*مقامی حکومتوں کے انتخابات اور الیکشن کمیشن* تحریر:زاہد اسلام

پاکستان کے آئین اور الیکشن ایکٹ2017 کے مطابق پاکستان میں منتخب مقامی حکومتوں کو قائم کرنا صوبوں کی ذمہ داری اور آئینی پابندی بھی ہے اور انتخابی عمل کی تکمیل الیکشن کمیشن آف پاکستان کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ انتخابی عمل میں ووٹرز کی رجسٹریشن۔ حلقہ بندیاں انتخابی شیڈول کا بروقت اعلان اور مروجہ قانون کے مطابق مقامی حکومتوں کے باقاعدگی سے انتخابات الیکشن الیکشن کمیشن کی جملہ ذمہ داریاں ہیں۔ایسا 2001 کے بعد سے لے کر اب تک ہوتا آ رہا ہے۔ جبکہ اسے قبل بھی مقامی حکومتوں کے چھ کے لگ بھگ انتخابات ہو ئے تھے۔جن کے لیے صوبائی سطح کی الیکشن اتھارٹیاں ہوتی تھیں۔اسی طرح حلقہ بندی اتھارٹیاں ہوتی تھیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان بھی آزاد اور خود مختار وفاقی ادارہ ہے۔ جو چیف الیکشن کمیشنر اور چار دیگر فاضل ممبران پر مشتمل ہوتا ہے۔ چند سال قبل چیف الیکشن کمیشنر سپریم کورٹ کے جج (ریٹائرڈ) ہوا کرتے تھے۔ پہلی بار ہے کہ چیف کا تعلق پاکستان کی اعلی سروسز سے ہے۔ الیکشن کمیشن خاصا خود مختار اور آزاد حیثیت میں کام کرتا ہے اور بااختیار بھی ہوتا ہے۔

مقامی حکومتوں کے حوالہ سے ایک قانون مجبوری ہے کہ انتخابی شیڈول کے اعلان سے قبل متعلقہ صوبائی حکومت سے مشاورت کرنا ہوتی ہے اور یہیں سے انتخابی عمل میں تاخیر شروع ہو جاتی ہے۔ تاہم عدالتوں کے مداخلت سے انتخابات کا انعقاد ممکن ہو جاتا ہے۔ باقاعدگی اور تسلسل متاثر ہوتی ہے۔ مگر انتخابات ہو جاتے ہیں۔ 2013 ء میں انتخابات اسی عمل سے گزرے۔ تا ہم ان کی تکمیل(انتخابات)دو سال میں 2015 میں ہوئے تھے پھر ان کا دورانیہ مکمل ہوا تو نئے انتخابات کا عمل بھی ایک سالہ تاخیر کا شکار ہو،ا مگر پنجاب اور اسلام آباد وفاقی علاقہ میں دوسرا دورانیہ بھی گزر گیا کہ مختلف مقامی حکومت نہ آ سکیں۔ دلچسپ آمر یہ ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان پنجاب اور اسلام آباد وفاقی دارالخلافہ میں چار چار بار انتخابی عمل شروع کر کے اور نامکمل واپس لیتا آ رہا ہے اور کئی بار صوبہ پنجاب اور وفاقی حکومت کو تنبیہ نوٹس بھی دے جا چکے ہیں۔ مگر عجب تماشا ہے کہ نئے انتخابات کا انعقادمشکل نظر آتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف ملک کی 42 چھاؤنیوں میں کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات کے دو دفعہ دورانیہ بھی مکمل ہو رہا ہے۔ اور تیسرے انتخابات کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں، کیونکہ وہاں کے لیے الیکشن کمیشن پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔انتخابی عمل smoothly جاری رہاہے۔

ملک کے دیگر تین صوبوں میں صرف بلوچستان کا شہر کوئٹہ ہی ایسا شہر ہے جہاں منتخب حکومتیں قائم نہیں ہو سکیں وہاں بھی اب ملک کی آئینی عدالت نے تین ماہ بھی انتخابی عمل کا آغاز کرنے کا حکم صادر کر دیا ہے۔(رٹ پٹیشن منظور کرتے ہوئے) مگر پنجاب میں کیا مسائل ہیں۔ قانون آ چکا ہے۔ جو حکومت وقت کی منشا کے مطابق ہے۔ اب مقامی حکومتوں کی ڈیمارکیشنDemarcation کا عمل جاری ہے۔ جو مکمل ہی نہیں ہو رہا۔ الیکشن رولز ڈرافٹ ہو چکے ہیں۔ مگر ان کا حتمی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ آخراس تاخیر اور دھیمی رفتار کا کوئی جواز تو بنتا ہو۔اسی طرح اسلام آباد وفاقی علاقہ میں انتخابی عمل آخری لمبے میں دبادیا گیا اور پھر اپ تک شروع نہیں ہوا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں اب ایک چار رکنی کمیٹی بنائی جو حکومت پنجاب کی معاونت کرے تاکہ مقامی حکومت کی نشاندہی ایک عمل جلد از جلد مکمل کیا جا سکے۔ مگر پھر کوئی خبر نہیں آئی کہ کیا پیشرفت ہوئی۔اسی طرح وفاقی حکومت کا رویہ ہے آرڈیننس تو اگیا۔ لیکن اسے پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا گیا تو کیا جاے گا تو کیا بنے گا۔اور انتخابی عمل کب شروع ہوگا۔ یہ سوالیہ نشانات ہیں۔جہاں متعلقہ حکومتیں ذمہ دار ہیں۔ وہاں یہ الیکشن کمیشن کی بھی آئینی ذمہ داری ہے۔ کہ وہ پنجاب اور اسلام آباد اور کوئٹہ میں منتخب مقامی حکومتوں کے حوالہ سے جاری 10 سالہ تاخیر کو ختم کرانے کے لیے اپنا اثر ورسوخ بروئے کار لائے۔ الیکشن کمیشن اتنا ہی بے اختیار نہیں ہے۔ دو صوبائی حکومتیں بھی مسلسل اس کے احکامات تو نظر انداز کرتی چلی ا ٓرہی ہیں۔جبکہ عوامی مطالبہ بھی جلد از جلد منتخب مقامی حکومتوں کو فعال بنانے کے لیے نئے انتخابات کا فوری انعقاد پر مبنی ہے۔

جواب دیں

Back to top button