وزیراعلٰی سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت یونیورسٹی اینڈ بورڈ اور وائس چانسلرز کا اجلاس

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے یونیورسٹی نمائندوں، ماہرین تعلیم اور یونیورسٹی اینڈ بورڈ کے منتظمین کے ساتھ ایک مشاورتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے معیاری تعلیم، بہترین تربیت اور مؤثر تحقیق کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے تعلیمی اداروں پر زور دیا کہ وہ سماجی مسائل کو اجاگر کرنےکے حوالےسے حکومت کی رہنمائی کریں تاکہ ان کو مؤثر طریقے سے حل کیا جا سکے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ ہمارے پاس میڈیکل، ایگریکلچرل، انجینئرنگ اور جنرل اسٹڈیز میں بہترین یونیورسٹیاں کام کررہی ہیں جو ہمارے لیے بڑے اثاثے کی اہمیت رکھتی ہیں۔ مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ ان اداروں کو تعلیم، معاشرہ اور معاشی ترقی کی بہتری پر زیادہ سے زیادہ کام کرنا چاہیے۔ اجلاس جمعرات کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا۔اجلاس میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، وزیر یونیورسٹیز اینڈ بورڈز محمد علی ملکانی، چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ اور اعلیٰ حکام اور دیگر یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز نے شرکت کی۔وزیر اعلیٰ سندھ نے تعلیم میں جدت لانے، سماجی اور معاشی چیلنجز کو حل کرنے میں تحقیق کے اہم کردار پر زور دیا۔ انہوں نے یونیورسٹیوں بالخصوص طبی اداروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی تحقیق کو عام بیماریوں، نفسیاتی مسائل اور وبائی امراض پر مرکوز کریں اور جو نتائج اخذ ہوں انہیں حکومتی پالیسی کا حصہ بنانے کے لیے بھی اپنی تجاویز پیش کریں۔ مرادعلی شاہ نے کہا کہ آج کے جدید دور میں تمام یونیورسٹیوں کو امتحانات کے انتظام کے لیے بھی جدید ٹیکنالوجی کو اپنانا چاہیے جب کہ کچھ ادارے پہلے ہی ڈیجیٹل امتحانات کے نظام کو نافذ کیے ہوئے ہیں اور جنہوں نے اب تک اپنے نظام کو ٹیکنالوجی سے منسلک نہیں کیا وہ فوری طورپر اپنے امتحانی سسٹم کو اس پر منتقل کردیں۔ مراد علی شاہ نے یو اینڈ بی کو ہدایت دی کہ وہ امتحانی بورڈز کو ڈیجیٹل امتحانات کے انعقاد کے لیے تجاویز، سفارشات اور مراحلہ وار تیاری میں رہنمائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ امتحانی بورڈ امتحانات کے انعقاد میں ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھائیں ۔انہوں نے زرعی یونیورسٹیوں پر زوردیا کہ وہ ایسے بیجوں کی تحقیق اور ترقی میں حکومت کی مدد کریں جن کو کم پانی کی ضرورت ہو اور پیداوار زیادہ ہو۔ انہوں نے لائیو سٹاک اور فشریز کے شعبوں میں بھی اسی طرح کی تحقیق کی درخواست کی۔وزیراعلیٰ سندھ نے جنرل یونیورسٹیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے تعلیمی پروگراموں میں اضافہ کریں اور سائنس اور ٹیکنالوجی میں تحقیقی کوششوں میں اضافہ کریں۔مرادعلی شاہ نے معاشرے میں بڑھتے ہوئے عدم برداشت پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس کی مختلف بنیادی وجوہات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ماہرین تعلیم، ادیب اور شاعروں کو اپنے کام کے ذریعے انسانیت کے جذبے کو ابھارنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی تحریریں خاص طور پر نوجوانوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنیں، رواداری اور ہمدردی کے جذبے کو فروغ دیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے وائس چانسلرز کو ہدایت کی کہ وہ بہترین طرز تعلیم کے حوالے سے اپنی سفارشات پیش کریں تا کہ حکومت یونیورسٹیوں کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری تعاون فراہم کر سکے۔

جواب دیں

Back to top button