وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن (ایس ای ایف)، دی سٹیزنز فاؤنڈیشن (ٹی سی ایف) اور اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈیپارٹمنٹ (ایس ای اینڈ ایل ڈی) کے درمیان سہ فریقی معاہدے پر عملدرآمد کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ یہ معاہدہ صوبے بھر میں معیاری تعلیم تک رسائی کے فروغ کے لیے ایس ای ایف کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت کیا گیا ہے۔اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزیر تعلیم سید سردار شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد عباسی، منیجنگ ڈائریکٹر ایس ای ایف گنہور لغاری، اور دی سٹیزنز فاؤنڈیشن کے نمائندے مشتاق چھاپڑا، احسن سلیم اور ضیاء اختر عباس سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔یہ شراکت داری 2019 سے 2029 تک کے عرصے پر محیط ہے جس کا مقصد ایس ای ایف کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے ذریعے سندھ بھر میں معیاری تعلیم تک رسائی میں اضافہ کرنا ہے۔ اس انتظام کے تحت ایس ای ایف، ٹی سی ایف کو 500 نئے اسکول قائم کرنے اور اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈیپارٹمنٹ اور ایس ای ایف کے بعض غیر فعال، ترک شدہ یا بند اسکولوں کی بحالی اور انتظامی ذمہ داری تفویض کر رہا ہے۔یہ اشتراک فاؤنڈیشن اسسٹڈ اسکولز (ایف اے ایس) ماڈل کے تحت چلایا جا رہا ہے جس میں سبسڈی کے نظام کو ازسرِنو ترتیب دیا گیا ہے۔ اس کے تحت ٹی سی ایف کو فی طالب علم بنیادی سبسڈی کے ساتھ اضافی 200 روپے فی طالب علم اساتذہ کی تربیت اور نصابی کتابوں کے لیے فراہم کیے جائیں گے۔یہ تعاون اسکولوں کے پائیدار انتظام، تعلیمی معیار میں بہتری اور پسماندہ علاقوں میں تعلیمی مواقع کے فروغ کو یقینی بنانے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔منیجنگ ڈائریکٹر ایس ای ایف گنھور لغاری نے وزیراعلیٰ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ٹی سی ایف نے اب تک اس شراکت کے تحت 98 اسکول قائم کیے ہیں۔ یہ اسکول بدین، دادو، حیدرآباد، جیکب آباد، کورنگی، ملیر، کشمور، مٹیاری، میرپورخاص، سانگھڑ، شہید بینظیر آباد، شکارپور اور سجاول سمیت مختلف اضلاع میں قائم کیے گئے ہیں۔ ٹی سی ایف کو مرحلہ وار منصوبہ بندی کے تحت جون 2029 تک مجموعی طور پر 500 اسکول قائم کرنے ہیں۔وزیراعلیٰ نے ایم ڈی ایس ای ایف گنھور لغاری کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کا جائزہ لیا، جن میں فی طالب علم ماہانہ سبسڈی کو اوسطاً 2,500 روپے کرنے اور حکومت کی جانب سے جاری کردہ افراطِ زر کے مطابق سالانہ اضافہ شامل تھا۔ ایس ای ایف کی ایگزیکٹو اور فنانس کمیٹی اس معاملے پر پہلے ہی غور کر چکی ہے جس میں پورے ایف اے ایس پورٹ فولیو میں سبسڈی کے یکساں ڈھانچے کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔یہ بھی تجویز دی گئی کہ نئے ٹی سی ایف اسکولوں کی منظوری کا معیار قریب موجود سرکاری اسکولوں سے فاصلے کی بجائے آبادی کے حجم اور علاقے میں تعلیمی ضروریات کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔وزیراعلیٰ نے ایس ای ایف اور ٹی سی ایف کی معیاری تعلیم کے فروغ میں کاوشوں کو سراہا اور سندھ کے تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے میں ان کے کردار کو تسلیم کیا۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ پیش کردہ تجاویز کا تفصیلی جائزہ لے کر اپنی سفارشات آئندہ فیصلوں کے لیے پیش کریں۔اجلاس کے اختتام پر حکومتِ سندھ نے مؤثر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے تعلیمی مواقع میں بہتری اور صوبے کے تمام بچوں کے لیے جامع، مساوی اور معیاری تعلیم کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
Read Next
23 گھنٹے ago
*ڈنمارک کی سفیر سے ملاقات، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبائی گرڈ سے سستی بجلی کی پیداوار اور ترسیل کا منصوبہ پیش کردیا*
2 دن ago
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے میئر کاشف شورو کے ہمراہ کے ڈی ایس پی کے حیدرآباد چیپٹر کا افتتاح کردیا*
3 دن ago
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت تھر کول اینڈ انرجی بورڈ کا اجلاس*
4 دن ago
*سندھ اور ازبک صوبے ناوائی کے درمیان وسیع تعاون پر اتفاق*
6 دن ago
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی یونیورسٹی روڈ کے تعمیری کام میں تاخیر کی وجہ سے شہریوں سے معذرت،3 ماہ کے ہدف
Related Articles
وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ سے ورلڈ بینک سندھ پراپرٹی ٹیکس ماڈرنائزیشن اینڈ انہانسمنٹ کے اعلیٰ سطحی وفد کی ملاقات
1 ہفتہ ago
انجینئرڈ سینیٹری لینڈ فل سائٹ جام چاکرو کو جلد از جلد مکمل کیا جائے،وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ
1 ہفتہ ago
کریم آباد انڈر پاس کی سافٹ لانچنگ 30 اپریل کو کی جائے گی،وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ
1 ہفتہ ago


