وزیر بلدیات سندھ سعید غنی کی زیر صدارت شاہراہ بھٹو اور اس سے منسلک کورنگی کازوے، نئے انٹرچینج، انڈس اسپتال کے لیے ریمپ، کورنگی کازوے کے نیچے سے گزرنے والے راستے سمیت دیگر منصوبوں کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری سندھ سید خالد حیدر شاہ، سپیشل سیکرٹری ٹیکنیکل عبدالغنی شیخ، پروجیکٹ ڈائریکٹر شارع بھٹو نیاز احمد سومرو، پروجیکٹ ڈائریکٹر میگا پروجیکٹس آفتاب چانڈیو سمیت دیگر افسران شریک ہوئے۔

اجلاس میں شاہراہ بھٹو کے فیز ٹو، نئے انٹرچینج، کورنگی کازوے، کازوے کے نیچے راؤنڈ اباؤٹ اور انڈس اسپتال کے لیے ریمپ سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔سعید غنی نے ہدایت دی کہ شاہراہ بھٹو اور کورنگی کازوے سمیت تمام منصوبوں کی مکمل تفصیلی رپورٹ آئندہ 48 گھنٹوں میں تیار کی جائے۔تمام منصوبوں کی لاگت، ان کے پی سی-ون، پی اینڈ ڈی سے منظوری سمیت تمام تفصیلات پر مبنی رپورٹ مرتب کرکے آئندہ 48 گھنٹوں میں پیش کی جائے۔ سعید غنی نے کہا کہ ہماری بھرپور کوشش ہونی چاہیے کہ شاہراہ بھٹو اور کورنگی کازوے کے منصوبوں کو مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو اس کے مثبت اثرات حاصل ہوں۔ ان دونوں اہم منصوبوں کے حوالے سے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ انتہائی سنجیدگی سے دلچسپی لے رہے ہیں۔ ان منصوبوں اور ان سے منسلک راستوں کی بہتری سے نہ صرف شہر کے ٹریفک نظام میں بہتری آئے گی بلکہ ہیوی گاڑیوں کے اندرون شہر داخلے میں بھی واضح کمی ہوگی۔ شاہراہ بھٹو کے ذریعے قائد آباد تک کا سفر صرف 11 منٹ میں طے ہونے سے عوام کا قیمتی وقت اور ایندھن دونوں کی بچت ممکن ہوگی۔شاہراہ بھٹو فیز ٹو کا افتتاح اس ماہ کے آخر یا آئندہ ماہ کے پہلے ہفتے میں متوقع ہے۔






