وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت ری وائیٹلائزیشن آف پشاور پلان سے متعلق اجلاس

صوبائی وزیر بلدیات و اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں پلان پر مؤثر عملدرآمد کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔وزیرِاعلیٰ سُہیل آفریدی نے شہر میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، سیوریج، ڈرینج اور واٹر سپلائی کے نظام کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ اربن فارسٹیشن کے فروغ کی بھی ہدایت کی۔

والڈ سٹی اور ہارٹیکلچر اتھارٹی کے قیام کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ابتدائی ہوم ورک شروع کرنے کا حکم دیا.وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ پشاور صوبے کا چہرہ ہے اور اسے خوبصورت بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ پشاور کی اپ لفٹ کے لیے تمام وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کیے جائیں گے۔ری وائیٹلائزیشن پلان کے تحت 34 مرکزی شاہراہوں پر مشتمل 165 کلومیٹر سڑکوں کی اپگریڈیشن، اپ لفٹنگ، لائٹنگ اور بیوٹیفیکیشن کی جائے گی۔ اس کے علاوہ نئے ذبح خانوں کی تعمیر، نئی سبزی منڈیوں کا قیام اور بس اڈوں کی اپگریڈیشن بھی پلان کا حصہ ہے۔ٹریفک مسائل کے حل کے لیے ورٹیکل پارکنگ، نئے انڈر پاسز اور فلائی اوورز تعمیر کیے جائیں گے۔ پیر زکوڑی فلائی اوور تا سوری پل اور امن چوک تا کارخانوں کے حصے میں بجلی کی تاروں کو انڈر گراؤنڈ کیا جائے گا۔ اسی طرح پیر زکوڑی انٹر سیکشن پر کلوور لیف انٹرچینج کی تعمیر بھی منصوبے میں شامل ہے۔پشاور کے موجودہ پارکوں کی اپ لفٹنگ کی جائے گی جبکہ دریائے کابل کے کنارے ایک نیا تھیم پارک تعمیر کیا جائے گا۔ حیات آباد انڈسٹریل اسٹیٹ تا نادرن بائی پاس لنک روڈ اور ناصر باغ روڈ تا ریگی ماڈل ٹاؤن مسنگ لنک کی تعمیر بھی پلان کا حصہ ہے۔ حیات آباد میں ہائی ٹیک چلڈرن پارک کے قیام کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔وزیرِ اعلیٰ سُہیل آفریدی نے صفائی کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے نئے روڈز الیکٹرک کلینرز کی خریداری، سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کے قیام اور شاہی کٹھہ کی بحالی کی ہدایت کی۔اجلاس میں تاریخی ورثے کے تحفظ پر بھی زور دیا گیا اور گور گھٹری، سیٹھی حویلی اور بی بی جان مزار کو اصل حالت میں بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔چوک یادگار میں اسٹیٹ آف دی آرٹ فوڈ اسٹریٹ قائم کی جائے گی۔ وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے ہدایت کی کہ ری وائیٹلائزیشن پلان پر عملدرآمد کے لیے واضح ٹائم لائنز مقرر کی جائیں اور پیشرفت کو ہر صورت یقینی بن کر جائے

جواب دیں

Back to top button