وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے چین کے صوبے ہوبے کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی، جس میں زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، تعلیم، فنی تربیت، تجارت اور دیگر اہم شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کرتے ہوئے بدھ کے دن ووہان میں صوبہ ہوبے کے گورنر لی ڈیان شون اور کمیونسٹ پارٹی کے صوبائی سیکریٹری گوان شیاؤتاؤ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور چین کی دیرینہ دوستی کو ٹھوس سماجی و اقتصادی ترقی کے منصوبوں میں تبدیل کرنے، تجارت کو فروغ دینے اور عوامی سطح پر روابط مزید مستحکم کرنے پر توجہ دی گئی۔
سندھ کے ساتھ ہوبے کی قیادت کا تعاون بڑھانے کا عزم
ہوبے کے گورنر لی ڈیان شون نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور ان کے وفد کا ووہان آمد پر خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان اور چین کے درمیان گہری اور دیرینہ دوستی کو سراہا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کو باہمی اعتماد اور اسٹریٹجک تعاون پر مبنی ایک ناقابلِ شکست رشتہ قرار دیا۔ گورنر لی نے سندھ کے ساتھ صوبائی سطح پر تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے ہوبے کے پختہ عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہوبے کا مضبوط صنعتی ڈھانچہ، جدید مینوفیکچرنگ کی صلاحیتیں اور عالمی معیار کے تحقیقی ادارے مشترکہ منصوبوں کے لیے وسیع امکانات فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہوبے جدید زراعت، ڈیجیٹل صنعتوں، فنی تربیت اور کاروباری اداروں کے درمیان شراکت داری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے۔ اس تعاون سے چین پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) کے اگلے مرحلے میں باہمی فائدے اور ترقی کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔پاک چین اکنامک کوریڈور (سی پیک) کے اگلے مرحلے میں تعاون
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی ملک کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات علاقائی اور عالمی چیلنجز کے باوجود مسلسل مستحکم رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات 21 مئی 1951ء کو قائم ہوئے تھے۔ پاکستان کو ان اولین ممالک میں شامل ہونے پر فخر ہے جنہوں نے عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ہوبے کے کاروباری اداروں کو سی پیک کے اگلے مرحلے میں بھرپور شرکت کی دعوت دی، بالخصوص ماحول دوست ترقی، زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے، ہنرمندی کے فروغ اور کاروباری اداروں کے درمیان شراکت داری کے شعبوں میں سرمایہ کاری اور تعاون کی حوصلہ افزائی کی۔
جدید زراعت اور زرعی تحقیق میں شراکت داری
ملاقات میں زراعت تعاون کا ایک اہم موضوع رہی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے چین کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے ایک ہزار پاکستانی زرعی گریجویٹس کو تربیت فراہم کی، جن میں سے متعدد نے ہواژونگ زرعی یونیورسٹی میں تعلیم و تربیت حاصل کی۔ انہوں نے باغبانی کی فصلوں سے متعلق تحقیق میں جاری تعاون اور جدید، ذہین اور ڈیجیٹل زراعت کے لیے مشترکہ لیبارٹری کے قیام کو خوش آئند قرار دیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ہوبے کی مہارت سے استفادہ کرتے ہوئے ہائبرڈ چاول، زیادہ پیداوار دینے والے بیجوں کی تیاری، زرعی مشینری کے استعمال اور جدید کاشت کاری کے طریقوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ زرعی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی سندھ میں پیداوار بڑھانے اور آبادگارروں کی آمدنی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے سندھ کی اعلیٰ معیار کی زرعی اور غذائی مصنوعات، جن میں پھل، سبزیاں، گوشت، دودھ اور ماہی گیری کی مصنوعات شامل ہیں، کے حوالے سے کہا کہ فصلوں کی برداشت کے بعد ہونے والے نقصانات کم کرنے اور ملکی و بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے کے لیے کولڈ چین لاجسٹکس اور درجۂ حرارت کے مطابق محفوظ ترسیل کے نظام کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔
ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون
وزیراعلیٰ سندھ نے ووہان میں قائم ٹیکنالوجی انکیوبیٹرز، سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کو سندھ کے اسٹارٹ اپس سے منسلک کرنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ انکیوبیشن پروگرامز اور براہِ راست کاروباری روابط کے ذریعے اختراع، سرمایہ کاری اور نئی ٹیکنالوجی کے فروغ کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے چینی کمپنیوں کو کراچی میں بندرگاہوں کے لاجسٹکس نظام، صنعتی خودکاری اور شہری ٹریفک مینجمنٹ کے شعبوں میں آزمائشی منصوبے شروع کرنے کے امکانات کا جائزہ لینے کی دعوت بھی دی۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی کی بندرگاہیں، صنعتی بنیاد، جامعات اور ٹیکنالوجی کا شعبہ مشترکہ منصوبوں کے لیے اہم مواقع فراہم کرتے ہیں۔ ہوبے کی جدید صنعتی اور ڈیجیٹل صلاحیتوں سے استفادہ کرتے ہوئے ان شعبوں میں عملی تعاون کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔تعلیم، جامعات اور فنی تربیت
تعلیم اور فنی تربیت کے شعبوں میں تعاون پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے انجینئرنگ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سمیت اہم شعبوں میں دونوں صوبوں کی جامعات کے درمیان روابط مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے ہوبے کی جامعات، فنی کالجوں اور کاروباری اداروں کے اشتراک سے تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے مشترکہ پروگرام شروع کرنے کی تجویز پیش کی، تاکہ سندھ کے نوجوانوں کو جدید صنعتوں اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں کی ضروریات کے مطابق مہارتیں فراہم کی جا سکیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ ہنرمندی کا فروغ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے اور صنعتی ترقی میں معاون ثابت ہوگا۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے اس اعتماد کا اظہار کیا گیا کہ سندھ اور ہوبے کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون پاکستان اور چین کے درمیان ہر موسم میں قائم رہنے والی اسٹریٹجک تعاون کی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔






