*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری جائزہ اجلاس،رجسٹرڈ چھوٹے کاشت کاروں پر 5 بوری فی ایکڑ کی حد ختم*

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سال 2026 کی جاری گندم خریداری مہم کا جائزہ لیا اور اسکیم کے تحت رجسٹرڈ چھوٹے کاشتکاروں کو فی ایکڑ پانچ بوری کی حد ختم کرتے ہوئے اپنی مرضی کے مطابق گندم فراہم کرنے کی اجازت دے دی۔انہوں نے محکمہ خوراک کو ہدایت دی کہ خریداری کے عمل کو تیز کیا جائے، کاشتکاروں کو فوری ادائیگیاں یقینی بنائی جائیں اور صوبائی ہدف کے حصول کے لیے فیلڈ سطح پر رابطوں کو مزید مضبوط بنایا جائے۔اجلاس میں وزیر اطلاعات شرجیل میمن، وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری وزیراعلیٰ (پی ایس سی ایم) آغا وسیم، سیکریٹری زراعت زمان ناریجو، سیکریٹری خوراک عباس نائچ، اعلیٰ حکام اور سندھ بینک کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ گندم خریداری مہم کا آغاز یکم اپریل سے کیا گیا، جس کا ہدف 10 لاکھ میٹرک ٹن مقرر ہے جبکہ امدادی قیمت 3,500 روپے فی 40 کلو رکھی گئی ہے۔ یہ پروگرام صوبے بھر میں تقریباً 19 لاکھ 40 ہزار ایکڑ رقبے پر کاشت کرنے والے 3 لاکھ 32 ہزار سے زائد کاشتکاروں پر مشتمل ہے۔وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان نے بتایا کہ اب تک مجموعی ہدف 9 لاکھ 73 ہزار 900 میٹرک ٹن کے مقابلے میں تقریباً 8 ہزار 958 میٹرک ٹن گندم خریدی جا سکی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ہدف حاصل نہ ہونے کی بڑی وجہ چھوٹے کاشتکاروں پر فی ایکڑ پانچ بوری کی پابندی تھی۔اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے فوری طور پر فی ایکڑ پانچ بوری کی حد ختم کر دی اور چھوٹے کاشتکاروں کو بغیر کسی مقدار کی پابندی کے حکومت کو گندم فروخت کرنے کی اجازت دے دی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ کاشتکاروں کو ادائیگیوں کے نظام میں نمایاں بہتری لائی گئی ہے اور اب سندھ بینک کے ذریعے ایک دن کے اندر رقم منتقل کی جا رہی ہے۔ اب تک 198.3 ملین روپے کاشتکاروں کو ادا کیے جا چکے ہیں۔وزیراعلیٰ نے ادائیگی کے بہتر نظام پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بروقت ادائیگی کاشتکاروں کے اعتماد کے لیے نہایت اہم ہے، ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ ہر کاشتکار کو فوری اور شفاف ادائیگی ہو۔مراد علی شاہ نے ضلعی انتظامیہ، محکمہ زراعت اور محکمہ خوراک کو ہدایت دی کہ خریداری مہم کو مزید تیز کیا جائے اور کاشتکاروں کی زیادہ سے زیادہ شرکت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام اہل کاشتکاروں کو ترغیب دی جائے کہ وہ اپنی گندم سرکاری خریداری مراکز پر لائیں، یہ نہ صرف غذائی تحفظ بلکہ کاشتکاروں کی معاونت کے لیے بھی ضروری ہے۔انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو گندم فروخت کرنے والے کاشتکار آئندہ بھی سبسڈی اور معاونتی پروگرامز کے اہل رہیں گے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ اسسٹنٹ کمشنرز اور مختیارکار باقاعدگی سے خریداری مراکز کے دورے کر رہے ہیں جبکہ محکمہ زراعت کے افسران کاشتکاروں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ شکایات کے ازالے کے لیے کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے اور سہولت کے لیے مزید 12 خریداری مراکز بھی کھول دیے گئے ہیں۔وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ خریداری مراکز کی سخت نگرانی کی جائے تاکہ شفافیت یقینی بنائی جا سکے اور کسی بھی بدعنوانی کا خاتمہ ہو۔انہوں نے کہا کہ بے ضابطگیوں کے لیے زیرو ٹالرنس ہونا چاہیے، پورا عمل کاشتکار دوست اور مؤثر ہونا ضروری ہے۔مراد علی شاہ نے تمام محکموں کے درمیان قریبی رابطہ رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ رکاوٹوں کو فوری دور کر کے آپریشنل کارکردگی بہتر بنائی جائے۔انہوں نے ہدایت دی کہ غیر فعال خریداری مراکز کو فوری فعال بنایا جائے اور کم خریداری والے اضلاع میں لاجسٹک انتظامات کو مضبوط کیا جائے۔اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ گندم خریداری مہم کاشتکاروں کی معاونت اور صوبے میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم اقدام ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے کاشتکار ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، ہم منصفانہ قیمت، بروقت ادائیگی اور مؤثر پالیسیوں کے ذریعے ان کی معاونت جاری رکھیں گے۔

جواب دیں

Back to top button