صفائی کے نئے نظام کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ ہوگی،تحصیل کی سطح پر صفائی اور سینی ٹیشن کا نظام آؤٹ سورس کیا جائے گا، ذیشان رفیق کی ڈسکہ میں پریس کانفرنس

وزیر بلدیات پنجاب میاں ذیشان رفیق نے کہا ہے کہ ستھرا پنجاب پروگرام کے پہلے مرحلے کی کامیابی کے بعد دوسرے اور تیسرے مرحلے کا یکے بعد دیگرے آغاز کیا جا رہا ہے۔ دوسرے مرحلے میں دیہی اور شہری علاقوں میں میونسپل سروسز کی یکساں سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ تحصیل کی سطح پر اور دیہی علاقوں میں 250 گھروں کیلئے ایک سینٹری ورکر ہوگا جو گلیوں کی صفائی، گھروں سے کوڑا کرکٹ اٹھانے اور سیوریج وغیرہ کی صفائی کا پابند ہوگا۔ اس امر کو یقینی بنانے کیلئے تحصیل کی سطح پر یہ صفائی اور سینی ٹیشن کا نظام آؤٹ سورس کیا جائے گا۔ گھروں محلوں اور بازاروں سے اٹھائے جانے والے کوڑا کرکٹ کو پہلے عارضی کولیکشن پوائنٹس پر منتقل کیا جائیگا۔ ڈسکہ، سیالکوٹ کے دورے میں پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ رورل اور اربن علاقوں میں صفائی کے نئے نظام کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کی جائے گی۔ دیہات اور وارڈز کی سطح پر جمع شدہ کوڑا کرکٹ کو ری سائیکل کرنے کیلئے ڈویژن کی سطح پر 10 ری سائیکل پلانٹس پر پراسس کرکے کوڑے کو انرجی اور کھاد میں تبدیل کیا جائے گا جبکہ بچ جانے والے کورا کرکٹ کو لینڈ فل سائٹس میں جدید تقاضوں کے مطابق عمل کرکے ہر لحاظ سے محفوظ بنایا جائیگا تاکہ ماحول پر انسان دوست بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے 76 سال میں پہلی بار ستھرا پنجاب جیسا ایک انقلابی پروگرام شروع کیاہے اور کوڑا کرکٹ کی ری سائیکلنگ کرنے سے ایک نئی انڈسٹری وجود میں آئے گی۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب بھر میں روزانہ ساڑھے 57 ہزار ٹن سالڈ ویسٹ پیدا ہوتا ہے۔ میونسپل اداروں کے پاس صرف 18 ہزار ٹن فضلہ اٹھانے کی سکت ہے یوں روزانہ تقریبا 39 ہزار ٹن فضلہ ماحول کی خرابی کا باعث بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچ جانے کوڑے کو اٹھانا اور ٹھکانے لگانا کسی چیلنج سے کم نہیں۔ اس امر کو یقینی بنانے کیلئے صوبہ بھر کی سالڈ ویسٹ کمپنیوں کے ساتھ "ساما” ایگریمنٹ سائن کئے جا رہے ہیں اور آئندہ چار ماہ میں صوبہ میں رورل اور اربن علاقوں میں صفائی کا یکساں نظام ہوگا۔

وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے نئے بلدیاتی نظام کی ری سٹرکچرنگ کیلئے میری سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی ہے کمیٹی نے لوکل باڈیز کے نظام کیلئے مشاورت کا عمل شروع کر دیا ہے اور ایسا بلدیاتی نظام لائیں گے جس سے طاقت حقیقی معنوں میں نچلی سطح پر منتقل ہوگی اور عوام کے مسائل ان کی گھر کی دہلیز پر حل کئے جاسکے گے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کی جانب سے تنقید برائے اصلاح کا خیر مقدم کرتے ہیں اور امید کریں گے کہ مسائل کے حل کیلئے درکار ٹائم دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا سمیت تمام افراد کو ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملک و قوم کیلئے ملکر کام کرنا ہوگا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ حلقہ انتخاب پی پی 52 ڈسکہ میں ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھایا جا رہا ہے۔ تجاویز اور عوام رائے کا احترام کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہر چھ ماہ کارکردگی عوام کے سامنے رکھی جائے گی کیونکہ عوام ہی سب سے بہترین منصف ہیں۔

جواب دیں

Back to top button