محکمہ مواصلات و تعمیرات عامہ، حکومت گلگت بلتستان
اجلاس بابت گلگت بلتستان ڈیپارٹمنٹل ڈویلپمنٹ ورکنگ کمیٹی
گلگت۔ گلگت بلتستان ڈیپارٹمنٹل ڈویلپمنٹ ورکنگ کمیٹی (GB-DDWC) کا رواں مالی سال 2024 2025 کا پہلا اجلاس ، اجلاس کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔

محکمہ مواصلات و تعمیرات عامہ میں سالانہ ترقیاتی پلان برائے سال 2024-2025 کے جائزہ ، صوبائی سیکریٹری مواصلات و تعمیرات عامہ سبطین احمد کے زیر صدارت محکمہ ثانوی و اعلیٰ عوامی مفاد کے منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ ، 77 کروڑ 88 لاکھ ، 68 ہزار لاگت مالیت پر مشتمل 39 سکیموں پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔
اجلاس میں صوبائی سیکریٹری مواصلات و تعمیرات عامہ سبطین احمد سمیت دیگر محکموں کے اعلی حکام اور محکمہ مواصلات و تعمیرات عامہ کے چیف انجینئر گلگت ریجن ، چیف انجینئر دیامر استور ڈویژن سمیت تمام ڈویژنوں کے ایگزیکیوٹیو انجینیئرز نے شرکت کی۔
صوبائی سیکریٹری مواصلات و تعمیرات عامہ سبطین احمد کے زیر صدارت گلگت بلتستان ڈویلپمنل ورکنگ پارٹی (GB-DDWC) کا اجلاس منعقد ہوا جس میں مجموعی طور پر محکمہ مواصلات و تعمیرات عامہ کے 77 کروڑ، 88 لاکھ ، 68 ہزار لاگت مالیت کی حامل 39 منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا اور ان میں سے 39 منصوبے منظور کئے گئے اس کے علاوہ دس موڈیفیکشن سکیموں کا منصوبے بھی متعلقہ فارم میں پیش کیا گیا ان دس منصوبوں کو بھی فورم میں منظور کیا گیا۔
صوبائی سیکریٹری مواصلات و تعمیرات عامہ سبطین احمد نے
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مفاد عامہ کے میگا منصوبوں پر ہونے والی کنسلٹنسی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے
ناقص کنسلٹنسی اور مانیٹرنگ کا نظام موثر نہ ہونے کی وجہ سے اہم منصوبے التواء کا شکار ہوتے ہیں اور متعدد بار ان منصوبوں کو ریویجن کیلئے پیش کیا جاتا ہے جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان ہوتا ہے منصوبوں کے غیر ضروری ریویجن کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔ گلگت بلتستان کے ترقیاتی بجٹ کا بیشتر حصہ محکمہ مواصلات و تعمیرات عامہ کے منصوبوں پر خرچ ہورہاہے لیکن ناقص کارکردگی اور کمزور مانیٹرنگ کی وجہ سے عوام کو ان منصوبوں کے ثمرات بروقت نہیں مل رہے ہیں مفاد عامہ کے میگا منصوبے التواء کا شکار ہوتے ہیں اور متعدد بار ریویجن کیلئے فورمز میں پیش کئے جاتے ہیں جس سے وقت اور قومی خزانے کا نقصان ہوتا ہے۔ فورم سے منظور شدہ سیکمومین گلگت بلتستان کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے اس کی استعداد اکار میں اضافے کے دوران اس بات کا خصوصی خیال رکھا جائے کہ یہ اہم منصوبے غیرضروری طور پر مزید تاخیر کا شکار نہ ہو۔ صوبائی سیکرٹری مواصلات و تعمیرات عامہ نے منصوبوں میں معیار و شفافیت یقینی بنانے پر زور دیا اور ہدایات جاری کیں کہ اس حوالے سے مانیٹرنگ اینڈ ایویلیویشن رپورٹس کی روشنی میں محکمے اپنا لائحہ عمل بنائیں۔






