ڈائریکٹر جنرل محکمہ بلدیات و دیہی ترقی بلوچستان عزت نذر کی زیرِ صدارت یونیسیف کی درخواست پر اہم اجلاس

ڈائریکٹر جنرل محکمہ بلدیات و دیہی ترقی بلوچستان، عزت نذر کی زیرِ صدارت یونیسیف (UNICEF) کی درخواست پر ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ماہواری کے دوران صفائی، حفظانِ صحت اور عوامی آگاہی سے متعلق ورکنگ گروپ کے سیکرٹریٹ کو محکمہ صحت سے محکمہ بلدیات و دیہی ترقی بلوچستان منتقل کرنے کی تجویز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں مجوزہ منتقلی کے انتظامی، دفتری اور عملی پہلوؤں پر غور کیا گیا۔ اس سلسلے میں سیکرٹریٹ کے لیے موزوں مقام کے انتخاب، درکار دفتری جگہ، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور منتقلی کے عمل کو مؤثر انداز میں مکمل کرنے کے لیے ضروری انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران متعلقہ افسران نے سیکرٹریٹ کی مجوزہ منتقلی سے وابستہ مختلف امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ تمام فیصلے دستیاب وسائل، متعلقہ ریکارڈ اور عملی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں، تاکہ سیکرٹریٹ کی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں تسلسل برقرار رہے اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔شرکاء نے اس بات پر بھی غور کیا کہ سیکرٹریٹ کی منتقلی کے لیے محکمہ بلدیات و دیہی ترقی میں موزوں جگہ کا تعین کرتے ہوئے دفتری ضروریات، انتظامی سہولیات اور دیگر عملی تقاضوں کو ترجیح دی جائے، تاکہ مستقبل میں ورکنگ گروپ کی سرگرمیوں کو منظم اور مؤثر انداز میں جاری رکھا جا سکے۔اجلاس میں متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی کہ وہ آئندہ اجلاس میں مکمل ریکارڈ، ضروری دستاویزات اور تفصیلی پریزنٹیشن کے ساتھ شرکت کریں، تاکہ مجوزہ منتقلی کے مقام، دفتری جگہ کی ضرورت اور دیگر انتظامی و عملی تقاضوں کا جامع جائزہ لے کر آئندہ کے لائحہ عمل کو حتمی شکل دی جا سکے۔اجلاس میں فاروق ترین، ایڈیشنل سیکرٹری بلوچستان لوکل گورنمنٹ بورڈ، خرم خالد، ڈپٹی سیکرٹری محکمہ بلدیات و دیہی ترقی، طحہٰ جُنید، فوکل پرسن محکمہ بلدیات، فلک نیاز، واش پروجیکٹ، شبانہ، پی ایم ایم ایچ ایم، سجاد احمد لاشاری، ایگزیکٹو انجینئر، احسان، اسٹیٹ انجینئر، عباس شاہ اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے اختتام پر اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ تمام متعلقہ پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لینے، ضروری معلومات جمع کرنے اور انتظامی تقاضے پورے کرنے کے بعد سیکرٹریٹ کی مجوزہ منتقلی کے حوالے سے آئندہ اقدامات کیے جائیں

جواب دیں

Back to top button