لاہور(بلدیات ٹائمز رپورٹ)محکمہ لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ کی کمزور انتظامی گرفت کے باعث پنجاب کی یونین کونسلیں کرپشن کی آماجگاہ بن چکی ہے۔مدتیں گذر گئیں یونین کونسلوں کا آڈٹ ہوا ہے نہ ہی محکمانہ انسپکشن کی گئی۔پیدائش و اموات نکاح ،طلاق کے کیسز کی رجسٹریشن و سرٹیفکیٹس میں رشوت وصولی کی شکایات تو عام تھی محکمہ خزانہ پنجاب کی طرف سے صوبائی مالیاتی کمیشن آیوارڈ کے تحت جاری ہونے والے پی ایف سی شیئر میں بھی بے قاعدگیوں اور بندر بانٹ کا انکشاف ہوا ہے جس میں یونین کونسلوں کے سیکرٹریز اور ایڈمنسٹریٹرز جو اے ڈی ایل جی ہیں کے گٹھ جوڑ کا انکشاف ہوا ہے۔تنخواہوں کے لئے جاری ہونے والا ماہانہ ایک ارب 20 کروڑ روپے سے زائد کا پی ایف سی شیئر مختلف فرموں سے ساز باز ان کا لیٹر پیڈ استعمال کر کے بوگس بلوں کے ذریعے آپس میں بانٹنے کی شکایات بھی اب عام ہیں۔پنجاب کی یونین کونسلوں کو محکمہ خزانہ کی جانب سے سالانہ 14 ارب 40 کروڑ روپے پی ایف سی شیئر جاری کئے جا رہا ہے۔جو فی یونین کونسلز 36 لاکھ روپے بنتا ہے۔یونین کونسلز میں عملے کی کمی کے باعث ایک سیکرٹری کے پاس دو سے تین یونین کونسلز کا چارج ہے تنخواہوں کے لئے پہلے فی یونین کونسلز ڈیڑھ لاکھ روپے پی ایف سی شیئر جاری کیا جا رہا تھا تو دوبارہ تین لاکھ روپے ماہانہ کردیا گیا۔پنجاب کی یونین کونسلوں کی سطح پر کرپشن کے باعث پہلے اب گاؤں چمکیں گے پروگرام ناکام ہوا اب ستھرا پنجاب پروگرام بھی تصاویر اور ویڈیوز کی حد تک چل رہا ہے یونین کونسلوں کی اس پروگرام میں دلچسپی نہیں ہے۔ایڈمنسٹریٹر کے اختیارات اسسٹنٹ ڈائریکٹرز لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے پاس تحصیل کی سطح پر ہونے کی وجہ سے ضلعی سطح پر تعینات ڈپٹی ڈائریکٹرز بے اختیار ہونے کا بہانہ بنا کر پروگرام میں دلچسپی نہیں لے رہے ہیں۔ڈائریکٹرز بھی ڈپٹی ڈائریکٹرز کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ڈپٹی ڈائریکٹرز اور اسسٹنٹ ڈائریکٹرز لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ میں اختیارات کی جنگ بھی چل رہی ہے جس کی وجہ سے محکمہ بلدیات پنجاب کی طرف سے ڈپٹی ڈائریکٹرز کو میونسپل کمیٹیوں کا ایڈمنسٹریٹر لگا کر خوش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔یونین کونسلز میں تمام کام بغیر ٹینڈر کی جا رہے ہیں ای ٹینڈرنگ کا کو تصور بھی نہیں ہے۔دولاکھ کام پر پچاس پچاس ہزار روپے کے بل بنا کر بندربانٹ کر لی جاتی ہے۔منتخب بلدیاتی نمائندوں کے بغیر یونین کونسلوں میں رشوت کا رحجان بڑھ گیا ہے اور کوئی کام بھی بغیر رشوت یا سفارش کے نہیں ہوتا ہے۔بیشتر سیکرٹری یونین کونسلز کو کمپیوٹر اور موبائل استعمال کرنا میں مہارت نہیں جس کی وجہ سے انھوں نے پرائیویٹ ملازم رکھے ہوئے ہیں۔محکمہ لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ پنجاب کا واحد ایسا محکمہ ہے جہاں یونین کونسلز کے سیکرٹریز میٹرک پاس جبکہ نائب قاصد ایم اے اور بی اے پاس ہیں۔نائب قاصد وں کی 16 سال سے ترقیاں نہیں ہوئیں ان کے سروس رولز محکمہ ریگولیشن میں زیر التواء ہیں جس میں وزیر بلدیات دلچسپی لے رہے ہیں نہ ہی محکمہ بلدیات کو کوئی پرواہ ہے۔ضلع اور تحصیلوں میں ڈپٹی ڈائریکٹرز اور اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کے درمیان جبکہ کہ یونین کونسلوں میں سیکرٹریز اور نائب قاصدوں کی نہیں بنتی ہے۔ڈائریکٹوریٹ جنرل آف لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ کی انتظامی گرفت انتہائی کمزور ہے جس کی وجہ سے یونین کونسلوں میں محکمانہ رولز کی بجائے سیکرٹری رول کر رہے ہیں۔
Read Next
6 گھنٹے ago
*با اختیار مقامی حکومتیں۔اصل مفہوم* تحریر:زاہد اسلام
6 گھنٹے ago
*پنجاب اور اسلام آباد،مقامی حکومتوں کے انتخابات* تحریر:زاہد اسلام
8 گھنٹے ago
بلدیاتی انتخابات،پنجاب لوکل گورنمنٹ الیکشن رولز 2025 کے حوالے سے قائم کمیٹی کا اجلاس
22 گھنٹے ago
چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن گوجرانوالہ حیدر علی چھٹہ کو او ایس ڈی بنا دیا گیا،احمد بلال مخدوم کی تقرری
2 دن ago
پنجاب کے بلدیاتی اداروں کو 4 ارب 74 کروڑ 62 لاکھ روپے کا پی ایف سی شیئر اور ماہانہ گرانٹ جاری
Related Articles
چیف آفیسر ایم سی آلہ آباد وقاص حمید معطل،پیڈا ایکٹ کے تحت انکوائری،سی او منکیرہ سید سروش اقبال کو او ایس ڈی بنا دیا گیا
4 دن ago
With the establishment of PSPA, the way for environment-friendly constructions has been paved, says Zeeshan Rafiq
6 دن ago
ہاؤسنگ سوسائٹی کی منظوری کا تمام عمل آن لائن ممکن،پی ایس پی اے منظوری کے بغیر بننے والی سکیموں کو ریگولرائز کرنے کا بھی جائزہ لے گی،وزیر بلدیات ذیشان رفیق
6 دن ago



