وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کے اجلاس میں تعلیم، ثقافت، سیکیورٹی، زراعت، ماحولیاتی اقدامات، بنیادی ڈھانچے اور سماجی تحفظ سے متعلق مالی، انتظامی اور پالیسی نوعیت کے وسیع فیصلوں کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ فیصلوں پر بروقت عمل درآمد، شفافیت اور قابلِ پیمائش نتائج کو یقینی بنایا جائے۔اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزرا، مشیران، خصوصی معاونین، چیف سیکریٹری اور متعلقہ سیکریٹریز نے شرکت کی۔ کابینہ نے اپنے گزشتہ اجلاس کی کارروائی کی توثیق بھی کی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح صرف منظوری نہیں بلکہ عملی ترسیل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عوامی فنڈز کا براہِ راست اثر عوامی خدمات اور معیارِ زندگی میں بہتری کی صورت میں نظر آنا چاہیے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کابینہ سے منظور ہونے والا ہر روپیہ شفاف طریقے سے خرچ ہو اور اس کی کڑی نگرانی کی جائے۔
*تعلیم، ثقافت اور ورثہ*
کابینہ کمیٹی برائے خزانہ کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے کابینہ کو مختلف سفارشات سے آگاہ کیا۔ کابینہ نے این۔ای۔ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، کراچی کے گرلز ہاسٹل میں دوسری منزل کی تعمیر کے لیے 19کروڑ2 لاکھ 11 ہزار روپے کی اسکیم کی منظوری دی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ طالبات کے لیے رہائشی سہولیات میں اضافہ اعلیٰ تعلیم میں خواتین کے داخلوں کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے کابینہ نے سکھر میں سینٹ سیویئرز چرچ اور حیدرآباد میں سینٹ تھامس کیتھیڈرل چرچ کی بحالی اور مرمت کے لیے کل لاگت کا 50 فیصد یعنی 10 کروڑ 95 لاکھ روپے منظور کیے جبکہ باقی فنڈز آئندہ مالی سال میں فراہم کیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ کا ورثہ تمام برادریوں کی مشترکہ میراث ہے اور اسے احترام اور وقار کے ساتھ محفوظ رکھا جانا چاہیے۔کابینہ نے کراچی لٹریچر فیسٹیول کے لیے 3 کروڑ روپے اور سندھ آرکائیوز کو مضبوط بنانے کے لیے 10 کروڑ روپے کی منظوری بھی دی جس میں نایاب مخطوطات کی اشاعت، پرانے اخبارات کا تحفظ، ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن اور اورل ہسٹری و آرکائیول گیلری کا قیام شامل ہے۔
*ترقیاتی منصوبے، سڑکیں اور مقامی اسکیمیں*
محکمہ ورکس اینڈ سروسز کے شعبے میں ضلع مٹیاری میں بیگو کاکا سے ایگرو راہو تک تین کلومیٹر طویل لنک روڈ کی بحالی کی منظوری دی گئی جس کے لیے مالی سال 2025 تا 2026 کے دوران 3 کروڑ37 لاکھ 58 ہزار روپے جاری کیے جائیں گے۔ ضلع سجاول اور شکارپور میں سڑکوں کی تعمیر اور مرمت کی متعدد اسکیمیں، جن میں شکارپور میں شری کھٹ واری دربار کی تزئین و آرائش بھی شامل ہے، انٹرا سیکٹرل سیونگز کے ذریعے منظور کی گئیں۔وزیراعلیٰ نے منصوبہ بندی و ترقی اور محکمہ خزانہ کو ہدایت کی کہ منصوبوں کی مدت اور معیار پر کڑی نظر رکھی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تاخیر اور لاگت میں اضافے کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
*سیکیورٹی اور گورننس*
داخلی سیکیورٹی کے حوالے سے کابینہ نے اصولی طور پر صوبائی انٹیلیجنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر کے فعال قیام کے لیے 1 ارب 24 کروڑ روپے کی منظوری دی۔ اس پیکیج میں آلات، عملے، دیکھ بھال اور گاڑیوں کے اخراجات شامل ہیں۔ تاہم کابینہ نے ہدایت کی کہ گاڑیوں کی خریداری کا معاملہ کابینہ کمیٹی برائے کفایتی اقدامات کے سامنے پیش کیا جائے۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ سیکیورٹی اداروں کو مضبوط بنانا ضروری ہے تاہم مالی نظم و ضبط اور ہر اخراجات کی معقول توجیہ بھی لازم ہے۔کابینہ نے صوبے بھر میں پائیدار ترقیاتی اہداف سے متعلق سینکڑوں اسکیموں کے لیے تصدیقی اور فنڈز کے اجرا کے طریقہ کار کی بھی منظوری دی، جبکہ سندھ لوکل گورنمنٹ بورڈ کے نو تعینات افسران کے لیے دو ہفتوں کے تعارفی تربیتی پروگرام کے لیے چودہ کروڑ روپے کی منظوری دی گئی۔
*شوگر سیکٹر کی ڈی ریگولیشن*
