سکردو کے سدپارہ گلگت بلتستان کے وہ لوگ ہیں جو مغربی کوہ پیماؤں کے لیے صرف ایندھن کا کام کرتے ہیں، جو یہاں ایڈونچر کے لیے آتے ہیں۔ سدپارہ نسل کے لوگوں کو اپنی بقا کے لیے کوہ پیمائی جیسے مشقت طلب کام کرنے پڑتے ہیں۔ یہ گائیڈز اور سہولت کار اکثر جدید تربیت اور مناسب آلات کے بغیر کام کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی بے وقت موت مقدر بن جاتی ہے۔مراد سدپارہ بھی ایسے ہی حالات کا شکار ہوا۔ سدپارہ کوہ پیماؤں میں موت کی شرح کے حوالے سے کوئی حتمی اعدادوشمار موجود نہیں ہیں، لیکن قراقرم جیسے خطے میں کوہ پیمائی کرنا انتہائی خطرناک ہے، جہاں سدپارہ نسل کے لوگ اکثر گائیڈ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان مقامات کی بلندی، سخت موسم، اور دشوار گزار راستے حادثات اور ہلاکتوں کا سبب بنتے ہیں۔تین سال قبل، سدپارہ کے لیجنڈری کوہ پیما علی سدپارہ بھی K2 کی چوٹی سر کرنے کی کوشش کے دوران، فروری 2021 میں، جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ یہ واقعہ اس کمیونٹی کے کوہ پیماؤں کو درپیش خطرات کی نشاندہی کرتا ہے۔اگرچہ علی سدپارہ کی موت کے واقعے کو میڈیا میں کافی توجہ ملی، لیکن مجموعی طور پر پہاڑوں میں مرنے والے تمام سدپارہ کوہ پیماؤں کے اعدادوشمار عام طور پر دستیاب نہیں ہیں، جس کی وجہ سے ان کی صحیح تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
Read Next
2 ہفتے ago
گلگت بلتستان میں 22 سال بعد بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری،2 اگست پولنگ
4 ہفتے ago
نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس (ر) یار محمد کی چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز علی خان سے ملاقات
4 ہفتے ago
سکردو میں 250 بستروں پر مشتمل سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال کا تعمیراتی کام آخری مراحل میں داخل،سیکرٹری صحت آصف اللہ خان
مئی 17, 2026
آذربائیجان کے اعلیٰ سطحی وفد کا سکردو کا دورہ، گلگت اور سکردو میں جدید آسان خدمت مراکز قائم کیے جائیں گے
مئی 15, 2026
UNDP briefs Additional Chief Secretary GB on TIAEWS Project
Related Articles
ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب امیدواروں،سیاسی جماعتوں،رہنماؤں کو فوری نوٹسز جاری کئے جائیں،چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان
مئی 9, 2026
نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس (ر) یار محمد کی جانب سے گلگت بلتستان یونین آف جرنلسٹس کے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد
اپریل 28, 2026



