وزیراعلٰی مریم نواز شریف کی ہدایت پر ستھرا پنجاب پروگرام کا تحصیل کی سطح پرجائزہ لینے کے سلسلے میں وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیرصدارت سول سیکرٹریٹ میں اجلاس ہوا جس میں لاہور ڈویژن کے چار اضلاع میں ستھرا پنجاب پروگرام کا جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں، سپیشل سیکرٹری آسیہ گل اور کنٹریکٹرز نے شرکت کی۔ لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (ایل ڈبلیو ایم سی) کے سی ای او بابر صاحب دین نے صوبائی وزیر کو 12 تحصیلوں میں کارکردگی پر بریفنگ دی جبکہ لاہور، ننکانہ صاحب، شیخوپورہ، قصور کے کنٹریکٹرز نے اہداف اور چیلنجز سے آگاہ کیا۔
وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی مریم نواز کی ہدایت پر تمام ویسٹ مینجمنٹ کمپنیز کا مرحلہ وار جائزہ لیا جا رہا ہے۔ عوام کا ستھرا پنجاب پروگرام پر بھرپور اعتماد ہمارے لئے ایک اعزاز ہے۔ صوبائی وزیر نے ننکانہ صاحب کے بعض علاقوں میں اہداف پورے نہ کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے تمام دیہی علاقوں تک ایک ہفتے کے اندر پہنچنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مشینری اور آلات میں کمی کا عذر اب قبول نہیں کرینگے۔ شہروں اور دیہات میں صفائی کی یکساں سہولیات مہیا کی جائیں۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ مانیٹرنگ میں کوئی سستی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ایل ڈبلیو ایم سی کے افسران باقاعدگی سے فیلڈ کے دورے کریں۔ غیر حاضر سٹاف کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ شکایات پر مقررہ وقت میں ایکشن لے کر تصویری ثبوت بھیجا جائے۔ وزیر بلدیات نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کہا کہ ‘ستھرا پنجاب’ کے باعث ایک نئی مقامی انڈسٹری فروغ پا رہی ہے۔ متعلقہ علاقے سے ہی عملے کی بھرتی کرنے پر روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ بلاشبہ وزیراعلی مریم نواز کا ویژن ایک تحریک کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ وزیر بلدیات نے سختی سے ہدایت کہ ستھرا پنجاب کا مطلب ہے کسی بھی جگہ کوڑا جمع نہ ہو۔ سڑکوں اور خالی پلاٹوں کو بالکل نظرانداز نہیں کرنا۔ اس موقع پر سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں نے ہدایت کی کہ یومیہ بنیادوں پر متعلقہ پورٹل پر ڈیٹا اپ لوڈ کیا جائے۔ ویسٹ مینجمنٹ کمپنیز دیے گئے اہداف کا حصول یقینی بنائیں۔





