*الیکشن کمیشن کا پنجاب حکومت کو بلدیاتی الیکشن کرانے میں تاخیری حربوں پر نوٹس،26 فروری کو سماعت ہوگی*

الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت کو بلدیاتی الیکشن کرانے میں بار بار تاخیر پر نوٹس جاری کردیا۔

الیکشن کمیشن نے چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری بلدیات کو نوٹس جاری کیاہے۔جس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے کئی اقدامات کئے۔نوٹس کے متن کے مطابق الیکشن کمیشن نے باربار پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے لیے اجلاس کیے اور یاد دہانی کرائی لیکن تاحال معلوم نہیں ہے پنجاب حکومت نے بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے کیا اقدامات کیے؟الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پنجاب میں بلدیاتی قانون چار بار تبدیل ہوا الیکشن کمیشن نے تین مرتبہ حلقہ بندیاں کرائی، پنجاب حکومت کی درخواست پرپنجاب لوکل گورنمنٹ قانون کومکمل کرنےکے لیے چار ہفتے کا وقت دیا گیا، الیکشن کمیشن کو یونین کونسل کی حلقہ بندیاں بھی روکنا پڑی۔نوٹس کے مطابق پنجاب حکومت کوکہا تھا ایک ماہ میں قانون سازی مکمل کرے مزید توسیع نہیں دی جائے گی، پنجاب حکومت نے پنجاب بلدیاتی حکومت قانون الیکشن کمیشن سے 26 دسمبر کو شیئرکیا، الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت کو 23 جنوری کو اپنا فیڈ بیک بھجوا دیا لیکن ابھی تک پنجاب حکومت نے بلدیاتی قانون سازی کے لیےکوئی اقدامات نہیں کئے اور نہ ہی پنجاب حکومت نے الیکشن کرانے کے لیے کوئی اقدامات کئے۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کا معاملہ سماعت کے لیے مقرر کردیا ہے اور 26 فروری صبح 10 بجے پنجاب میں بلدیاتی الیکشن سے متعلق کیس کی سماعت ہوگی۔یہ بات اہم ہے کہ الیکشن کمیشن کے بارہا نوٹسیز کے باوجود پنجاب،اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں بلدیاتی انتخابات زیر التواء ہیں۔گلگت بلتستان میں حکومت کا وقت ہونے کو ہے لیکن اس نے بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے اسلام آباد میں بھی پنجاب ہی سی صورتحال ہے جہاں بلدیاتی انتخابات کی بجائے قانون سازی کی آڑ میں تاخیر حربے استعمال کئے جا رہے ہیں۔پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے قانون سازی پر الیکشن کمیشن نے کئی روز قبل اپنا فیڈ بیک دیا تھا جس پر وزیر بلدیات پنجاب نے ایک اجلاس میں یہ کہہ کر ٹرخانے کی کوشش کی کہ پنجاب حکومت بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں کر رہی ہے جلد پنجاب اسمبلی کے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2024 منظوری اور گزٹ نوٹیفکیشن کے بعد الیکشن کمیشن کو بجھوا دیا جائے گا۔اس سے قبل بھی الیکشن کمیشن کی کسی ڈیڈ لائن پر پنجاب حکومت نے عمل نہیں کیا ہے۔صوبائی حکومت بیوروکریسی کے ذریعے بلدیاتی اداروں اور صوبے کو چلانے پر بضد ہے۔اگر پنجاب حکومت کی درخواست کے مطابق نئی مردم شماری اور نئے قوانین کے مطابق حلقہ بندیاں کروائی جاتی ہیں تو الیکشن کمیشن کو چوتھی مرتبہ حلقہ بندیاں و حد بندیاں کرنا پڑیں گی۔جو ریکارڈ ہوگا۔

جواب دیں

Back to top button