*سندھ میں فیول سبسڈی سکیم کے تحت 146.77 ملین روپے جاری*

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ فیول سبسڈی اسکیم کے تحت اب تک 3,976 گاڑیوں کے کیسز پروسیس کیے جا چکے ہیں، جن میں 146.77 ملین روپے جاری کیے گئے ہیں جبکہ 5,000 سے زائد کیسز قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) کی عدم مطابقت، آئی بین کی عدم موجودگی اور ڈیٹا میں تضادات کے باعث زیرِ جائزہ ہیں۔یہ بات ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لیے متعارف کرائی گئی ٹارگٹڈ فیول سبسڈی کے نفاذ کے جائزہ اجلاس میں سامنے آئی، جو حالیہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں شروع کی گئی تھی۔ وزیراعلیٰ نے حکام کو ہدایت دی کہ ادائیگیوں کے عمل کو تیز کیا جائے اور ساتھ ہی ڈیٹا کی درستگی اور نفاذ کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے۔یہ اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل میمن، وزیر ایکسائز مکیش کمار چاؤلہ، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری وزیراعلیٰ (پی ایس سی ایم) آغا وسیم، سیکریٹری آئی پی سی آصف اکرام، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی، سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، سیکریٹری ایکسائز سلیم راجپوت اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ یہ سبسڈی پروگرام وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اشتراک سے چلایا جا رہا ہے جس کا مقصد مال بردار ٹرانسپورٹرز اور پبلک سروس گاڑیوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ سندھ اب تک 11,980 اہل گاڑیوں کا ڈیٹا جمع کرا چکا ہے۔وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ اب تک 3,976 گاڑیوں کے کیسز مکمل کیے گئے ہیں جن میں 146.77 ملین روپے جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ 5,000 سے زائد کیسز ڈیٹا کی خامیوں کے باعث زیرِ غور ہیں۔تاخیر اور واپس آنے والے کیسز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے ہدایت دی کہ تمام محکمے ترجیحی بنیادوں پر ڈیٹا کے مسائل حل کریں اور زیادہ سے زیادہ اہل ٹرانسپورٹرز تک بلا تاخیر ریلیف پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریلیف حقیقی مستحق ٹرانسپورٹرز تک فوری پہنچنا چاہیے، نامکمل یا غلط ڈیٹا کی وجہ سے تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے محکمہ ٹرانسپورٹ اور ایکسائز کو ہدایت دی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں تاکہ زیر التوا کیسز کو نمٹایا جا سکے اور تصدیقی عمل کو مؤثر بنایا جا سکے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ نے بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل اصلاحات کا آغاز کیا ہے، جن میں موٹر وہیکل انسپیکشن (ایم وی آئی)، پروونشل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (پی ٹی اے) اور ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) کے نظام کی آٹومیشن شامل ہے جبکہ ایکسائز، ٹریفک پولیس اور نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے ساتھ انضمام بھی کیا جا رہا ہے۔وزیراعلیٰ نے ان اقدامات کو سراہتے ہوئے ہدایت دی کہ ڈیجیٹل نظام کو مزید مضبوط کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے نااہلیوں کا خاتمہ، شفافیت میں اضافہ اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کی مؤثر نگرانی یقینی بنائی جائے۔مراد علی شاہ نے روٹ پرمٹ اور فٹنس سرٹیفکیٹ کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ رجسٹریشن میں خامیوں اور کمزور نفاذ کے باعث کئی گاڑیاں غیر قانونی طور پر چل رہی ہیں۔انہوں نے ہدایت دی کہ کسی بھی گاڑی کی رجسٹریشن یا منتقلی روٹ پرمٹ کی تصدیق کے بغیر نہ کی جائے، ٹریفک پولیس کے ذریعے فیلڈ میں نفاذ کو مزید سخت کیا جائے اور خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کی بالادستی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی، بغیر پرمٹ یا فٹنس سرٹیفکیٹ کے چلنے والی گاڑیاں برداشت نہیں کی جائیں گی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ٹرانسپورٹ، ایکسائز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی سبسڈی اور ریگولیٹری اقدامات کے مؤثر نفاذ کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاری آٹومیشن اور انضمام کے عمل سے غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کو باقاعدہ نظام میں لانے، قوانین پر عملدرآمد بہتر بنانے اور حکومتی امداد کی ہدفی فراہمی یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ سبسڈی اسکیم کا مقصد ٹرانسپورٹ سیکٹر کو مستحکم کرنا اور عوام کو ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری ترجیح ٹرانسپورٹرز کی معاونت کے ساتھ شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانا ہے، ہر مستحق فرد کو بروقت اور منصفانہ ریلیف ملنا چاہیے۔

جواب دیں

Back to top button