لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی اربوں روپے مالیت کی گاڑیاں بروقت مرمت نہ ہونے کی وجہ ناکارہ ہو گئیں،صفائی کی آڑ میں سرکاری خزانے کا صفایا

لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی اربوں روپے مالیت کی گاڑیاں بروقت مرمت نہ ہونے کی وجہ ناکارہ ہو گئیں۔گاڑیوں کے سپیئر پارٹس فروخت ہو گئے۔ناکارہ گاڑیوں کی مرمت کے نام پر ہر سال کروڑوں روپے کی کرپشن ہو رہی ہے۔صرف محمود بوٹی میں بڑی تعداد میں گاڑیاں اور مشینری کھڑی کھڑی ناکارہ ہو چکی ہے۔

خراب گاڑیوں کو بروقت مرمت اور ٹھیک کروانے کی بجائے عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے نئی گاڑیاں خریدی جا رہی ہیں۔صفائی کی آڑ میں لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی سرکاری خزانے کا صفایا کر رہی ہے۔خراب اور ناکارہ گاڑیوں کے جعلی بل بنا کر کروڑوں روپے سالانہ ہضم کرنے والا مافیا ایل ڈبلیو ایم سی میں انتہائی بااثر ہے جو میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور اور سابق سٹی گورنمنٹ کے دور سے تبدیل نہیں کیا گیا نئے افسران اس مافیا کے بغیر کام نہیں کر سکتے۔جن میں ورکشاپس مافیا اہم ہے۔جسے بھرپور حکومتی اور سیاسی سپورٹ بھی حاصل ہے۔ورکشاپس میں تعینات مافیا کے اثاثے چیک کئے جائیں تو حیران کن انکشافات ہونگے۔ذمہ دار حلقوں کے مطابق اگر لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کیا جائے تو اربوں روپے کی کرپشن سامنے آئے گی۔ایل ڈبلیو ایم سی جو بظاہر بلدیہ عظمٰی لاہور کی ذیلی ایجنسی ہے حقیقت میں محکمہ بلدیات پنجاب سے بھی تگڑی ہے۔جسے پہلے بجٹ سٹی گورنمنٹ اور ایم سی ایل سے ملتا تھا جب سے براہ راست ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کو محکمہ خزانہ سے بجٹ مل رہا ہے وہ محکمہ بلدیات کو خاطر میں نہیں لاتی ہے۔سفارشی اورسیاسی بھرتیوں کی بھرمار کی وجہ سے بھی اس کمپنی میں بے ضابطگیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

جواب دیں

Back to top button