کی منظوری دے دی جس سے بین الصوبائی اور وفاقی فورمز پر سندھ کی مؤثر نمائندگی اور پالیسی ہم آہنگی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
سالانہ ترقیاتی پروگرام27-2026 کے رہنما اصول
کابینہ نے صوبائی اور ضلعی سالانہ ترقیاتی پروگرام برائے مالی سال27-2026کی تیاری کے لیے رہنما اصولوں کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے تمام انتظامی محکموں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے مجوزہ منصوبوں کو حکومت کے معاشی ایجنڈے سے ہم آہنگ کریں، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ نئے منصوبے منظور شدہ ترقیاتی حکمتِ عملی کے مطابق ہوں اور ان کے نتائج واضح اور قابلِ پیمائش ہوں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مضبوط ترقی، سیلاب سے متاثرہ انفراسٹرکچر کی بحالی و تکمیل اور غیر ملکی معاونت سے چلنے والے منصوبوں کے لیے ہم پلہ فنڈز کی فراہمی پر خصوصی زور دیا گیا۔مراد علی شاہ نے محکموں کو ہدایت کی کہ اہداف کے تعین کے لیے ملٹی ڈائمینشنل پاورٹی انڈیکس، مردم شماری اور ملٹی انڈیکیٹر کلسٹر سروے جیسے تازہ ترین ڈیٹا ذرائع استعمال کیے جائیں، منصوبہ بندی و ترقی محکمہ کی کمیٹی کے ذریعے اسکیموں کے دہرا پن سے بچا جائے اور تمام سالانہ ترقیاتی پروگرام اسکیموں کے لیے جی پی ایس ٹیگنگ اور آن لائن تصدیق کو یقینی بنایا جائے۔ جاری منصوبوں کو ترجیح دی گئی جن کے لیے کم از کم اسی فیصد بجٹ مختص کرنے کی ہدایت کی گئی، جبکہ تکمیل کے قریب منصوبوں یا علامتی رقوم والے منصوبوں کو معقول بنانے، مرحلہ وار ختم کرنے یا حذف کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔نئے منصوبے جو متعلقہ فریقین سے مشاورت کے بعد تیار کیے جائیں گے موسمیاتی لحاظ سے مضبوط انفراسٹرکچر، صحت، تعلیم، آبپاشی، زراعت، پانی کی فراہمی، نکاسیٔ آب، شہری رابطہ، کاربن کریڈٹ کی تیاری، اور جامع و صنفی حساس سماجی تحفظ پر مرکوز ہوں گے۔ محکموں کو مالی وسائل کی کمی والے منصوبوں کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے امکانات تلاش کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔ ضلعی سالانہ ترقیاتی پروگرام27-2026 کے لیے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی گئی کہ وہ ضلعی اسکیموں کی بروقت تیاری اور منظوری کو یقینی بنائیں جس میں ڈپٹی کمشنر پراجیکٹ ڈائریکٹر اور کمشنر پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر کے فرائض انجام دیں گے۔وزیراعلیٰ نے تمام رہنما اصولوں پر سختی سے عملدرآمد پر زور دیا جن میں نجی زمین کے استعمال سے گریز، شعبہ جاتی ترجیحات کی پابندی، پائیدار ترقیاتی اہداف اور موسمیاتی اقدامات کا ادغام اور صوبائی و وفاقی سالانہ ترقیاتی پروگرام اور اسٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ پروگرام کے ساتھ ہم آہنگی شامل ہے تاکہ ترقیاتی اثرات کو زیادہ سے زیادہ بنایا جا سکے۔ کابینہ نے صوبے بھر میں صنعتی علاقوں کی ترقی کے لیے دو ارب نوے کروڑ روپے کی منظوری بھی دی۔اس موقع پر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ شہر کے تمام صنعتی علاقوں میں سڑکوں اور نکاسیٔ آب کے نظام کی مرمت اور بہتری کی جائے گی۔ انہوں نے صنعتی ترقی کے لیے سندھ حکومت کے عزم کا اعادہ کیا اور اعلان کیا کہ صوبے کے دیگر شہروں کے صنعتی علاقوں اور اسٹیٹس کے لیے بھی الگ پیکجز متعارف کرائے جائیں گے۔ محکمہ صنعت ان اسٹیٹس کی ترقی پر کام کر رہا ہے اور منصوبوں کی حتمی منظوری کے بعد پیکجز کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔ایک اور ضمنی معاملے پر وزیراعلیٰ نے تیئس اضلاع میں منعقدہ کھلی کچہریوں کے انعقاد اور کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہوں نے امن و امان، پولیس، صحت، بلدیاتی خدمات، پانی کی فراہمی، سڑکوں، آبپاشی اور تعلیم سے متعلق شکایات کا نوٹس لیا۔ وزیراعلیٰ نے تمام افسران کو ہدایت دی کہ عوامی شکایات فوری طور پر حل کی جائیں اور رپورٹ پیش کی جائے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کھلی کچہریوں کا دوبارہ آغاز جنوری کے دوسرے ہفتے سے کیا جائے گا، اور اگر شکایات کا مناسب ازالہ نہ ہوا تو متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔






