مری ڈویلپمنٹ پلان کے تحت 27 سکیموں میں پیشرفت کا جائزہ ،وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت اجلاس

وزیر بلدیات پنجاب ذیشان رفیق کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ میں منعقدہ اجلاس کے دوران مری ڈویلپمنٹ پلان کے تحت 27 سکیموں میں پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں، سپیشل سیکرٹری آسیہ گل، ایڈیشنل سیکرٹری ماریہ طارق اور دیگر نے شرکت کی۔ ڈپٹی کمشنر مری نے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس کو ڈویلپمنٹ پلان پر بریفنگ دی۔ صوبائی وزیر بلدیات نے کہا کہ وزیراعلی مریم نواز شریف کی ہدایت پر مری میں پانی کے نیٹ ورک کی اپ گریڈیشن سمیت دیگر منصوبے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اہم سیاحتی مرکز میں ڈرینج اور سٹریٹ لائٹس سروسز کو بھی اپ گریڈ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مری کے لئے واٹر سکیمیں تین مراحل میں مکمل ہوں گی۔ پہلے مختصر المدت سکیم شروع کریں گے۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ مختصر مدتی سکیم میونسپل کمیٹی مری مکمل کرے گی جبکہ درمیانی اور لمبی مدت کی سکیمیں پی ایچ ای ڈی کے سپرد کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واٹر سکیموں کی ابتدائی لاگت کا تخمینہ 635 ملین روپے ہے۔ صوبائی وزیر نے مختصر مدتی سکیمیں 8 ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ڈونگا گلی، ڈھر جاوا، کھانی ٹک، مسوط اور کشمیر پوائنٹ میں اپ گریڈیشن ہوگی۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ ستمبر میں کام شروع ہو جائے گا۔ شدید سردی والے مہینوں کے بعد دوبارہ کام کا آغاز کر کے جون میں تکمیل کا ٹائم فریم دیا گیا ہے۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ لانگ ٹرم سکیم میں مری کے پانی کے ذخائر کو قابل استعمال بنایا جائے گا۔ اس مقصد کے لئے پانی کے 8 چشموں کو بروئے کار لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ طویل مدتی سکیمیں 18 ماہ میں مکمل ہوں گی۔ ان پر 5 ارب روپے سے زائد لاگت آئے گی۔ علاوہ ازیں مری میں 81 ملین روپے کی لاگت سے ڈرینج کی 13 سکیمیں بھی تیار کی گئی ہیں۔ صوبائی وزیر نے ڈپٹی کمشنر مری کو یکم اگست تک سکیموں کی منظوری دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مری میں 83 ملین روپے کی لاگت سے سٹریٹ لائٹس کی 4 سکیمز بھی ساتھ ہی شروع ہونگی جبکہ سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر و مرمت پر 1.4 ارب روپے خرچ کئے جائیں گے۔ ذیشان رفیق نے ہدایت کی کہ مری کی گلیوں میں سیاحتی مقام کے نکتہ نظر سے ایسی خوبصورت ٹائلنگ استعمال کی جائے جو سیاحوں کو بھی اچھی لگے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی مریم نواز شریف مقامی آبادی اور سیاحوں کو ہر ممکن سہولیات مہیا کرنا چاہتی ہیں۔ انشااللہ مری کے مسائل جلد حل ہوں گے۔ سیاحوں کو بھی فرق نظر آئے گا۔

جواب دیں

Back to top button