وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ اور چین کے درمیان تعلیمی اور علمی تعاون کے ایک نئے اور مؤثر دور کے آغاز پر زور دیتے ہوئے اساتذہ کی تربیت، تعلیمی ٹیکنالوجی، طلبہ کے تبادلے، چینی زبان کی تدریس اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں میں مضبوط شراکت داری کی تجویز پیش کی۔ بدھ کے دن ہوبے کے شہر ووہان میں واقع ممتاز سینٹرل چائنا نارمل یونیورسٹی (سی سی این یو) میں پاکستانی اور چینی یونیورسٹی رہنماؤں، اساتذہ اور طلبہ کے ایک معزز اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ تعلیم اور نوجوانوں کی شمولیت پاکستان اور چین کے تعلقات کے اگلے مرحلے کی بنیاد ثابت ہوں گے، بالخصوص ایسے وقت میں جب دونوں ممالک اپنے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ اس اہم تقریب میں جامعہ کے صدر پروفیسر پینگ شوانگ جیے، یونیورسٹی کی پارٹی کمیٹی کے سیکریٹری مسٹر شیا لی شِن، سینئر ماہرینِ تعلیم، محققین اور طلبہ نے شرکت کی۔جامعہ سی سی این یو کی 1903ء میں قیام کے بعد سے خدمات کو سراہتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اساتذہ کی تعلیم اور تدریسی جدت کے فروغ میں ادارے کی طویل عالمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ میں ایسی جامعہ میں موجود ہوں جو ایک صدی سے زائد عرصے سے اساتذہ کی تعلیم و تربیت میں مصروف ہے۔ جب آپ ایک استاد کو تعلیم دیتے ہیں تو درحقیقت آپ نسلوں کو تعلیم دیتے ہیں۔ سی سی این یو جیسے ادارے علم، جدت اور انسانی ترقی کے ذریعے قوموں کے مستقبل کی تشکیل کرتے ہیں۔ مختلف تہذیبوں کے درمیان مماثلت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح دریائے یانگسی نے چین کی تاریخ اور تہذیب کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا، اسی طرح دریائے سندھ نے بھی سندھ کے ورثے پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ انہوں نے سندھ کے عظیم تہذیبی ورثے کا ذکر کرتے ہوئے موہن جو دڑو، مکلی کے تاریخی قبرستان اور حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی کی ادبی و فکری میراث کو اجاگر کیا۔ اس موقع پر انہوں نے چینی طلبہ اور اساتذہ کو کراچی کے متحرک تجارتی مرکز کا دورہ کرنے اور سندھ کی بھرپور ثقافت کو قریب سے دیکھنے کی دعوت بھی دی۔ سندھ میں جاری تعلیمی اصلاحات، ڈیجیٹل تعلیم، فنی تعلیم اور کراچی ایجوکیشن سٹی کی ترقی کے لیے کی جانے والی سرمایہ کاری کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سی سی این یو کے ساتھ دوطرفہ تعاون کے لیے چار نکاتی عملی فریم ورک پیش کیا۔ جس میں اساتذہ کی تربیت، تعلیمی تبادلے اور راوبط، چینی زبان کی تدریس اور مشترکہ تحقیقی منصوبے شامل ہیں۔ اساتذہ کی تربیت کے لئے سی سی این یو، محکمہ تعلیم سندھ اور صوبے کی جامعات کے درمیان تعاون کو فروغ دے کر تربیتی پروگراموں کو بہتر بنایا جائے گا۔ اس سلسلے کا آغاز سندھ سے ماسٹر ٹرینرز، یعنی تربیت کار اساتذہ، کی تیاری سے کرنے کی تجویز دی گئی۔ تعلیمی تبادلے اور روابط سے متعلق وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اسکالرشپس، اساتذہ کے تبادلوں، تحقیقی فیلوشپس اور مختصر دورانیے کے تعلیمی پروگراموں میں توسیع کی جائے گی تاکہ دونوں ممالک کے طلبہ اور ماہرین کو ایک دوسرے کے ہاں تعلیم، تحقیق اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے زیادہ مواقع میسر آئیں۔ چینی زبان کی تدریس سے متعلق وزیراعلیٰ سندھ نے سی سی این یو کو دعوت دی کہ وہ سندھ کے اسکولوں اور جامعات میں چینی زبان، یعنی مینڈارن، پڑھانے والے اساتذہ کی تربیت میں معاونت کرے، تاکہ دونوں خطوں کے درمیان ثقافتی، تعلیمی اور معاشی روابط مزید مضبوط ہوں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ایسے اہم مسائل پر مشترکہ تحقیقی منصوبے شروع کرنے کی تجویز پیش کی گئی جن میں دونوں فریقوں کی دلچسپی اور ضرورت شامل ہے۔ ان موضوعات میں موسمیاتی تبدیلی، آبی وسائل کا انتظام، مصنوعی ذہانت، قابلِ تجدید توانائی، اسمارٹ سٹیز اور دریائے سندھ و دریائے یانگسی کی تہذیبوں کی تقابلی تاریخ شامل ہیں۔جامعہ میں زیرِ تعلیم پاکستانی طلبہ سے پُراثر خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے انہیں پاکستان کے حقیقی سفیر قرار دیا۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ چین میں دستیاب علمی مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں، زیادہ سے زیادہ علم اور مہارت حاصل کریں اور بالآخر وطن واپس آکر سندھ کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان سب سے مضبوط پل صرف کنکریٹ یا فولاد سے نہیں بنے گا، بلکہ یہ ایسے تعلیم یافتہ، ہنرمند اور باہم مربوط نوجوانوں کے ذریعے تعمیر ہوگا جو ایک دوسرے کو سمجھتے ہوں اور مشترکہ مستقبل کے لیے مل کر کام کریں۔
سینٹرل چائنا نارمل یونیورسٹی (سی سی این یو) کی قیادت کی جانب سے خیرمقدم
اس سے قبل سینٹرل چائنا نارمل یونیورسٹی پہنچنے پر وزیراعلیٰ سندھ کا سی سی این یو کے نائب صدر مسٹر لی اور جامعہ کے اساتذہ نے پرتپاک استقبال کیا۔ بعد ازاں انہیں جامعہ میں ڈیجیٹل تدریسی کلاسوں، تحقیقی سرگرمیوں اور ادارے کی تعلیمی حیثیت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ سینٹرل چائنا نارمل یونیورسٹی ایک ممتاز تعلیمی ادارہ ہے جہاں 25 شعبہ جات میں 30 ہزار سے زائد طلبہ اور 2,500 اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ باضابطہ ملاقاتوں کے دوران وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ثقافتی خیرسگالی کے اظہار کے طور پر سینٹرل چائنا نارمل یونیورسٹی کے صدر پروفیسر پینگ شوانگ جیے اور پارٹی کمیٹی کے سیکریٹری مسٹر شیا لی شِن کو روایتی تحائف اجرکیں اور سندھی ٹوپیاں پیش کیں۔ چینی قیادت نے مجوزہ اقدامات کا خیرمقدم کیا اور سندھ اور چین کے صوبے ہوبے کے درمیان ادارہ جاتی تعاون، طلبہ کے تبادلوں اور تعلیمی روابط کو مزید وسعت دینے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ کے ہمراہ اعلیٰ سطحی وفد میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن، وزیر منصوبہ بندی و ترقیات جام خان شورو، وزیراعلیٰ کے معاونِ خصوصی سید قاسم نوید، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، سیکریٹری سرمایہ کاری راجا خرم شہزاد، سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن اور دیگر حکام شامل تھے۔






