خیبرپختونخوا میں مقامی حکومتیں گزشتہ چار سال سے پی ٹی آئی وزیر اعلیٰ محمود خان کے کے دور حکومت میں کی گئی ترامیم کیوجہ سے مفلوج ہیں مقامی حکومتوں کے انتخابات پر خطیر رقم خرچ ہونے کے باوجود بھی صوبائی حکومت کے غیر آئینی غیر قانونی ترامیم کیوجہ سے عوام کو وہ فایدہ نہیں پنچ سکا جو پنچنا چاہیے تھا۔

بلدیاتی نمایندگان نمایندہ تنظیم لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا نے مختلف اوقات میں شدید احتجاج و احتجاجی دھرنے کیے مگر ہر احتجاج پر بلدیاتی نمائندوں کا استقبال آنسو گیسوں، شیلنگ، لاٹھی چارج گرفتاریوں سے کیا گیا۔خیبرپختونخوا کے بلدیاتی نمائندوں کیساتھ مختلف وزیراعلیٰ محمود خان، سردار علی آمین گنڈاپور سمت نگران دور میں وزیر اعلیٰ نے مختلف وعدے کیے مگر کوئی بھی حکومت اپنے کسی وعدے کو عملی جامہ نہیں پہنا سکی جو کہ اس بات کا ثبوت پیش کرتی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کا نعرہ اختیارات نچلی سطح پر منتقلی ہے مگر درحقیقت اس نعرے پر عمل تحریک انصاف کے کسی بھی حکومت میں دیکھائی نہیں دے رہا ہے جس پر اج خیبرپختونخوا کے عوام سوال اٹھا رہی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا وژن اختیارات کو نچلی سطح منتقلی تھا مگر پی ٹی آئی دور حکومت میں ہی بلدیاتی نظام کو معذور و مفلوج کیا گیا۔

بلدیاتی نظام کو دیوار سے لگانے میں سابقہ وزیر اعلیٰ محمود خان، سردار علی آمین گھنڈاپور و انکی حکومت نے کوئی کثر بھی نہیں چھوڑی۔وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے جب حلف اٹھایا تو بلدیاتی نمائندوں کو بہت ہی امیدی تھی مگر وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے پاس تو اتنا ہی وقت نہیں کہ کم از کم بلدیاتی نمائندوں کیساتھ ملاقات کرکے انکہ مسائل سن لے۔ مقامی حکومتوں کے مسائل کے حل میں کردار ادا کریں۔لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کیطرف سے 29 اکتوبر، 30 دسمبر اور 8 جنوری 2026 کو ملاقات کے لیے تحریری خطوط جمع ہوچکے ہیں مگر ابھی تک وزیر اعلیٰ کی طرف سے ملاقات کے لیے کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔بلدیاتی نمائندوں کے 14 جنوری 2026 احتجاج کے موقع پر بلدیاتی نمائندوں کے مذاکراتی کمیٹی اور وزیر بلدیات، سکٹریری بلدیات کے درمیان طے پایا تھا کہ ایک ہفتے کے اندر اندر وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کیساتھ میٹنگ فکس کرکے مقامی حکومتوں کے مسائل میں اہم سنگ میل ثابت ہوگی مگر باوجود جنوری کا مہینہ گزرنے کو ہے مگر ابھی تک وزیر اعلیٰ کیطرف سے ملاقات کے لیے وقت مقرر نا ہوسکا جس پر خیبرپختونخوا کے 29 ہزار بلدیاتی نمائندوں کو شدید تشویش ہیں۔ رابطہ کرنے پر کوارڈنیٹر لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا انتظار علی خلیل کا کہنا تھا کہ بلدیاتی نمایندے گزشتہ چار سال سے ترقیاتی فنڈز و اختیارات سے محروم ہیں۔ ترقیاتی فنڈز و اختیارات عدم فراہمی کے باوجود بھی خیبرپختونخوا کے بلدیاتی نمایندے اج بھی مضبوط حوصلے رکھے ہوئے عوامی خدمت کی ہر ممکن کوشیش کرریے ہیں مگر صوبائی حکومت کی عدم توجہی مسائل کے حل میں عدم دلچسپی کیوجہ سے خیبرپختونخوا کے بلدیاتی نمایندے ایک دفعہ پر بھرپور احتجاج پر مجبور ہوکر سڑکوں کا رخ کرینگے۔انتظار خلیل نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، وزیر بلدیات مینا خان آفریدی، سکٹریری بلدیات سے پرزور اپیل کی ہے کہ فوری طور پر مقامی حکومتوں کے مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے مقامی حکومتوں کو آئین پاکستان کے 140 اے کے مطابق فعال مضبوط کیا جائے اور خیبرپختونخوا میں گزشتہ چار سالوں سے جو بدترین ظلم مقامی حکومتوں کیساتھ کیا گیا اسکا ازالہ کیا جائے۔






