ایل ڈی اے کے شعبہ ٹاؤن پلاننگ نے سمن آباد اور گلشن راوی میں سیل کی گئیں غیر قانونی کمرشل عمارتیں رشوت لے کر ڈی سیل کر دیں۔سرکاری خزانے کو کروڑوں کا نقصان

ایل ڈی اے کے شعبہ ٹاؤن پلاننگ و کمرشلائزیشن نے سمن آباد اور گلشن راوی میں سیل کی گئیں غیر قانونی کمرشل عمارتیں رشوت لے کر ڈی سیل کر دیں۔سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔غیرقانونی طور پر کمرشل استعمال ہونے والی عمارتوں کو تین سے چار روز تک سربمہر کر کے ڈیل کی گئی۔

جس میں چیف ٹاؤن پلانر اسد الزمان ڈوگر نے اپنےکار خاص نائب قاصد وقار کے ذریعے کردار ادا کر کے مکا کر کے ڈی سیل کروا دیا ہے۔ان میں غزالی روڈ سمن آباد،بوڑھ والا چوک،حضرا مسجد، چوہدری کالونی تیسرا گول چکر،مین مارکیٹ سمن آباد، موڑ سمن آباد تا پہلا گول چکر،مین بلیو وارڈ گلشن راوی،این بلاک سمن آباد اور گلشن راوی کے مختلف بلاکس کی غیر قانونی کمرشل تعمیرات شامل ہیں۔چیف ٹاؤن پلانر اسد الزمان کی آشیرباد کی وجہ سے وقار نامی ایل ڈی اے کا اہلکار دونوں بڑی سکیموں سمن آباد اور گلشن راوی کا بادشاہ بن چکا ہے ۔جس کی مرضی سے کوئی رہائشی یا کمرشل تعمیر ممکن نہیں۔نقشہ یا کمرشلائزیشن کی بجائے غیر قانونی تعمیرات کو ترجیح دی جاتی ہے جس کی بنیادی وجہ بھاری رشوت کا حصول ہے۔مصدقہ ذرائع کے مطابق اگر ان دونوں سکیموں میں سربمہر کے کے ڈی سیل کی گئی کمرشل عمارتوں کی انکوائری کی جائے تو ایل ڈی اے کو کروڑوں روپے کمرشلائزیشن فیس کی مد میں فوری وصول ہو سکتے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button