سندھ فوڈ اتھارٹی کے زیر انتظام تیل اور گھی کی صنعت کے مسائل کے حل اور قائد و ضوابط کے لیے تشکیل دیے گئے 20 رکنی سائنٹیفک پینل کا پہلا اجلاس کراچی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں فوڈ سیفٹی کے معیار کو بہتر بنانے اور تیل و گھی کی صنعت کو درپیش چیلنجز پر غور کیا گیا۔اجلاس میں پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی فوڈ اتھارٹیز کے نمائندوں، مختلف جامعات کے فوڈ ماہرین، اور صنعت کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کا آغاز ڈائریکٹر ٹیکنیکل سندھ فوڈ اتھارٹی ڈاکٹر احمد علی شیخ کی استقبالیہ کلمات سے ہوا، جنہوں نے اجلاس کے ایجنڈے پر شرکا کو بریفنگ دی۔

اجلاس میں ریٹیل مارکیٹ میں کھلے تیل کی فروخت پر پابندی کی سفارش کی گئی کیونکہ یہ انسانی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ سائنٹیفک پینل نے پیکنگ کے سخت اصول و ضوابط اور تیل و گھی کے تمام مصنوعات پر غذائی معلومات کی لازمی لیبلنگ کی تجویز دی تاکہ صارفین کو محفوظ اور معیاری خوراک فراہم کی جا سکے۔
اجلاس میں بڑی صنعتوں جیسے کہ نمکو اور اسنیکس بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے کھلے تیل کی خریداری کے طریقہ کار پر بھی غور کیا گیا۔ پینل نے اس بات پر زور دیا کہ یہ عمل فوڈ سیفٹی کے معیار پر پورا نہیں اترتا اور سفارش کی کہ کھلے تیل فراہم کرنے والے سپلائرز کے لیے سرٹیفکیشن کا عمل متعارف کرایا جائے اور باقاعدہ معائنہ کے ذریعے غذائیت، صفائی اور معیار کو یقینی بنایا جائے۔
پینل نے ٹرانس فیٹ کے قواعد و ضوابط کی عدم تعمیل پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ مختلف صنعتوں سے حاصل کردہ نمونوں میں ٹرانس فیٹ کی مقدار 2 فیصد کی حد سے زیادہ پائی گئی۔ پینل نے فوری اصلاح، شعور بیدار کرنے کی مہمات، اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی تاکہ ٹرانس فیٹ کے اصولوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
ڈائریکٹر جنرل سندھ فوڈ اتھارٹی مزمل حسین ہالیپوٹو نے اجلاس کے دوران اس بات کا اعادہ کیا کہ پینل کی سفارشات آئندہ کے ضوابط کے لیے بنیاد فراہم کریں گی اور محفوظ تیل و گھی کی دستیابی کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ مزمل حسین ہالیپوٹو نے حالیہ طور پر سندھ فوڈ اتھارٹی اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت کا بھی ذکر کیا۔ اس معاہدے کے تحت سندھ کے 8 اضلاع میں گندم کے آٹے کی فورٹیفکیشن کو یقینی بنایا جائے گا، جن میں کراچی سینٹرل، کراچی ایسٹ، ملیر، میرپورخاص، سکھر، خیرپور، شہید بینظیر آباد، اور نوشہرو فیروز شامل ہیں۔ مزمل حسین ہالیپوٹو نے بتایا کہ کھلے کھانے کے تیل کی غیر منظم فروخت انسانی صحت کے لیے شدید خطرہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ فوڈ اتھارٹی ان خطرناک عملوں جیسے کہ بار بار ایک ہی تیل کا استعمال روکنے کے لیے سختی سے عمل کر رہی ہے۔
*سندھ فوڈ اتھارٹی اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے درمیان آٹے کی فورٹیفکیشن کے لیے معاہدہ*
سندھ فوڈ اتھارٹی اور ورلڈ فوڈ پروگرام نے “چھوٹی چکیوں کے ذریعے مکمل گندم کے آٹے کی فورٹیفکیشن” کے منصوبے کو سندھ میں لاگو کرنے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ اس منصوبے کا مقصد گندم کے آٹے کو ضروری مائیکرو نیوٹرینٹس سے مالا مال کر کے کمزور طبقات کی غذائی صحت کو بہتر بنانا ہے۔ معاہدے پر دستخط ڈائریکٹر جنرل سندھ فوڈ اتھارٹی مزمل حسین ہالیپوٹو اور ورلڈ فوڈ پروگرام کی نمائندہ اور کنٹری ڈائریکٹر پاکستان، مس کوکو اُشی یاما نے کیے۔ اس معاہدے کے تحت سندھ فوڈ اتھارٹی چکیوں کی رجسٹریشن، فورٹیفکیشن کی توسیع، اور فوڈ سیفٹی کے ضوابط پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔ ورلڈ فوڈ پروگرام چکیوں میں مائیکرو فیڈرز کی تنصیب، ضروری فورٹیفکیشن پری مکس کی فراہمی، اور معیار کو برقرار رکھنے کے لیے عملے کی تربیت فراہم کرے گا۔ یہ شراکت داری غذائی قلت کے مسائل کو حل کرنے اور صحت مند اور توانا آبادی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے گی۔