کابینہ کو وفاقی حکومت کے اس منصوبے پر بریفنگ دی گئی جس کے تحت 2026 تک پاکستان کے شوگر سیکٹر کو مکمل طور پر ڈی ریگولیٹ کرنے کا ارادہ ہے۔ سندھ، جو قومی گنے کی پیداوار میں 26 فیصد حصہ ڈالتا ہے اور 16 اضلاع میں 38 شوگر ملیں رکھتا ہے نے مرحلہ وار منتقلی کی ضرورت پر زور دیا۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ کاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ لازمی بنایا جائے جس میں تھرڈ پارٹی ویئنگ، ادائیگی کے شفاف اوقات اور کم پیداوار والی ممنوعہ اقسام کی پیشگی اطلاع شامل ہو۔ انہوں نے کہا کہ کارکردگی کسانوں کی قیمت پر حاصل نہیں کی جا سکتی اور منتقلی کے دوران قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے نمٹنے کے لیے حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔ اس مقصد کے لیے ایک وزارتی کمیٹی تشکیل دی گئی جو آئندہ کابینہ اجلاس میں تفصیلی سفارشات پیش کرے گی۔
*گندم کی امداد اور سیلابی بحالی*
کابینہ نے فلڈ ایمرجنسی ری ہیبیلیٹیشن فنڈ میں 61 کروڑ روپے کے اضافے کی منظوری دی جس کے بعد فنڈ کی مجموعی رقم 2 ارب 76 کروڑ روپے ہو گئی۔ یہ اضافہ کرنسی میں اتار چڑھاؤ کے باعث پہلے نظر انداز ہونے والے کاشتکاروں کو کور کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 56 ارب روپے کے سندھ گندم کاشتکار امدادی پروگرام کا آغاز بھی کیا گیا جس کے تحت کاشتکاروں کو 22 ہزار روپے فی ایکڑ فراہم کیے جائیں گے۔وزیراعلیٰ نے محکمہ زراعت کو ہدایت کی کہ سیلابی امداد سے متعلق 8 ہزار 105 زیر التوا شکایات 2025 کے اختتام تک حل کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ امداد میں تاخیر عوامی اعتماد کو مجروح کرتی ہے اور اسے فوری طور پر حل کیا جانا چاہیے۔
*ماحولیاتی اقدامات اور کاربن فنانس*
ایک اہم فیصلے کے تحت کابینہ نے سندھ کلائمیٹ چینج فنڈ اور سندھ کلائمیٹ چینج بورڈ کے قیام کی منظوری دی۔ اس فنڈ کی بنیادی مالی اعانت کاربن کریڈٹ کی فروخت سے حاصل ہونے والی خالص آمدن پر بارہ فیصد کورسپانڈنگ ایڈجسٹمنٹ فیس کے ذریعے کی جائے گی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ اپنے آئینی اور مالی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ایسی کسی پالیسی کو مسترد کیا جائے گا جس کے تحت صوبے کے غیر استعمال شدہ ماحولیاتی فنڈز کی دوبارہ تقسیم کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اپنے حصے کا تحفظ کرے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ماحولیاتی مالیات براہِ راست کمزور طبقات کو فائدہ پہنچائیں۔
*صحت، فلاح و بہبود اور انفراسٹرکچر*
*شوکت خانم میموریل ٹرسٹ:*
کابینہ نے شوکت خانم میموریل ٹرسٹ کو ایک سال کے لیے انفراسٹرکچر سیس سے استثنیٰ دینے کی منظوری دی، اس کے غیر منافع بخش کینسر اسپتال ہونے کی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے اور جان بچانے والے طبی آلات کی درآمد میں سہولت فراہم کی۔
*حیدرآباد سکھر موٹروے (ایم سکس):*
انفراسٹرکچر کے شعبے میں کابینہ نے حیدرآباد سکھر موٹروے کے لیے زمین کے حصول کی مد میں 1 ارب 13 کروڑ روپے سے زائد کی رقم کے اجرا کی توثیق کی جبکہ سندھ پبلک ریسورسز فار انکلیوسیو ڈیولپمنٹ پروگرام کے لیے عالمی بینک کے ساتھ 100 ملین ڈالر کے مذاکراتی پیکیج کی بھی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے گیارہویں نیشنل فنانس کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنس کا جائزہ لینے کے لیے ایک آزاد قانونی فرم کی خدمات حاصل کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔
*ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو:*
ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو کی خدمات کے دائرہ کار میں توسیع کے لیے 19 کروڑ 27 لاکھ45 ہزار روپے کی اضافی رقم کی منظوری دی گئی جبکہ صوبائی ملازمین کے لیے صحت بیمہ کوریج کی تجدید کرتے ہوئے مجموعی فنڈنگ 55 کروڑ روپے سے بڑھا کر 65 کروڑ روپے کر دی گئی۔اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ منظور شدہ اقدامات پر تیزی، دیانت داری اور جوابدہی کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے۔ انہوں نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کو باقاعدگی سے پیش رفت رپورٹس جمع کرائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ہدف کاغذی کارروائی نہیں بلکہ زمینی نتائج ہیں۔






