وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے لائیو اسٹاک ایکسپو کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زراعت، لائیو اسٹاک ، اور ماہی گیری کے شعبوں میں ترقی اور جدت کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔
تین روزہ لائیو اسٹاک ایکسپو 2025 (17 سے 19 جنوری تک) محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ فشریز نے محکمہ زراعت، محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان، محکمہ ثقافت، سیاحت و نوادرات، کے ایم سی، اور کمشنر کراچی کے تعاون سے منعقد کی جا رہی ہے۔ اس تقریب میں وزیر برائے لائیو اسٹاک اینڈ فشریز محمد علی ملکانی (میزبان)، وزیر ثقافت ذوالفقار شاہ، بلوچستان حکومت کے صوبائی وزراء، اراکین اسمبلی، سفارت کار، سیکریٹری لائیو اسٹاک کاظم جتوئی، مختلف محکموں کے ڈائریکٹر جنرلز اور دیگر افسران نے شرکت کی۔
وزیراعلیٰ نے صوبے کی معیشت کو مستحکم کرنے اور غذائی تحفظ کو بہتر بنانے میں لائیو اسٹاک کے شعبے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ زراعت، مویشی پال، اور ماہی گیری کے شعبوں میں ترقی اور جدت کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ وزیراعلیٰ نے نجی شعبے پر زور دیا کہ وہ لائیو اسٹاک اور ماہی گیری کے شعبوں میں سرمایہ کاری کریں تاکہ خاطر خواہ منافع حاصل ہو اور قومی معیشت کو فروغ ملے۔

مراد علی شاہ نے ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر کو مضبوط کرنے کے لیے برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، ہمیں غذائی تحفظ کو بہتر بنانے اور برآمدات کو فروغ دینے کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔ یہ ہمارے ملک کی اقتصادی استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے۔
مراد علی شاہ نے انفراسٹرکچر کی بہتری، جانوروں کی صحت کے فروغ، پیداوار میں اضافے، اور جدید زرعی طریقے متعارف کروانے کے لیے مختلف منصوبوں کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کا وژن دیہی کمیونٹیز کو بااختیار بنانا، کسانوں کے معاشی حالات بہتر بنانا، اور زراعت و مویشی پال کے شعبوں میں پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا، ہمارا اصل مقصد ایسا ماحول فراہم کرنا ہے جہاں کسان، سرمایہ کار، اور کاروباری ادارے سندھ کے خوشحال اور پائیدار مستقبل کو یقینی بنانے کےلیے مل کر کام کریں۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ بےپناہ صلاحیتوں کے باوجود یہ شعبہ محدود وسائل، پرانے طریقہ کار، اور جدید ٹیکنالوجی تک ناکافی رسائی جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ تاہم سندھ حکومت بین الاقوامی بینکوں، کاروباری اداروں اور تنظیموں کے ساتھ مل کر ان مسائل کو حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا، پہلے ویکسین درآمد کی جاتی تھیں، لیکن اب ہم نے مقامی سطح پر پیداوار شروع کر دی ہے جو ایک بڑی کامیابی ہے۔
مراد علی شاہ نے موجودہ معاشی چیلنجز پر بھی بات کی اور ان کے حل کے لیے اجتماعی کوششوں پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، اگر ہم متحد ہو جائیں تو آئی ایم ایف پروگرامز سے پیدا ہونے والے مسائل پر قابو پا سکتے ہیں۔ ہمارا مشترکہ مقصد پاکستان کی ترقی ہونا چاہیے۔
وزیراعلیٰ نے لائیو اسٹاک کے شعبے سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز کو تعاون کرنے اور صنعت کی مزید بہتری کے لیے کام کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر اس شعبے کی حقیقی صلاحیت کو اجاگر کرنا چاہیے جو ہمارے صوبے اور ملک دونوں کی خوشحالی کے لیے نہایت اہم ہے۔
وزیراعلیٰ نے ایکسپو کے انعقاد پر محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ فشریز کا شکریہ ادا کیا اور اسے نئی ایجادات اور شراکت داریوں کو دریافت کرنے کے لیے ایک شاندار پلیٹ فارم قرار دیا۔
وزیر لائیو اسٹاک اینڈ فشریز محمد علی ملکانی نے کہا کہ سندھ لائیو اسٹاک ایکسپو 2025 کا مقصد اس صنعت کے سرکردہ افراد ، کسانوں اور موجدین کو اکٹھا کرنا ہے تاکہ مویشی پال، زراعت اور ماہی گیری کے شعبوں میں نئے رجحانات اور مواقع پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
ایکسپو میں 2000 جانور، 1000 سے زائد پرندے، 11 اقسام کے مویشی، دو اقسام کی بھینسٰ، 17 اقسام کی بکریاں، چار اقسام کی بھیڑیں، پانچ اقسام کے گھوڑے، دو اقسام کے اونٹ، تین اقسام کے سانپ، متعدد رینگنے والے جانور، اور کتوں اور بلیوں کے شو بھی شامل تھے۔





