خیبرپختونخوا صحت کارڈ پلس کے تحت مفت او پی ڈی سروسز فراہم کرنے والا پہلا صوبہ بن گیا،علی امین گنڈاپور نے اجراء کر دیا

یونیورسل ہیلتھ کوریج کو یقینی بنانے کے لئے خیبر پختونخوا حکومت کا ایک اور منفرد اقدام۔ خیبر پختونخوا کے عوام کے لئے ایک اور بڑی خوشخبری۔وزیراعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کی خصوصی ہدایت پر صحت کارڈ اسکیم میں مفت او پی ڈی سروسز بھی شامل، وزیراعلیٰ ہاؤس میں صحت کارڈ کے تحت او پی ڈی سروسز کے اجراء کی تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔ وزیراعلٰی علی امین خان گنڈاپور تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ وزیراعلیٰ نے صحت کارڈ کے تحت او پی ڈی سروسز کا باضابطہ اجراء کردیا۔ یہ اسکیم بطور پائلٹ پراجیکٹ ضلع مردان میں شروع کی جا رہی ہے۔ اس مفت او پی ڈی سہولت سے ضلع مردان کے 50 ہزار مستحق خاندان مستفید ہونگے۔ دوسرے مرحلے میں ضلع چترال، ملاکنڈ اور کوہاٹ میں بھی یہ اسکیم شروع کی جائے گی. اس اسکیم کے تحت او پی ڈی میں ادویات، ٹیسٹس اور میڈیکل سروسز مفت دستیاب ہونگی۔ یہ پائلیٹ پراجیکٹ جرمن تنظیم کے ایف ڈبلیو کے تعاون سے شروع کیا جا رہا ہے جسے بعد میں توسیع دی جائے گی۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا کی بنیاد پر مذکورہ 4 اضلاع کے تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار مستحق خاندان اس سہولت سے مستفید ہوں گے۔ مفت او پی ڈی سہولت پہلے سے صحت کارڈ کے پینل پر موجود ہسپتالوں کے علاوہ یونین کونسلز کی سطح پر تمام بنیادی مراکز صحت اور دیہی مراکز صحت میں بھی دستیاب ہوگی۔ خیبرپختونخوا صحت کارڈ پلس کے تحت مفت او پی ڈی سروسز فراہم کرنے والا پہلا صوبہ بن گیا ہے۔وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کا صحت کارڈ کے تحت او پی ڈی سروسز کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے فخر ہے میرے لیڈر کا وژن فلاحی ریاست کا ہے اور خیبر پختونخوا حکومت اس کی تکمیل کر رہی ہے، پی ٹی آئی کی حکومت محدود پیمانے پر شروع ہونے والے صحت کارڈ کو پورے صوبے تک توسیع دے چکی ہے۔ صحت کارڈ کے تحت داخل مریضوں کو تو مفت علاج کی سہولت ملتی ہے لیکن او پی ڈی مریضوں کو نہیں، اب صحت کارڈ کے تحت مستحق او پی ڈی مریضوں کو بھی مفت علاج کی سہولت میسر ہوگی، او پی ڈی اسکیم کو صوبے کے 4 اضلاع سے بطور پائلٹ پراجیکٹ شروع کر رہے ہیں۔ پائلٹ پراجیکٹ میں ڈی آئی خان شامل نہیں جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ میں پورے صوبے کا وزیراعلیٰ ہوں۔ ماضی میں وزیراعلیٰ جس ضلع کا ہوتا تھا سارے ترقیاتی منصوبے وہاں ہوتے تھے، اب یہ نہیں ہوگا۔ نگران دور حکومت میں صحت کارڈ بند ہو چکا تھا، ہم نے اسے بحال کیا، ہم نے صحت کارڈ کے تحت خدمات کے ریٹس بڑھائے، اس کے باوجود ہم ماہانہ 1 ارب روپے کی بچت کر رہے ہیں، یہ بچت صرف بہترین مانیٹرنگ اور شفافیت کی بدولت ہو رہی ہے۔ ہماری حکومت آنے سے پہلے صحت کارڈ کے تحت 70 فیصد علاج پرائیویٹ اسپتالوں میں ہوتا تھا، ہم نے سرکاری اسپتالوں کا معیار بلند کیا، عوام کا اعتماد بحال کیا تو اب 70 فیصد علاج سرکاری اسپتالوں میں ہوتا ہے، صوبے کے مختلف ریجنز میں دل کے امراض کے لیے کارڈیک سیٹلائٹ سنٹرز بنا رہے ہیں۔چار ہزار مستحق بچیوں کی سرکاری خرچے پر شادی کرا رہے ہیں، دو لاکھ روپے جہیز دے رہے ہیں، صوبے کے شہریوں کے لیے لائف انشورنس اسکیم لارہے ہیں، 60 سال سے کم عمر کے شخص کے ورثاء کو 10 لاکھ، 60 سال سے زائد عمر کے شخص کے ورثاء کو 5 لاکھ روپے حکومت دے گی۔ ہم نے اپنی آمدن میں 55 فیصد اضافہ کیا ہے، صوبے میں 176 ارب روپے کا سرپلس پڑا ہے، صوبائی حکومتوں کو آئی ایم ایف کے جو ٹارگٹ دیئے گئے تھے وہ صرف ہم نے پورے کیے۔ آئی ایم ایف نے بھی ہمارے ٹارگٹ کے حصول کی تائید کی ہے، باقی کسی صوبے نے وہ ٹارگٹ حاصل نہیں کیے۔

جواب دیں

Back to top button