وزیر اعلٰی پنجاب مریم نواز کے صوبائی دارالحکومت کے لئے میگا پراجیکٹ لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام (ایل ڈی پی) کا جائزہ لینے کے لئے قائم کردہ سٹیئرنگ کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ یہ منصوبہ شہر کی اگلے 25 سال کی ضروریات پوری کرے گا۔ کمیٹی کا اجلاس ٹائون ہال میں چیئرمین و صوبائی وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت ہوا۔ کمیٹی کے ارکان وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری، وزیراعلی کے معاونین خصوصی ذیشان ملک، راشد اقبال، کمشنر لاہور زید بن مقصود نے بھی شرکت کی۔ ایڈمنسٹریٹر / ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسیٰ رضا نے سٹیئرنگ کمیٹی کو اب تک ہونے والی پیشرفت پر بریفنگ دی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا کہ ایل ڈی پی کے پہلے مرحلے کے دوران لاہور کے 6 زونز میں سڑکوں، گلیوں، نالیوں کی تعمیر و مرمت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن لاہور اور واسا کی زیر نگرانی 347 سکیموں پر کام شروع ہو چکا ہے۔ ایم سی ایل 143 ترقیاتی سکیموں کی نگرانی کر رہی ہے جبکہ واسا سیوریج کے 204 منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ وزیراعلی مریم نواز کی ہدایت پر صوبائی دارالحکومت کی گلیوں میں پہلی بار خوشنما ٹائل ورک کیا جا رہا ہے۔ لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام شہر کی آئندہ 25 سال تک کی میونسپل ضروریات پوری کریگا۔ وزیر بلدیات نے اس امید کا اظہار کیا کہ پروگرام کی تکمیل سے صوبائی دارالحکومت کی نئی شکل سامنے آئے گی۔
اس موقع پر وزیر اطلاعات عظمیٰ نے کہا کہ وزیراعلی مریم نواز کا زیادہ فوکس لاہور کے ماضی میں نظرانداز کئے گئے علاقے ہیں۔ ایل ڈی پی کا آغاز نشتر، راوی، علامہ اقبال، شالیمار، داتا گنج بخش اور گلبرگ زون سے کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ لاہور کے باقیماندہ تین زونز میں بھی اپریل سے کام شروع کر دیا جائے۔ وزیر اطلاعات نے ڈپٹی کمشنر کو قبرستانوں اور پارکوں پر بھی توجہ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ گلی محلوں میں لٹکتی تاروں کو بھی درست کرنا چاہیئے۔ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وزیراعلی پہلی بار دور دراز کے علاقوں کو واسا کے تحت لائی ہیں۔ اب لاہور کا 90 فیصد علاقہ واسا خدمات سے مستفید ہوسکے گا۔

وزیراعلی کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور ذیشان ملک نے کہا کہ ایل ڈی پی میں شفافیت اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ وزیراعلی کا یہ منصوبہ بھی عوام کے لئے ریلیف کا باعث بنے گا۔ ذیشان ملک نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دوران لاہور سمیت پورے پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھایا گیا ہے۔ وزیراعلی کے معاون خصوصی راشد اقبال نے ہدایت کی کہ لاہور کے منتخب نمائندوں کو بھی مشاورت میں شامل رکھیں کیونکہ وہ اپنے علاقے کے مسائل زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ کسی تفریق کے بغیر لاہور کے ہر پسماندہ علاقے تک پہنچ رہے ہیں اور شہریوں کو جلد خوشگوار تبدیلی نظر آئے گی۔





